فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر550

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر550
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر550

  

وہ قدیم دور تھا مگر فلموں کے موضوعات کے اعتبار سے بہت ترقی یافتہ تھا۔ آج محض بے مقصد، بے معنی اور بے ہنگم فلمیں ہی بنائی جاتی ہیں یا پھر پرانی کہانیوں کو توڑ مروڑ کر ان کا حلیہ بگاڑ دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال فلم ’’دیوداس‘‘ ہے۔ فلم ساز ، مصنف اور ہدایت کار نے پرانی کلاسیکی فلم کی نقالی ہے مگر اصل موضوع کی روح قبض کرلی۔ جسم کو البتہ رزق برق ملبوسات، قیمتی زیورات اور عالی شان محلات کے لبادوں میں لپیٹ دیا۔ اگر دیکھاجا ئے تو نئی د یوداس پرانی دیواس کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ اسے ’’دیوداس‘‘ کی پیروڈی کہہ لیجئے۔

فلم ’’تان سین‘‘ کی نمائش کے بعد ادبی فلمی رسائل میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی کہ ’’تان سین‘‘ واقعی کوئی حقیقی کردار تھا یا محض خیالی پیکر اور تصور؟

دربار اکبری کے نورتنوں میں سے ایک آب و تاب رکھنے والے رتن کے بارے میں پچھلے دنوں بھارت میں کچھ تحقیق کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کلاسیکی موسیقی میں روح پھونکنے والی اس ہستی کی حقیقت ہے اس بارے میں نئی دریافت سنئے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر549پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پانچ سو سال قبل پندرھویں صدی کے آخری حصے میں بہار کے ایک گاؤں میں ایک برہمن مکرند پانڈے کے گھر ایک بچے نے جنم لیا۔ بچے کے رونے کی پہلی آواز ہی سریلی تھی۔ کہتے ہیں کہ مکرندپانڈے کافی عرصے سے اولاد سے محروم تھا۔ اس نے مشہور صوفی پیر محمد غوث کے آستانے پر جا کر درخواست کی کہ وہ اس کے لیے اولاد کی دعا کریں۔ اس زمانے میں (اور قیام پاکتان سے قبل اور بعد میں بھی) ہندو، مسلمان صوفیوں اور اولیائے کرام کے آستانوں اور مزاروں پر جا کر منتیں مانا کرتے تھے۔ یہ ایک عام رواج تھا۔ برہمن پانڈے نے بھی بالآخر ایک صوفی سے ہی دعا کی درخواست کی اور ان کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے مکرند پانڈے کو ایک لڑکے سے نوازا۔ برہمن کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ اس نے صوفی صاحب کے آستانے پر حاضری دے کر نذرانہ پیش کیا اور گاؤں میں کئی دن تک خوشیاں منائی گئیں۔ والدین نے اس بچے کا نام رام تانو رکھا۔ بعد میں یہی بچہ ’’تان سین‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ گویا تان سین نے ایک ہندو گھرانے میں جنم لیا تھا۔

بچپن ہی سے رام تانو پڑھائی میں بہت تیز اور ذہین تھا۔ اسے نوعمری بلکہ بچپن ہی سے مناظر فطرت سے دلچسپی تھی۔ وہ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ قریبی جنگلوں میں نکل جاتا تھا۔ اس کو پرندوں اور جانوروں کی آواز کی نقل کرنے کا شوق تھا اور وہ ایسی آوازیں نکالتا تھا کہ ان پر حقیقت کا گمان گزرتا تھا۔

ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل میں مختلف پرندوں کی آوازیں نکال رہا تھا کہ ہندو سادھوؤں کا ایک گروہ وہاں سے گزرا۔ یہ لوگ موسیقار اور سازندے تھے۔ سادھو۔۔۔گھنی جھاڑیوں کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اچانک رام تانو نے درختوں کے پیچھے سے شیر کے دہاڑنے کی خوف ناک آواز نکالی تو سب سہم کر رہ گئے مگر جب جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک پانچ سالہ بچہ باہر نکلا تو وہ اس کے فن سے بہت متاثر ہوئے۔ اس گروہ کا سرابرہ ہری داس تھا۔ وہ خود بھی ایک بڑا مذہبی گورو اور موسیقی کا استاد تھا۔ ہری داس بچے کے اس ہنر سے بہت متاثر ہوا۔ اس کی فرمائش پر رام تانو نے دوسرے پرندوں اور جانروں کی آوازیں بھی نکالیں جن پر اصل کا گمان گزرتا تھا۔ پنڈت ہری داس نے بچے سے اس کا نام اور پتا پوچھا اور پھر اس کے ساتھ اس کے باپ پنڈت مکرند پانڈے سے ملنے کے لیے گئے۔

ہری داس کو بچے کی آواز، ذہانت اور خداداد صلاحیتیں اتنی بھا گئی تھیں کہ اس نے اس کے باپ سے درخواست کی کہ بچے کو اس کی شاگردی میں دے دیں۔ ماں باپ نے صرف یہ شرط عائد کی کہ پنڈت ہری داس بھی اسی گاؤں میں قیام کریں گے اور بچے کو ان سے جدا نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کی منتوں اور مرادوں کا اکلوتا ثمر تھا۔ ہری داس نے یہ شرط قبول کر لیا ر رام تانو کو اپنا شاگرد بنا کر موسیقی کی تعلیم دینی شروع کر دی ۔ ہری داس نے بچے کو اپنی گائیکی کے انداز میں تربیت دی اور کلاسیکی موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا۔ ہری داس کو راگ گیتوں پر عبور حاصل تھا لیکن دھرید راگ میں اسے ایسی مہارت حاصل تھی کہ ایک دنیا اس کی معترف تھی۔ ہری داس کی شاگردی میں ذہین شاگرد نے نہ صرف موسیقی کی تربیت حاسل کی بلکہ روحانیت کا درس بھی لیتا رہا۔ ہری داس بذات خود ایک سادھو تھا اس لیے اس نے رام تانو کو ایک اچھا انسان بنانے پر بھی زور دیا۔ اس طرح رام تانو نہ صرف ایک اچھا گائیک اور موسیقار بنا بلکہ وہ ایک اچھاا ور مکمل انسان بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب رام ناتو کے باپ کا آخری وقت آیا تو اسنے بیٹے کو وصیت کی کہ وہ گوالیار کے مشہور و معروف بزرگ اور صوفی پیر محمد غوث کے پاس حاضری دے۔ پیر محمد غوث بھی فن موسیقی کے ماہر تھے۔ پیر محمد غوث کی صحبت سے فیض حاصل کرکے رام تانو ایک بہت اچھا انسان اور موسیقار بن گیا۔ وہ اس کو باقاعدہ ریاض کراتے تھے کیونکہ وہ اس کی آواز اور صلاحیتوں سے متاثر تھے اور ان کے خیال میں وہ ایک غیرمعمولی موسیقار اور گائیک تھا۔ اس نے ہری داس سے بھی موسیقی کی تربیت حاصل کی تھی خصوصاً دھرید گانے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ ان سے جدا ہو کرپیر محمد غوث کی توجہ حاصل کرنا سونے پہ سہاگا تھا۔ باپ کی وصیت کے مطابق اس نے پیر صاحب کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ پیر محمد غوث کے ساتھ رہ کر ہی اسے عربی اور فارسی موسیقی سے بھی واقفیت ہوئی۔ اس طرح وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے علاوہ عربی اور فارسی موسیقی کے رموز سے بھی آگاہ ہوگیا جو کہ ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔کہتے ہیں کہ پیر محمد غوث ہی نے اسے ’’تان سین‘‘ کا نام دیا تھا۔ خیال ہے کہ یہ تان سائیں کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

تان سین نے ان دونوں استادوں سے تربیت حاصل کرنے کے بعد بہار کے سلطان محمد عادل کے دربار تک رسائی حاصل کرلی۔ سلطان محمد عادل اس کی ہنر مندی سے متاثرہوا اور اسکو اپنے دربارمیں ایک ممتاز مقام دے دیا۔ یہاں رہ کر تان سین نے دربار سے وابستہ دوسرے موسیقاروں سے بھی بہت کچھ سیکھا اور حاسل کیا۔ سلطان محمد عادل کے دربار سے وابستگی نے اسے شہرت اور عزت بھی بخشی اور بڑے بڑے موسیقاروں کی صحبت میں رہ کر ان سے سیکھنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ اس زمانے میں تان سین نے گووند سوامی جیسے موسیقاروں سے بھی استفادہ کیا۔ گووند سوامی ولبھ فرقے کے سربراہ بھی تھے لیکن موسیقی کے فن میں بھی انہیں بلند مقام حاصل تھا۔ تان سین کے گانے کی شہرت مغلیہ سلطنت کے عظیم شہنشاہ اکبر کے کانوں تک پہنچ گئی جوبذات خود ان پڑھ ہونے کے باوجود عالم فاضل اورہنر مند افراد کی بے حد قدر کرتا تھا اور ان کی صحبت میں فیض بھی حاصل کرتا تھا۔جب تان سین دارالحکومت اکبر آباد پہنچا تو اس کی شہرت اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی۔ شہنشاہ نے اسے اپنے دربار میں شرف باریابی بخشا اور اس کے فن کا مظاہرہ بھی دیکھا اور سنا۔ یہ اندازہ ہے کہ تان سین سولہویں صدی کے آغاز میں اکبر کے دربار سے وابستہ ہو کراس کے پسندیدہ نورتنوں میں شامل ہوگیا تھا۔ اپنی وفات تک تان سین دربار اکبری سے وابستہ رہا اس کا انتقال ۱۵۸۶ء عیسوی میں ہوا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ