لڑکے کو جنم دینے والی خواتین کے دماغ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

لڑکے کو جنم دینے والی خواتین کے دماغ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ سائنسدانوں نے ...
لڑکے کو جنم دینے والی خواتین کے دماغ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)کہنے کی حد تک تو ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ بیٹا قدرت کی نعمت اور بیٹی رحمت ہے مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیٹوں کی تمنا کچھ زیادہ ہی پائی جاتی ہے۔ خیر، یہ بات تو اپنی جگہ مگر سائنسدانوں نے بیٹوں کی خواہش رکھنے والے والدین کو خبردار بھی کر دیا ہے کہ بیٹا پیدا ہونے کی صورت میں ماں کا ذرا زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بیٹے کو جنم دینے والے ماﺅں کے دماغ میں کچھ کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جس کے باعث ان کے ذہن پر دباﺅ زیادہ ہوتا ہے، اور عین ممکن ہے کہ کچھ عرصے تک وہ ڈپریشن کے مسئلے سے بھی دوچار رہیں۔

میل آن لائن کے مطابق حال ہی میں کی گئی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین بیٹے کو جنم دیتی ہیں ان میں ”بعد از زچگی ڈپریشن“ کی شرح تقریباً دو گنا زیادہ ہوتی ہے ، جس کی بنیادی وجہ ان کے دماغ میں کیمیکل توازن کی تبدیلی ہے۔ یونیورسٹی آف کینٹ کی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے ، جن کا کہنا ہے کہ بیٹے کی پیدائش کے نتیجے میں ماں کے مدافعتی نظام میں ایک قسم کی سوزش پیداہوتی ہے جو اس کے دماغ کے کیمیائی توازن میں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے ۔ دماغ کی کیمیائی توازن میں پیدا ہونے والی اس تبدیلی کی وجہ سے بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد ماں کو ذہنی دباو¿ جیسی کیفیت محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات یہ کیفیت مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حمل یا زچگی کے دوران کوئی پیچیدگی پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں بھی بعد از زچگی ڈپریشن کا خدشہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 296خواتین کے بارے میں ڈیٹا جمع کیا گیا ، جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اوسطاً دس فیصد خواتین بعد از زچگی ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جو خواتین پہلے ہی نفسیاتی مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں ان میں بعد از زچگی ڈپریشن کی شرح قدرے کم پائی گئی ہے، جس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عموماً وہ پہلے ہی نفسیاتی مدد حاصل کررہی ہوتی ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت