انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 12

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 12
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 12

  

2006ء میں ڈاہریا کی وجہ سے 4 لاکھ 50 ہزار افراد کی موت واقع ہوئی جن میں 88% بچے پانچ سال سے کم عمر کے شامل تھے۔ رپورٹ میں مزید یہ بھی درج ہے کہ سینی ٹیشن کے غیر معیاری نظام کے نتیجے میں پھوٹنے والی بیماریاں بچوں کی شعوری نشوونما کو متاثر کرتی ہیں۔ اس نظام کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ کھلی جگہوں یا دریاؤں میں رفع حاجت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک گرام گندگی ایک کروڑ (10 ملین) وائرس، 10 لاکھ بیکٹیریا، ایک ہزار بیماری کا باعث بننے والے کیڑوں اور ایک سو انڈے دینے والے جراثیم کا باعث بنتی ہے۔ انڈیا میں صرف دریائے گنگا میں ایک فٹ میں گیارہ لاکھ لیٹر گندہ پانی شامل ہوتا ہے جو مختلف ذرائع سے آلودہ کیا جاتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ آلودگی انسانوں کے پیشاب اور پاخانے کی ہوتی ہے۔ جو ہیضے کے مرض کے پھیلنے کا موجب بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متعدداموات وقوع پذیر ہوتی ہیں اور خصوصاً بچے اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

صحت و صفائی کے نظام کی کمزوری کی وجہ سے انڈیا کی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ 2006ء میں مرتب ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کو اس کی عدم موجودگی سے معاشی طور پر کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جو جی ڈی پی کا 6.4 فیصد بنتا ہے۔ اس نقصان کی کل رقم کا اندازہ دو کھرب 40 ارب ہندوستانی روپے لگایا گیا۔ یعنی 53 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ مزید یہ کہ شہروں میں رہنے والی 20 فیصد غریب ترین آبادی صحت اور صفائی کے غیر معیاری نظام سے اپنی فی کس یومیہ آمدنی میں شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے۔

حکومت کی طرف سے اس مسئلہ کے حل کے لئے 1987ء میں ’’سنٹرل رورل سینی ٹیشن پروگرام‘‘ کا آغاز ہوا جس پر 1999 میں نظرثانی کی گئی۔ اس پروگرام کے ذریعے صفائی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے جن میں صفائی کی تعلیم، سکولوں اور ہسپتالوں میں ٹائلٹ کی تعمیر شامل تھی۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 11پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انڈین حکومت کی طرف سے 2017ء تک تمام شہریوں کو صحت، خصوصاً ٹائلٹ کی سہولتیں فراہم کرنے کا اظہار کیاگیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے دیہی علاقوں میں لوگوں کے اپنی مدد آپ کے تحت ٹائلٹس کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

دوسرا اور سب سے اہم مسئلہ جس سے انڈیا دوچار ہے وہ کرپشن ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’انڈیا کے پسماندہ علاقوں میں زیادہ کرپشن پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں بڑے وسیع پیمانے پر کرپشن پائی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا ادارے کے مطابق 179 ممالک میں سے انڈیا کا کرپشن کے حوالے سے 95 واں نمبر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2002ء 2.7 سے 2011 تک کمی واقع ہوئی جو 3.1 تک گر چکی ہے۔ انڈین سیاست اور نوکر شاہی میں کرپشن کا پہلو بہت گہرائی تک پھیل چکا ہے۔ کرپشن کوٹیکس بچانے اور مختلف محکموں کو قابو میں رکھنے کے لئے رشوت کے طور پر استعمال جاتا ہے۔ اس رجحان نے قومی زندگی کے ہر شعبے میں تلخی پیدا کر رکھی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سرکاری دفاتر میں نوکری حاصل کرنے کے لئے 50 فیصد افراد کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ کرپشن کے نتائج کے اثرات غیر صحت مند ماحول پیدا کرتے ہیں جو سرمایہ کاری پر اثر انداز ہوتے ہیں اور حکومت کی طرف سے فراہم کردہ خدمات کی لاگت میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ کرپشن کا ناسور انڈیا کے اہم گیارہ محکموں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان میں تعلیم، صحت، عدلیہ،پولیس اور شہری دفاع کے محکموں میں ہر سال 21 ہزار 68 سو کروڑ کی کرپشن ہوتی ہے۔

انڈیا میں 1949ء سے تعلیم حکومتی ترجیحات میں سب سے اوپر رہی ہے۔ پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے تعلیمی پالیسی مرتب کی جس میں پرائمری تعلیم کو مفت قرار دیا گیا۔ انڈیا میں 6 سے 14 سال تک کے بچوں کے لئے تعلیم لازمی اور ان سے مشقت لینا ممنوع کر دیا گیا۔ سکول جانے اور نہ جانے کے متعلق لٹریچر تقسیم کیا گیا اور بچوں کو سکول جانے کا لالچ دیا گیا جس میں دوپہر کا کھانا سکول میں مفت دینا شامل تھا۔

اس کے علاوہ ’’سرواشکشا ابیان‘‘ یعنی تعلیم سب پر لازمی کو فروغ دینے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے گئے۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا 6 فیصد حصہ خرچ کیا جانے لگا۔ 2009ء میں ’’بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کا قانون‘‘ متعارف کروایا گیا اور اسے نافذ کیا گیا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود تعلیم کے فروغ میں رکاوٹ رہی اور بھاری بجٹ خرچ کرنے کے باوجود سکولوں کی حالت بہتر ہوسکی اور نہ ہی بچوں کی سکول میں حاضری کو یقینی بنایا جاسکا۔ سکولوں کی عمارتیں غیر معیاری تھیں اور وہاں سہولتوں کا بھی فقدان تھا۔ مثال کے طور پر انڈین سرکاری ذرائع کے مطابق 5% سکولوں کی چار دیواری ہی نہ تھی۔ صرف 16.65 فیصد سکولوں میں کمپیوٹر مہیا کئے گئے اور 39 فیصد میں بجلی دی گئی۔ پرائمری سکولوں کی صرف 27 فیصد تعداد میں بجلی مہیا کی گئی۔ ان تمام اقدامات کا نتیجہ کمزور تعلیمی صورتحال کی شکل میں برآمد ہوا۔ مزید یہ کہ طلبہ اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد سکولوں سے غیر حاضر رہتی تھی۔ سکولوں میں جانے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول جانے کے بجائے کام پر چلے جاتے تھے تا کہ اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے کچھ رقم کمائی جاسکے۔ انڈیا میں تعلیم معاشی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے۔ 2006ء سے لے کر اب تک 34 بچوں کے لئے ایک استاد میسر ہے۔ تعلیمی نظام کی ادھیڑ بن سے اچھے اساتذہ بھی پیدا نہ ہوسکے جس سے تعلیم سے وابستہ تمام امیدیں اور نتائج خاک میں مل گئے۔ انڈیا میں اترپردیش اور بہار میں طلبہ کی حاضری 75 فیصد ظاہر کی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت میں وہاں 40 فیصد طلبہ سکولوں میں حاضر ہوتے ہیں۔

مذہبی انتہا پسندی

انڈیا میں مذہبی تشدد بھی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ گجرات میں 2002ء میں ہونیوالے فسادات کا پوری دنیا میں چرچا ہوا تھا۔ اگرچہ اس میں ملوث افراد کو حال ہی میں عدالت کی طرف سے سزائیں دی گئی ہیں لیکن مذہبی تشدد سے وہاں اقلیتیں خوفزدہ رہتی ہیں۔انڈیا میں انسانی سمگلنگ اور نقل مکانی کا جائزہ لینے سے قبل وہاں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی و معاشرتی تشدد کا جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اس وقت انڈیا میں چند گروپوں نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے۔ ان میں ہندو قوم پرستی، تحریک خالصتان اور عیسائی دہشت گردی شامل ہیں۔ اس کی ایک جھلک انڈیا میں عیسائی مخالف روئیے، کرناٹک میں عیسائیوں کے خلاف پائے جانے والے تشدد اور اڑیسہ میں مذہبی خوف و ہراس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 1992ء میں سولہویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کا بی جے پی اور بجرنگ دل جیسی سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں گرایا جانا قومی سطح پر پائے جانے والے مذہبی بلوے کا نتیجہ تھا۔ آئین کی رو سے انڈیا ایک سیکولر ملک ہے لیکن آزادی سے اب تک وہاں کئی مواقع پر وسیع پیمانے پر اٹھنے والی تشدد کی لہر ہزاروں افراد کو نگل چکی ہے۔ حالیہ عشروں میں طبقاتی چپقلش اور مذہبی بنیادوں پر مبنی سیاست زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انڈیا ایک کثیر المذاہب ملک ہے لیکن ہندتوہ نظریہ اس بات کا پرچارک ہے کہ انڈیا صرف ہندوؤں کی ملکیت ہے۔ مسلمان اور عیسائی غیر ملکی ہیں۔ اس نظریئے کے پیرو کاروں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں اور عیسائیوں کو غیر ملکی حملہ آور تصور کرتی ہے جو ہر وقت ان کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی میں لگی ہوئی ہے۔ ہندتوہ نظریہ سنگھ پریوار کی سیاست کا اولین ایجنڈہ ہے جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے اظہار کی صورت میں کئی بار سامنے آ چکا ہے۔

آزادی کے بعد انڈیا کی تاریخ میں کئی بار مذہبی اور نسلی فسادات وقوع پذیر ہوئے لیکن جب سے ہندتوہ نظریہ مضبوط ہوا ہے اس کے کارکن مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے بلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے ہیں۔ 1990ء کے عشرے سے انڈیا میں مذہبی اقلیتوں کے خاتمے کے لئے تشدد میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے اور اسے باقاعدہ منظم شکل دی گئی ہے۔ کچھ ریاستی حکومتیں بھی موردِ الزام ٹھہرائی جاتی ہیں جو اقلیتوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ تشدد کے سینکڑوں واقعات انڈیا میں رونما ہو چکے ہیں لیکن ذیل کے واقعات اہم تھے جنہوں نے اپنی خوفناکی کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان میں ایودھیا کے مذاکرات، ممبئی کے فسادات، 1993ء میں ممبئی بمباری، اور 2002ء کے گجرات فسادات شامل ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے فسادات کے دوران احمد آباد میں متعدد عمارات کو آگ لگا دی گئی۔

انڈیا میں ہونے والے تشدد کے خوف سے لاکھوں افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جموں اور کشمیر میں مارچ 1989ء میں شروع ہونے والی قتل و غارت اور ریاستی تشدد سے تنگ آکر اڑھائی سے تین لاکھ ہندو پنڈت کشمیر کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہ سلسلہ انڈیا کی آزادی سے شروع ہوا جس میں وادی میں نسل کشی کا الزام مسلمان بنیاد پرست عسکریت پسندوں پر عائد کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ انڈیا کی فوج کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ اس کی گواہی غیر ملکی میڈیا بھی دیتا ہے۔ 1947ء کی نسبت پنڈتوں کی تعداد میں 15 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ کشمیر میں ہونے والی خانہ جنگی میں مقامی مذہبی اور سیکولر طبقہ دونوں ہی ملوث ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو گزشتہ 60 برس سے انڈین فوج کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ مسلمانوں پر قتل و غارت گری کا الزام لگایا ہے اور اپنی فوج کے سیاہ کارناموں کو فراموش کرتا آ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد واندھاما اور امرناتھ پوجا کے دوران ہونیوالی غارت گری کے دوران قتل ہوئی۔

حالیہ برسوں میں عیسائیوں کے خلاف ہونیوالے پرتشدد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو قوم پرست ہندوؤں کے ایما پر کئے گئے۔ تشدد کی ان کارروائیوں میں چرچوں کی آتش زنی، عیسائیوں کی ہندو دھرم میں جبری منتقلی، دھمکی آمیز لٹریچر کی تقسیم، بائبل کو جلانے، عیسائی راہباؤں سے جنسی زیادتی، عیسائی مبلغین کا قتل، عیسائیوں کے سکولوں، کالجوں اور قبرستانوں کی مسماری شامل ہیں۔ سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ عیسائی مبلغین کی کارروائیوں سے ہندوؤں کے عیسائیت قبول کرنے کے خلاف ’’وانواسس‘‘ کا بے ’’ساختہ غصہ‘‘ دراصل تشدد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے اس دعویٰ کو انڈیا کے تمام سکالرز نے مسترد کرتے ہوئے انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔(جاری ہے)

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ