دینا واڈیا ۔۔۔قائداعظم کی نشانی

دینا واڈیا ۔۔۔قائداعظم کی نشانی
 دینا واڈیا ۔۔۔قائداعظم کی نشانی

  

دینا جو 15اگست 1919ء کو لندن میں پیدا ہوئی تھیں۔ 98سال کی عمر میں 2نومبر 2017ء کو نیو یارک میں انتقال کر گئیں۔ دینا قائداعظم محمد علی جناحؒ کی اکلوتی اولاد تھیں جو ان کی اہلیہ محترمہ رتن بائی پیٹٹ کے بطن سے پیدا ہوئیں دینا کی زندگی کا بیشتر حصہ بمبئی میں گزرا۔

ان کے بیٹے نسلی واڈیا خاصے معروف صنعت کار ہیں۔ قومیں اپنے محسنوں کو بھلایا نہیں کرتیں، محسنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک ڈھنگ یہ بھی ہے کہ ان کی نشانیوں کو شایانِ شان طریقے سے یاد کیا جائے۔

قائداعظمؒ جب اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان جانے لگے تو ان کی والدہ مٹھی بائی نے بڑے ارمانوں سے ان کی شادی اپنی برادری کی ایک لڑکی ایمی بائی سے کر دی تھی، لیکن بابائے قوم جب تعلیم مکمل کر کے واپس آئے تو ان کی والدہ اور دلہن دونوں کا انتقال ہو چکا تھا۔

قائداعظمؒ بمبئی آگئے جہاں انہوں نے قانون کا پیشہ اختیار کیا اور پھر دادا بھائی نورو جی اور گوکھلے جیسے جہاں دیدہ سیاستدانوں کی رہنمائی میں سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ قانون اور سیاست دونوں میں قائداعظمؒ نے اتنی ترقی کی کہ بر صغیر میں ان کا ثانی نہ رہا۔

میثاقِ لکھنو میں جو کانگرس اور مسلم لیگ کے مشترکہ اجلاس کے بعد ہوا ، انہیں ’’ایمبیسیڈر آف یونٹی ‘‘ کہا گیا۔ سروجنی نائیڈو نے ان کے لئے نظمیں لکھیں ۔

قائد اعظم کی پہلی بیوی کے انتقال کو پچیس سال کا عرصہ بیت چکا تھاان کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ نہایت دلکش، کامیاب اور خوش لباس انسان ،لباس کی طرح کردار میں بھی کوئی سلوٹ یا جھول نہیں۔

ان کی طلسماتی مقناطیسی شخصیت کی وجہ سے کسی میں یہ جرات بھی نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کوئی سوال کر سکے ، اور نہ ہی انہیں فرصت تھی۔ ہم پاکستانی وہ خوش قسمت قوم ہیں کہ ہمارے پہلے سربراہِ مملکت اور پہلے وزیرِ اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کے بارے میں کوئی معمولی سا سکینڈل بھی ، تلاش کرنے والوں کو نہ مل سکا۔

سر ڈنشاپیٹٹ اور لیڈی پیٹٹ معزز اور دولت مند پارسی اورپارسیوں کے کلب کے ممبر تھے جہاں قائد اعظم بطور مہمان بلائے جاتے۔ ان کی سترہ سالہ صاحبزادی رتن بائی بہت خوبصورت اور بلا کی ذہین تھیں۔ قائداعظم اور رتن بائی کی اکثر کلب میں بحثیں ہوتیں۔

رتن بائی بڑی سرگرمی سے سماجی کاموں میں مصروف رہتیں۔ گھڑ سواری دونوں کی قدرِ مشترک تھی۔وہ دونوں بمبئی کے ساحل اور صحت افزاء مقامات پر گھوڑے دوڑاتے ہوئے دور دور نکل جاتے ۔ آخر کار دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا ۔

رتن بائی کی بات سن کر پارسی والدین ہکّا بکّا رہ گئے ۔ مذہب اور برادری سے باہر شادی ان کے لیے ناقابلِ قبول تھی پھر 17سالہ لڑکی کی 41سالہ قائد اعظم سے شادی؟سر ڈنشا پیٹٹ نے شر ط عائد کی کہ جب تک رتن بائی اٹھارہ سال کی نہیں ہو جاتیں وہ کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

ان دونوں کے جذبے صادق تھے آخر کار رتن بائی نے اسلام قبول کر لیا ان کا اسلامی نام مریم بائی رکھا گیا۔19اپریل 1918ء کو دونوں کی شادی اسلامی طریقے سے سرانجام پائی ۔رتن بائی نے قائد اعظم کے بنگلے واقع ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ کو بڑی خوش ذوقی اور سلیقے سے آراستہ کیا ۔

قائداعظم کے دیرینہ ملازمین کو ایک خوبصورت اور ذہین سپروائزر مل گئیں۔ رتن بائی قائد اعظم کی طرح بڑے مضبوط کردار، عزم اور ارادے کی مالک تھیں۔ ایک بار وائسرائے ہند بمبئی آیا۔ گورنر ہاؤس میں قائد اعظم اور رتن بائی بھی مدعو تھیں۔

مرد و زن سب نے جھک کر وائسرائے کی تعظیم کی لیکن قائداعظم نے باوقار طریقے سے وائسرائے چیمسفورڈ سے مصافحہ کیا اور رتن بائی نے اسلامی طریقے سے اسے سلام کیا۔ وائسرائے کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا کچھ دیر بعد کھانے کی میز پر وائسرائے نے کہا

’’مسز جناح روم میں ایسے ہی کریں جیسے روم والے کرتے ہیں‘‘

’’یور ایکسی لینسی آپ ہندوستان میں ہیں ، میں نے آپ کو ایسے ہی سلام کیا، جیسے ہندوستان والے کرتے ہیں‘‘رتن بائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

وائسرائے لارڈ ریڈنگ قائداعظم کو بہت پسند کرتا تھا، جب اس نے قائداعظم کو سر کا خطاب پیش کرنے کی بات کی تو آپ نے انکار کر دیا ۔

یہی بات جب اس نے رتن بائی سے کی کہ لوگ آپ کو لیڈی جناح کہیں تو آپ کو کیسا لگے گا تو رتن بائی نے فوراً کہا ’’اگر مسٹر جناح سر کا خطاب قبول کر لیتے تو میں ان سے الگ ہو جاتی‘‘

دونوں ایسے مضبوط کردار اور شخصیت کے مالک تھے کہ ان دونوں میں کوئی لچک نہیں تھی۔ 15اگست 1919ء کو دینا پیدا ہوئیں۔ قائداعظم ایک بہت ہی شفیق باپ تھے ۔ بچی کا ابتدائی بچپن اپنے ماں باپ اور نانا نانی کے گھر بہت لاڈ پیار میں گزرا۔

جب دینا بارہ سال کی ہوئیں تو قائداعظم نے انہیں انگلستان کے بورڈنگ ہاؤس میں داخل کروا دیا۔ رتن بائی ایک لاڈ پیار میں پرورش پانے والی بے تحاشہ دولت مند باپ کی بیٹی تھیں۔

قائداعظمؒ کو فرصت نہیں تھی ،انہیں بہت سے اہم کام کرنا تھے۔ ان دونوں میں علیحدگی ہو گئی پھر رتن بائی بیمار ہو گئیں۔ راجہ غضنفر علی لکھتے ہیں وہ جرمنی کے ایک ہسپتال میں انہیں دیکھنے گئے۔

واپسی پر قائداعظم نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور کہا ’’Raja Sahib We will not let her die‘‘۔ راجہ صاحب لکھتے ہیں کہ فقط دو مرتبہ انہوں نے قائداعظمؒ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے دوسری بار جب انہیں 1947ئمیں مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے بارے میں بتایا گیا۔

قائداعظم کی زندگی کے آخری دن جب انہیں زیارت سے کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے کراچی بذریعہ ہوائی جہاز منتقل کیا جارہا تھا ، ان کا ٹرانزٹ طیارہ جب کراچی ائیر پورٹ پہنچا تو وہاں پر موجود اور لوگوں میں ان کی بیٹی دینا بھی شامل تھیں۔ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری مطلوب الحسن لکھتے ہیں کہ قائدِ اعظم نے آنکھوں پر ہاتھ سے چھجّا سا بنا کر پوچھا

’’Who is She‘‘

میں نے کہا ’’Sir she is your daughter‘‘

اور قائدِ اعظم جیسے با اصول قانون دان اور عظیم انسان نے کہا ’’I do not have a daughter‘‘ کیونکہ وہ دینا کو اپنے پارسی عم زاد واڈیا سے شادی کرنے پر عاق کر چکے تھے۔

ہم پاکستانیوں کے لئے پھر بھی وہ قائداعظم، بابائے قوم محمد علی جناحؒ کی ایک نشانی تھیں جو ہم سے جدا ہو گئیں۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ کراچی، اسلام آباد یا لاہورمیں کچھ شاہراہیں ان کے نام سے معنون کرے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائداعظم کی یہ اکلوتی نشانی یاد رہ سکے۔

مزید :

کالم -