انہونیاں

انہونیاں

  



دنیا میں انہونیوں کا زمانہ کب کا گزر چکا، لیکن ہمارے ہاں انہونیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ایسی ایسی انہونیاں ہوتی ہیں کہ انسان سکتے کے عالم میں بت بنا دیکھتا رہ جاتا ہے۔وہ لوگ جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ملک کو تباہی کے آخری دہانے پر لے جا چکے ہیں اور اس نظام کو تہہ و بالا کرنے کے قریب ہیں، انہیں اگر مزید یہ کھلواڑ کرنے دیا گیا تو ملک سے بے وفائی ہوگی اور چشم زدن میں انہیں نکال کر سارا نظام درہم برہم کردیا جاتا ہے، لیکن جلد ہی نئے آنے والوں کے سنبھلنے سے پہلے ہی مایوسی کے ایسے ایسے درد ناک راگ الاپنے شروع کردئیے جاتے ہیں کہ دل پسیج جائے اور چند مہینے پہلے جنہیں راندۂ درگاہ بناکر کوچۂ اقتدارسے نکالا جاتاہے، وہی وفا کے پیکر بنا کر پیش کر دیئے جاتے ہیں۔

ماضی میں انسانی عقل کو خیرہ کردینے والی جادوگری کی کہانیاں اور الف لیلیٰ کے قصے تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے۔۔۔ اور تو اور اسی نوے کی دہائی کی بچوں میں مقبول عمران سیریز کو ہماری سیاست کی عمران سیریز نے وہ مات دی ہے کہ اب ہر کوئی سیاسی عمران سیریز کا دیوانہ ہو چکا۔۔۔ نپولین نے کہا تھا کہ میری ڈکشنری میں ’’ناممکن‘‘ کا لفظ نہیں،نپولین کی اس بڑھک سے اختلاف کی بہت گنجائش موجود ہے، لیکن ہمار ی سیاسی لغت میں سچ مچ ’’ناممکن‘‘ کا لفظ موجود نہیں۔یہاں وہ ہر وہ انہونی ممکن ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔کل تک کے چور ڈاکو ،لوٹے لٹیرے اچانک آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں اور جو چپڑاسی رکھنے کے قابل نہیں ہوتے وہ سر پر سوار نظر آنے لگتے ہیں،جن کے پیٹ پھاڑ کا قوم کی ایک ایک پائی نکالنے کا عہد کیا جاتا ہے، ان کی پیٹ پوجا کے لئے بذات خود ڈشز پیش کی جاتی ہیں۔

ہندوستانی کلچر میں قوالی کی بڑی خاص اہمیت ہے،ہمارے ہاں ایسے ایسے نامور قوال پیدا ہوئے ہیں،جن کا کوئی ثانی نہیں، لیکن ٹھہرئیے پچھلے چند سالوں میں سیاسی قوالوں نے بھی ہمارے ہاں بڑا نام پیدا کیا ہے۔اب تو ان کی ایک نئی نسل تیار ہوچکی اور فن آگے منتقل ہورہا ہے۔ ویسے ہماری سیاست نے کمال کے ہیرے پیدا کئے ہیں ۔آپ مرکز اور پنجاب کی حکومتوں کے ترجمان ہی دیکھ لیں یا پھر ایک چالیس سالہ تجربہ کار پارٹی کے سینئر راہنما کا عظیم بیان، جنہوں نے اپنے کارکنوں کو نوید سنائی کہ ہمارے لیڈر اسٹیبلشمنٹ سے کامیاب بارگیننگ کر چکے، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، جلد ہی برے دن پھرنے والے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ضمنی انتخابات میں بیورو کریسی اور وارڈز کی سطح پر چھوٹے چھوٹے چودھریوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم کہیں نہیں گئے،ادھرہی موجود ہیں اور بہت جلد دوبارہ آ رہے ہیں ۔ نوٹس اور باز پرس سب معمول کی کارروائیاں ہیں۔مایوسی و ناامیدی کی اس گھڑی میں شکر ہے ہمارے ہاں سیاست میں چند ایسے زندہ دل کردار موجود ہیں،جو اپنی بھر پور صلاحیتوں سے قوم کو انٹرٹین کرتے رہتے ہیں، نہیں تو قوم اپنے خواب لٹنے کے غم میں ہر وقت ماتم کناں رہتی ہے۔ڈاکٹر بھی کہتے ہیں اگر آپ کوئی ٹریجڈی فلم دیکھ رہے ہوں تو اسے ایک ہی نشست میں مکمل نہ کریں ،درمیان میں ایک یا دو بار وقفہ ضرور لیں اور اس کے دوران کوئی مزاحیہ خاکہ دیکھ لیں، کیونکہ ذہنی و اعصابی دباؤ کا شکار ہو کر ہارٹ اٹیک یا برین ہیمبرج ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ہمیں ان مخولیا سیاسی کرداروں پر تنقید کرنے کی بجائے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں اگر یہ لازوال سیاسی کردار موجود ہوتے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ منور ظریف ،لہری اور رنگیلے کو اس قدر مقبولیت حاصل نہ ہوتی ۔

قوم کو اب سمجھنا ہوگا ۔اکہتر سال کسی بھی قوم کے لئے اپنی سمت متعین کرنے کے لئے کم نہیں ہوتے۔نعروں سے مرعوب ہونے کی بجائے حکمرانوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ اب سنجیدگی سے عملی جد وجہد کی طرف بڑھیں۔ہماری اکہتر سالہ تاریخ میں قدرتی آفات، زلزلوں،آندھیوں اور سیلابوں نے اتنی تباہی نہیں مچائی جتنی ہم نے جذبات کے طوفان میں بہہ کر خود اپنی تباہی کی ہے۔روٹی، کپڑا اور مکان،اسلامی دنیا کی حکمرانی،پاکستان کو پیرس میں بدلنے اور نیا پاکستان جیسے جذباتی نعروں کی رومیں بہہ کر ہم نے بغیر سوچے سمجھے انہی لوگوں کو بار بار چن کر وقت ضائع کیا ہے۔ہر دور کا منظر دیکھ لیں ۔

وہی لوگ ،وہی کردار اور وہی کام، کیسا احمقانہ کھیل ہے یا پھر آنکھ کا دھوکہ کہ ہر بار سانپ کو رسی سمجھ کر پکڑتے ہیں اور ڈسوا کر زخم چاٹتے رہتے ہیں۔قوم کو ذہنی بلوغت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور حکمرانوں کی من مانیوں کو روکنا ہو گا ۔جذبات کے طوفان کو روک کر عقل کے تابع کرنا ہو گا۔جب تک یہاں امن قائم نہیں ہوتا بیرونی سرمایا کاری کا خواب دیکھنا خو د کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بھارت سے مذاکرات بھارت کی ضرورت نہیں، ہماری ضرورت ہے۔ دنیا کی تمام بڑی کمپنیاں بھارت میں کاروبار کر رہی ہیں جبکہ ہماری طرف کوئی آنے کو تیار نہیں۔

بھارت کے مذاکرات سے انکار پر اس کی ہٹ دھرمی کے باوجود ہمیں بھارت کے دوست ممالک روس، ایران اور امریکہ کے ذریعے اسے مذاکرات کی میز پر لا کر اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح پُرامن طریقے سے رہیں۔ہمیں اعتماد بحال کرنے کے لئے اپنی خارجہ پالیسی کا بھرپور استعمال کرنا ہو گا اور جنگی جنون کی بجائے فضا کو امن کی طرف موڑنا ہمارے لئے مفید ہے۔ دونوں ممالک میں اچھے تعلقات کی خواہش رکھنے والے سنجیدہ لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ انہونیاں بہت ہو چکیں۔ پٹھان کوٹ اور ممبئی جیسے واقعات سے بچنے کے لئے ہمیں دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کا رابطہ بحال کرنا چاہئے، جس سے معلوما ت کی بروقت فراہمی سے ایسے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم