اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 76

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 76

  

شیخ المشائخ پر بھی حیرت طاری تھی۔ شیخ المشائخ نے منصور کاہاتھ چوما اور تشریف لے گئے۔

منصور حلاجؒ کے ٹخنوں سے گھٹنوں تک لوہے کی تیرہ بیڑیاں تھیں۔ اس کے باوجود وہ رات اور دن میں ایک ہزار رکعتیں نوافل پڑھتا تھا۔ رات کا پچھلا پہر تھا۔ منصور حلاج ؒ نماز سے فارغ ہو ا تو بولا۔ ’’ عبداللہ تو میرا خرقہ لے کر چلے جاؤ۔ اب ہم دونوں کا وقت آن پہنچا ہے۔ تمہارا زنداں سے باہر جانے کا اور میرا سوئے دار جانے کا۔ ‘‘ اس نے دیوار زنداں کی طرف دیکھا۔ دیوار ایک جگہ سے شق ہوگئی۔ میں اپنے دوست منصور کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر اس نے اپنی پر جلال آواز میں حکم دیا کہ میں خلق خدا کی بھلائی کی خاطر اس کا خرقہ لے کر زنداں سے نکل جاؤں۔ چنانچہ میں دیوار کے شگاف سے باہر نکل گیا۔ بغداد کے آسمان پر ستارے ٹمٹمارہے تھے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 75پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ 309ھ کی ایک صبح تھی۔ منصور حلاجؒ کو پابہ جولاں باپ خراسان میں دریائے دجلہ کنارے لایا گیا۔ پہلے اس کے ہاتھ پیر کاٹے گئے۔ پھر اسے سولی پر لٹکادیا گیا۔ جب منصور کی روح پرواز کر گئی تو اس کاگلا کاٹ دیا گیا۔ اور اس کے جسم کے ٹکڑوں کو تیل میں بھگو کر نذر آتش کر دیا گیا۔ پھر اس کے جسم کی راکھ کو ایک اونچے مینار پر سے دریائے دجلہ میں پھینک دیا گیا۔ جوں ہی منصور حلاج کی راکھ دجلہ میں گری۔ دریا میں ایک طوفان آگیا۔ اس کی موجیں مہیب انداز میں اوپر کو اٹھنے لگیں۔ قیامت کا شور برپا ہوگیا۔ دریا سمندر بن گیا اور اس کا طوفان بپھرتا ہوا باہر کو دوڑا ۔ مجھے منصور کی وصیت یاد آگئی۔ میں نے آگے بڑھ کر ا س کا خرقہ دریا میں پھینک دیا۔ خرقہ ڈالتے ہی طوفان تھم گیا ۔ موجوں کو سکون آگیا ۔ جو لہریں بپھر کر باہر کو دوڑی تھیں سمٹ کر واپس دریا میں آگئین لیکن مرکز کے عدم استحکام اور لسانی اور نسلی اختلافات کی جو لہریں ایوان شاہی سے نکل کر پوری سلطنت میں پھیل چکی تھیں وہ واپس نہ آسکیں۔ المتوکل کی سیاسی غلطیوں نے مرکز کی رہی سہی طاقت کو بھی ختم کر دیا اور حریف علاقے زیادہ طاقتور ہوتے گئے اور عباسیوں کا زوال شروع ہوگیا۔ اب لوگ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کی بجائے ان پر مناظرے کرنے اور تاویلات پیش کرنے میں مصروف تھے اور چنگیز خان کی زرد آندھی کے پیلے جھونکے بغداد کی فصیل شہر سے ٹکرانے لگے تھے۔

چنگیز خان کی پیدائش کے بعد اس کی ماں ہولون نے ایک نظم کہی جس کا ترجمہ یہ ہے۔

’’ جب وہ پیدا ہوا تو اس کے ہاتھ میں سیاہ خون کا لوتھڑا تھا

اور وہ میرے ہی بطن سے تولد ہوا

جیسے وحشی چیتا اپنے بعد پیدا ہونے والے پر جھپٹ پڑے

اس شیر کی طرح جو اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے

اس نے اپنے بھائی کو ہلاک کر ڈالا

اس عقاب کی طرح جو اپنے ہی سائے پر جھپٹ پڑے۔‘‘

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار