خسرے کی ویکسین کے خلاف فتوے کا انتہائی افسوسناک نتیجہ آگیا

خسرے کی ویکسین کے خلاف فتوے کا انتہائی افسوسناک نتیجہ آگیا
خسرے کی ویکسین کے خلاف فتوے کا انتہائی افسوسناک نتیجہ آگیا

  

جکارتہ(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈونیشیا کے محکمہْ صحت کے ساتھ ،بلکہ یوں کہیے کہ انڈونیشیا کے عوام کے ساتھ، ایک عجب افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ علماء حضرات کے پاس گئے تو تھے خسرے کی ویکسین کے حق میں فتوٰی لینے مگر انہوں نے اسے حرام قرار دے دیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا ہے کہ لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کر دیا ہے۔

ویکسین کے خلاف فتویٰ انڈونیشین علما کونسل کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ اس فتوے کے نتیجے میں والدین کی ایک بڑی تعداد بچوں کو خسرہ کی ویکسین پلوانے کیلئے تیار نہیں۔ ویکسین پلانے والے اہلکار آتے توکوئی کہتا کہ ان کا بچہ کہیں گیا ہوا ہے اور کوئی کہتا کہ وہ بیمار ہے اس لیے ویکسین نہیں پی سکتا۔ فتوے کے بعد سے ہی انڈونیشیا کے دیہاتی علاقوں میں یہ تاثر بھی عام ہو چکا ہے کہ اس ویکسین میں خنزیر کی چربی استعمال کی جاتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا کہ گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران لاکھوں والدین نے اپنی بچوں کو ویکسین پلانے انکار کیا ہے جس کے نتیجے میں یہ خوف پیدا ہوگیا ہے کہ عنقریب اندونیشیا میں خسرے کے وباء بڑے پیمانے پر پھوٹ سکتی ہے۔ انڈونیشیا کا شمار پہلے ہی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خسرے کی بیماری خیر معمولی حد تک زیادہ پائی جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت