اسمبلیوں میں انتشار کیوں؟

اسمبلیوں میں انتشار کیوں؟
اسمبلیوں میں انتشار کیوں؟

  

جب سے نیا جمہوری سیٹ اَپ آیا ہے،قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔کیا طے کر لیا گیا ہے کہ اِن اسمبلیوں کو چلنے نہیں دینا یا اِس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے مستحکم ہونے کا تاثر قائم نہ ہو سکے۔یہ منظر سب نے دیکھا کہ ایک رکن اسمبلی دوسرے کو مارنے کے لئے بھاگتے ہوئے اُس کی طرف لپکے،جنہیں بڑی مشکل سے دوسرے ارکانِ اسمبلی نے روکا۔ یہ منظر گلی محلے کی لڑائی میں تو اکثر دیکھنے کو مل جاتا ہے،جہاں کوئی غصے کے عالم میں مخالف کی طرف بڑھتا ہے اور لوگ پکڑ کر بیچ بچاؤ کرا رہے ہوتے ہیں، لیکن قومی اسمبلی جیسے مقدس و مقتدر ایوان میں اس قسم کی صورتِ حال حد درجہ تشویش کو جنم دیتی ہے۔

اس قومی اسمبلی کو نجانے کس کی نظر لگی ہوئی ہے۔ کوئی دن ہی جاتا ہو گا جب ہنگامہ یا بائیکاٹ نہ ہوتا ہو۔خورشید شاہ نے اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اطلاعات فواد چودھری پر ڈال دی ہے۔بقول اُن کے ایک شخص روزانہ اپنی غیر ضروری باتوں سے اسمبلی کو چلنے نہیں دے رہا۔ اول تو فواد چودھری کو اپنی عادت سے باز آ جانا چاہئے، لیکن اگر وہ باز نہیںآتے تو اپوزیشن کو بھی انہیں اپنا دُکھ نہیں بنانا چاہئے۔ وہ جتنا انہیں نظر انداز کرے گی،اتنا ہی وہ کم بولنے لگیں گے،لیکن اگر اُن کی باتوں کو سیریس لیا جاتا رہا تو وہ اور زیادہ اس قسم کی باتیں کریں گے،چونکہ انہیں اِسی بات کی تو تنخواہ ملتی ہے۔

جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں،اپوزیشن کی جماعتوں نے تحریک انصاف کی حکومت کا مینڈیٹ ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ابھی تک وہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ کسی وقت بھی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور اس سیٹ اَپ سے جان چھوٹ جائے گی۔ کوئی دن نہیں جاتا ہے کہ کسی سابق وزیر نے حکومت کے مدت پوری نہ کرنے کو اپنی تقریر کا موضوع نہ بنایا ہو۔کل ہی سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے،جس طریقے سے حکومت چل رہی ہے،یہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ بات انہوں نے کس بنیاد پر کی ہے اور حکومت کس قسم کی چل رہی ہے۔اس کی تو انہوں نے وضاحت نہیں کی، اب دیکھا جائے تو حکومت میں استحکام آ رہا ہے، شروع میں معاشی مسائل کی جو افتاد پڑی تھی، حکومت اُس پر کافی حد تک قابو پا چکی ہے،

جیسا کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے پریس کانفرنس میں اعلان بھی کر دیا ہے۔ مُلک میں عدل و انصاف کے لئے وزیراعظم بھرپور کوشش کر رہے ہیں، ریاست کی رٹ قائم کرنے، دھرنے کے متشدد افراد کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے، اپوزیشن یہ سب کچھ بغور دیکھ رہی ہے اور مَیں سمجھتا ہوں اپوزیشن اس فکر میں مبتلا ہے کہ حکومت کو اگر مزید وقت مل گیا اور اس نے مسائل پر قابو پا لیا تو اُس کی گرفت مضبوط ہو جائے گی۔دوسری طرف ملک میں احتساب کا جو عمل جاری ہے، وہ اگر اسی طرح جاری رہا اور نیب کے پَر نہ کاٹے گئے تو بہت سے لوگوں کا بچنا مشکل ہو جائے گا۔اپوزیشن کی طرف سے نیب قوانین میں ترمیم کے لئے جو ڈرافٹ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دیا گیا ہے، اُس کا مقصد بھی یہی ہے کہ حکومت کو اسمبلی میں ٹف ٹائم دے کر نیب قوانین میں ترامیم کرا لی جائیں۔ کیا اِس موقع پر ان قوانین میں تبدیلی تحریک انصاف کی حکومت کو قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ کیا نیب کے اختیارات کم کر کے حکومت اس تنقید کا نشانہ نہیں بنے گی کہ احتساب کے نعرے پر ووٹ لینے والے احتساب کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔نیب کے اگر دانت نکالی دیئے گئے تو وہ ایک بے ضرر محکمہ بن کر رہ جائے گا، اگر اُس کی آزادی وخود مختاری سلب کر لی جاتی ہے تو وہ محکمہ اینٹی کرپشن جیسا ادارہ بن کر رہ جائے گا،جو کسی بااختیار اور بااثر کرپٹ آدمی پر ہاتھ ڈالتے ہوئے گھبراتا ہے۔

اسمبلیوں کو اکھاڑہ بنا کر بالا بالا ایسی ترامیم کے لئے کوشش کرنا، عجیب سا لگتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو اپوزیشن نیب کے بارے میں تحریک التوا پیش کرے اور پھر اُس پر ایک بھرپور بحث ہو۔ اپوزیشن جو ترامیم لانا چاہتی ہے، اُسے ایوان کے سامنے رکھے اور دلائل سے ثابت کرے کہ ان ترامیم کی کیوں ضرورت ہے؟اس بحث کی روشنی میں سپیکر اس موضوع پر ایک کمیٹی بنا کر اس کی رائے لے۔ متفقہ اور قابلِ عمل ہونے کی صورت میں ترمیم کا مسودہ پیش کیا جائے، مگر اس طرف توجہ دینے کی بجائے اپوزیشن ایوان کو چلنے نہیں دے رہی اور دوسری طرف وزیر قانون کو ترمیم کا مشورہ پیش کر رہی ہے۔اگر یہ واقعی سنجیدہ مسئلہ ہے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں تو سنجیدہ قدم اٹھانا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن نیب کے مسئلے پر کھل کر بحث کرنے کو بھی تیار نہیں،کیونکہ صرف اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہی نہیں اور بھی بہت سے لوگ نیب کے ریڈار پر ہیں۔

وہ اگر نیب کے پَر کاٹنے یا اُس کے اختیارات کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا منطقی تاثر یہی بنے گا کہ وہ خود کو بچانے کے لئے نیب کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ اگر نیب کے اختیارات میں کمی کی کوئی ترمیم منظور ہو تو اسے سپریم کورٹ از خود نوٹس لے کر ختم کر دے۔کیا فواد چودھری کی بات درست ہے کہ آج اگر احتساب کا ایجنڈا ختم کر دیا جائے، نیب کے اختیارات چھین لئے جائیں، تو اسمبلیوں میں امن قائم ہو جائے گا، نہ کوئی بائیکاٹ کرے گا اور نہ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید ہو گی۔بادی النظر میں تو ایسا ہی لگتا ہے،سارا مسئلہ احتساب کا ہے۔اُدھر وزیراعظم عمران خان یہ بیان دیتے ہیں کہ کوئی این آر او نہیں ہو گا، وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے،سب کو جیلوں میں بھیجیں گے،اِدھر اپوزیشن اسمبلیوں میں ہنگامے شروع کر دیتی ہے۔ بائیکاٹ اور اسمبلی میں مار دھاڑ کے مناظر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں، قومی اور پنجاب اسمبلی میں تو اس کی بار بار رونمائی ہو چکی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مضبوط اپوزیشن کیا اِسی لئے ہوتی ہے کہ اسمبلیوں کو چلنے نہ دے یا اس کا کام ایک ذمہ دار اپوزیشن کا ہوتا ہے،جو حکومت کو عوامی فلاح کے کاموں پر مجبور کرتی رہے۔اپوزیشن ذاتی و انفرادی ایجنڈے سے کب باہر نکلے گی۔وہ سارے کام اگر اس یک نکاتی ایجنڈے کی خاطر روک دے کہ جب تک احتساب کا عمل نہیں روکا جاتا، اسمبلی کو نہیں چلنے دے گی، تو پھر کہاں کی جمہوریت اور کیسی اسمبلیاں، نیب کے غیر قانونی فیصلے روکنے کے لئے عدالتیں موجود ہیں، کئی بار ریلیف بھی دیا ہے۔انہی عدالتوں نے،وہ کام عدالتوں پر چھوڑنا چاہئے،اسمبلیاں تو عوام کی نمائندگی کا فورم ہیں۔ اگر وہاں ان کے لئے آواز نہیں اٹھائی جاتی اور الزام تراشی کر کے کروڑوں روپے کے اخراجات ضائع کئے جاتے ہیں تو یہ عوام دشمنی ہے۔اسمبلیوں میں ہونے والی اس دھینگا مشتی کا ایک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے غیر شائستگی کے اثرات عوام تک پہنچتے ہیں، اپنے نمائندوں کو لوگ جب لفظی گولہ باری کرتے دیکھتے ہیں اور معاملات دست و گریبان ہونے تک بگڑ جاتے ہیں تو انہیں افسوس ہوتا ہو گا کہ انہوں نے کن لوگوں کو اپنا ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے۔

اب یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا کہ وزیراعظم عمران خان منتخب نہیں،بلکہ انہیں سلیکٹ کر کے بھیجا گیا ہے۔ ان باتوں سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔اتنے بڑے انتخابی عمل سے گذر کر جو اسمبلیاں وجود میں آئی ہیں،انہیں جعلی اسمبلیاں کیسے کہا جا سکتا ہے،پھر انہی اسمبلیوں میں اپوزیشن ایک بڑی اکثریت کے ساتھ موجود ہے۔سندھ میں تو پیپلزپارٹی کی حکومت بھی انہی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ یہ تاثر اب گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جس طرح ایک دوسرے کو برداشت کیا اور اسمبلیوں کو مدت پوری کرنے دی، اُسی طرح کی رعایت وہ تحریک انصاف کو دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ یا تو یہ چاہتی ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ایجنڈے پر چلے یا پھر اسے ختم کر دیا جائے،جبکہ دوسری طرف عمران خان کے رویے سے صاف ظاہر ہے کہ وہ صرف حکومت میں رہنے کے لئے کسی بلیک میلنگ کا شکار ہونے کو تیار نہیں۔ سو اس وقت ایک واضح ڈیڈ لاک موجود ہے۔ حکومت یا اپوزیشن میں سے کوئی بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ قومی اسمبلی میں ایک ساتھ بیٹھنے ہونے کے باوجود حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے بنچوں میں فاصلہ ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔یہ صورتِ حال کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں،مگر اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سے نکلنے کا دور دور تک کوئی راستہ بھی نظر نہیں آ رہا۔

مزید : رائے /کالم