عصر حاضر میں مجدد شناسی کیضرورت و اہمیت (آخری قسط)

عصر حاضر میں مجدد شناسی کیضرورت و اہمیت (آخری قسط)

متصوفین عصرحاضر آئینہ فکر مجدد میں

شیخ مجدد الف ثانی کے دور اور عصر حاضر کی دوسری بڑی قدر مشترک آپ کے دور کے صوفیائے خام اور آج کے صوفیائے عام ہیں۔ استثنیٰ تو بہر حال ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہتا ہے لیکن بات اس عموم کی ہوتی ہے جو ہر طرف پھیلا ہو اہو۔ہمارے ہاں تصوف کے نام پر بہت سارے طبقے موجود ہیں جن میں اول طبقہ حقیقی صوفیا کا ہے جو صحیح منہج پر دینی و روحانی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ یہ طبقہ قابل تکریم و تعظیم ہے۔طبقہ ثانی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو عظیم المرتبت خانقاہوں کے متولی تو ہیں مگر اسلاف کی میراث گنوا کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ان کا کام صرف تعویز و دم تک محدود اور عقیدت مندوں سے نذرانہ جات وصول کرنے میں لامحدود ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جو انتہائی اصلاح طلب ہے اور اس طبقہ کی اصلاح وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اس طبقہ کی صورت حال کو اس تمثیل سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مئے نوشوں کی تو لمبی لمبی قطاریں لگی ہوں جب کہ مئے خانہ اجڑا ہوا ہو اور ساقی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر صاحبِ فراش ہوچکا ہو۔

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

یہی وہ طبقہ ہے جو عقیدت مندوں کے انبوہ کثیر کے لیے زہر ہلاہل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جسے مجددی اندازفکر کے تریاق کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے کہ طبقہ مذکورہ کا درست روش اختیار کر لینا معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اور اب طبقہ ثالث کاذکر کرتے ہیں تو یہ وہ طبقہ ہے جو ان نام نہاد متصوفین پر مشتمل ہے جو خود بھی جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور عوام کا ایک مخصوص طبقہ ان کے زیراثرہے جو اعلانیہ شرعی احکامات اور اسلام کے نظام عبادات سے بیزاری کا اظہار کرتاہے حتیٰ کہ بعض اوقات بات کلمات کفر تک جا پہنچتی ہے۔یہ لوگ نہ تو صوفی ہیں اور نہ ہی ان کا تصوف سے کوئی تعلق ہے لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں ان کو صوفی تو کیا غوث، قطب کے القابات سے نوازا جاتا ہے لہٰذا ان کا ذکر کرنا ضروری سمجھاگیا۔اس طبقہ کی صورت یہ ہے کہ مبہم، ذو معنی اور لایعنی قسم کی گفتگو سے دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دوسروں کو بے عملی کی تعلیم دیتے ہیں۔علوم و فنون سے کوئی واسطہ نہیں مگر رہبر شریعت کہلاتے ہیں، تارک فرض و سنت ہیں مگر پیر طریقت کہلاتے ہیں، موٓکلات اور جنات کی تسخیر کا دعویٰ رکھتے ہیں۔جْہلا ان کی شیطانی گفتگو کوروحانی القا سمجھتے ہیں اور ان کی شعبدہ بازیوں کو کرامات کا درجہ دیتے ہیں(نعوذباللہ من ذالک) یہ طبقہ معاشرے میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ مجددی تعلیمات کی فکری تلوار سے اس ناسور کو جڑ سے کاٹ پھینکا جائے تاکہ معاشرے کو اس سے فکری امان حاصل ہو سکے۔

مغرب زدہ طبقہ اور تعلیمات امام ربانی حضرت شیخ مجدد الف ثانی کے دور اور عصر حاضر کی ایک اور قدر مشترک یہ ہے کہاس دور میں اسلامی معاشرے پر اکبر اور اس کے درباری علماء سو کی طرف سے الحادی فکر کی یلغار کی گئی جس کے نتیجے میں خدا اور رام، مسجد اور مندرکو یکساں حیثیت دی جانے لگی گویا کہ لوگوں کے ذہنوں سے حق اور باطل میں فرق کا تصور کمزور ہونے لگا جس سے اسلام کے روشن تصورکے داغدار ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا تو حضرت مجدد الف ثانی نے اپنی تمام تر تبلیغی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علماء مصلحین اور اپنے متعلقین کو یہ بات باور کرائی کہ حق اور باطل دو الگ اور مختلف چیزوں کے نام ہیں جو کہ کبھی بھی آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے اور حق باطل کیساتھ مل کر کبھی حق نہیں رہ سکتا اور آپ نے اس مسئلہ پر بڑی شرح و بسط کے ساتھ گفتگو فرمائی اور اس مسئلہ میں آپ کا فلسفہ یہ ہے کہ جس قدرحق اور باطل کا ادراک زیادہ ہوگا اسی قدر نیکی اور بدی میں تمیز زیادہ ہوگی اسی طرح اگر حق وباطل میں امتیاز کا ادراک نہ ہو یاکم ہوتو پھرحلال وحرام اور خیروشر کا امتیاز بھی قائم نہیں رہتا۔عصر حاضر میں ہمارے مغرب زدہ طبقے کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ فلسفہ مغرب کے زیراثر اسلامی شعائر پر تنقید کرنے سے بھی نہیں رکتے حالانکہ انہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جس غیر اسلامی تہذیب کے وہ دلدادہ ہیں اس کے اندر تو ادارک کی یہ قوت بھی نہیں کہ وہ بکری جیسے ایک صاف ستھرے جانوراور کتے اورسورجیسے غلیظ اور گندے جانور میں فرق ملحوظ رکھ سکیں و ہ تو ان سب کو برابر سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔

یہ محض اس لیے ہے کہ ان کے اندر حق کی روشنی نہیں ہے بلکہ باطل کی تاریکی ہے جس کی وجہ سے وہ یہ فرق ملحوظ نہیں رکھ سکتے تو وہ اقوام جو حق کے نور سے بہرہ مند نہیں۔ہم اسلامی تہذیب کے حاملین کے لیے نمونہ یا آئیڈیل کیسے ہوسکتی ہیں۔ہمارے لیے تو نمونہ اور آئیڈیل صرف اور صرف حضور رسالت مآبؐ کی ذات پاک ہی ہے یہی وہ تصور ہے جسے اکبری دور میں دھندلا کرنے کی سازش کی گئی اور اسی تصور کو امت میں پوری طرح اجاگر کرنے کے لیے حضرت مجدد الف ثانی نے رسالہ’’اثبات النبوۃ‘‘ تحریر کیا اور پوری امت بالخصوص برعظیم میں رہنے والے الحادی فکر سے متاثر مسلمانوں کا رخ اپنے مرکز کی طرف موڑ دیا۔آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل علم و دانش اور صاحبان قلم و قرطاس حضرت مجدد کی دی ہوئی اس فکر کو آگے بڑھائیں تاکہ اپنے مغرب زدہ طبقہ کی سوچ میں تبدیلی پیدا کر کے اپنی اصل کی طرف لایا جا سکے۔جس طرح حضرت مجدد الف ثانی نے حضورؐ کی ذات اور سنت سے عشق و محبت کا درس دے کر امت کی ناؤ ڈوبنے سے بچائی آج بھی مصلحین امت کی یہ ذمہ داری ہے کہ امت کی ہچکولے کھاتی ہوئی اس کشتی کو ڈوبنے سے بچائیں اور یہ بات علی وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ اگرحضرت مجدد الف ثانی کے افکار کی روشنی میں آپ کے طرز عمل کے نقوش پر قدم آگے بڑھائے جائیں تو مذکورہ امور میں کامیابی سہل اور ممکن ہے۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم