اخلاقی تباہی کی روک تھام بھی ضروری ہے

اخلاقی تباہی کی روک تھام بھی ضروری ہے
اخلاقی تباہی کی روک تھام بھی ضروری ہے

  

ٹرانسپیریسی انٹرنیشل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کی شرح میں میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ہم لوگ مہنگائی ، بیروزگاری بدامنی اور بدترین معیشت کا رونا روتے رہتے ہیں ۔اعلیٰ ترین عدالت سے لیکر ملک کے تمام باشعور حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارے تمام مسائل کا بنیادی سبب کرپشن اور صرف کرپشن ہے تاہم ارباب اقتدار نے اصلاح احوال کی کوشش کرنے کے بجائے کرپشن کے تحفظ کو فرضِ160اولین جانا جسکا نتیجہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ملک اور عوام برباد ہورہے ہیں ۔اربابِ160اختیار اگر اپنے فرائض منصبی سے غافل ہوں اور صرف اپنے اقتدار سے دلچسپی ہوتو ایسی صورت میں ملک اقتصادی طور پر تو تباہ ہوتا ہی ہے اسکے ساتھ اخلاقی اعتبار سے بھی بہت زیادہ پستی میں چلاجاتا ہے اور یہ زیادہ خطرناک صورتحال ہے۔

ہمارا معاشرہ آج جس اخلاقی انحطاط کاشکار ہے ،معاشی مسائل میں اْلجھی قوم کو اسطرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ہے ۔نوجوان نسل کی تباہی و بربادی کے بے شمار وسائل پورے معاشرے کو پراگندہ کررہے ہیں۔ سینما گھروں میں دکھائی جانی والی فلموں ڈراموں اور مصنوعات کی فروخت کیلیے چلائے جانے والے اشتہاری پرومو میں بیباک مناظر کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معاشرت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے، ہماری نئی نسل بڑی آسانی سے انٹرنیٹ پر ان لاکھوں فحش سائٹس تک رسائی حاصل کرسکتی ہے جن پر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ملکوں نے پابندی لگا رکھی ہے۔ لیکن ہمارے اربابِ160اختیار ان پر چیک لگانا مشقِ160فضول سمجھتے ہیں۔ مختلف موبائل کمپنیاں ،نائٹ پیکیجز کی پرکشش پیشکشوں کے ساتھ نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرچکی ہیں اور مزید کیا جارہا ہے ۔ حکومت کا یہ خیال ہے کہ عوامی تجاویز کے مطابق ان پر پابندی لگانا گھاٹے کا سودا ہوگا، ملک کے بڑے شہروں میں فیشن شوز کے نام پر ماڈلز اب جسطرح کے ملبوسات میں ریمپ پر واک کرتی نظرآتی ہیں۔ ویسے لباس پہن کر کوئی بھی پاکستانی خاتون کسی محفل میں جانے کا تصور تک نہیں کرسکتی ۔لیکن ان فیشن شوز کا یہ اثر ضرور دیکھا جارہا ہے کہ ہماری عفت مآب خواتین میں دوپٹے سے بے نیازی اور بے حجابی بڑھتی جارہی ہے ۔

اْم الخبائث شراب جس رفتار سے عام ہو رہی ہیں ، ماضی میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان شراب خانوں سے نوجوان نسل زیادہ مستفید ہوتی ہے۔ رہی سہی کسر قحبہ گری نے پوری کردی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق صرف وفاقی دارالحکومت میں ایک سال کے دوران کئی قحبہ خانے کھل چکے ہیں ۔جگہ جگہ سنوکر کلبز کا چوبیس گھنٹے کھلے رہنا سکول کے طلبہ کو سکولوں سے غیرحاضری کی بڑی وجہ بن رہاہے جسکی طرف متعلقہ علاقہ کے انتظامیہ کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ان معاشرتی خرابیوں کے ہولناک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ ان برائیوں کو روکنے کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ والدین ،اساتذہ علمائے کرام اور معاشرے کے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ۔ہم آج جن مصائب و آلام کا شکار ہیں اسکی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یقیناً اس ضمن میں ہم سے کوتاہی سرزد ہورہی ہے،جسے سدھار کرہی ہم اپنی نسل کو بچا سکتے ہیں ۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ