نیب کی میٹنگز کے دوران چائے بسکٹ پر بھی پابندی لیکن چیئرمین نیب کو ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی کے عوض کتنی رقم ملی اور ان پیسوں کا انہوں نے کیا کیا تھا؟ جواب ایسا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے

نیب کی میٹنگز کے دوران چائے بسکٹ پر بھی پابندی لیکن چیئرمین نیب کو ایبٹ آباد ...
نیب کی میٹنگز کے دوران چائے بسکٹ پر بھی پابندی لیکن چیئرمین نیب کو ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی کے عوض کتنی رقم ملی اور ان پیسوں کا انہوں نے کیا کیا تھا؟ جواب ایسا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) کالم نویس منصور آفاق کے مطابق چیئرمین نیب نے ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کے طور پر مراعات کی مد میں 61 لاکھ روپے وصول کیے تھے جو انہوں نے واپس قومی خزانے میں جمع کرادیے تھے۔ نیب میں سیاسی جماعتوں کے 71 رہنماﺅں کے کیسز چل رہے ہیں اور امکان ہے کہ اگلے ہفتے کچھ رہنماﺅں کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

کالم نگار منصور آفاق نے روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے کالم ’ ایک دن نیب کے ساتھ‘ میں لکھا ’میں نیب کے کچھ زیادہ حق میں نہیں تھا مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ نیب اب تک 297ارب قومی خزانے میں جمع کرا چکا ہے اور اس ریکوری پر نیب کے اپنے اخراجات صرف دس ارب ہوئے ہیں تومجھے بڑا عجیب لگا۔میں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) دیکھا تھاجو سالانہ دس ارب خرچ کرتا ہے اورکماتا ڈیڑھ ارب بھی نہیں‘۔

نیب کے پاس زیر تفتیش مقدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے منصور آفاق نے کہا اس وقت نیب کے پاس مختلف سیاسی پارٹیوں کے 71رہنماﺅں کے کیس موجود ہیں۔پیپلز پارٹی کے 20 لوگ ہیں۔نون لیگ کے 12 افراد ہیں۔پی ٹی آئی کے 8 افراد ہیں۔ایم کیو ایم کے4 رہنما ہیں اور قاف لیگ کے 3 لیڈر شامل ہیں۔امکان ہے کہ اگلے ہفتے اِن پارٹیوں کے کچھ نہ کچھ رہنماگرفتار کرلئے جائیں گے۔حکومتی پارٹی کے کچھ نام بھی سر فہرست ہیں۔ کچھ صحافی اور اینکرز بھی نیب کی زد میں ہیں۔ ا±ن کے خلاف بھی کسی وقت کارروائی ہو سکتی ہے۔ ایسے صحافی بھی ہیں جن کے اثاثے دس ارب سے زیادہ ہیں۔

نیب میں کفایت شعاری کے حوالے سے منصور آفاق نے لکھا کہ جسٹس جاوید اقبال سرکاری پروٹوکول لیتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی مراعات۔انہوں نے آتے ہی ہر طرح کے سرکاری کھانوں، دفاتر میں چائے اور بسکٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی اور یہ ہدایت کی تھی کہ اگر کوئی افسر اپنے دفتر میں چائے بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع کرے گا تو وہ اپنی جیب سے بل ادا کرے گا، اب نیب میٹنگز کے دوران بھی چائے ، ریفریشمنٹ اورکھانا پیش نہیں کیا جاتا ۔افسران سے اضافی سرکاری گاڑیاں واپس لے لی تھیں۔ انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی کے عوض ملنے والے 61 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروا دیے تھے۔

خیال رہے کہ 2011 میں امریکہ نے ایبٹ آباد میں فوجی کارروائی کرکے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو مارا تھا جس کی تحقیقات کیلئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ جسٹس جاوید اقبال کا کمیشن اپنی تحقیقات مکمل کرچکا ہے لیکن تحقیقاتی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آسکی ہیں۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد