تین سوسال پہلے اردو کو اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والا وہ بادشاہ جس نے موسیقی اور موسیقاروں کو بھی زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا تھا،وہ کس بہادر ماں کا بیٹا تھا ،آپ بھی جانئے

تین سوسال پہلے اردو کو اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والا وہ بادشاہ جس نے ...
تین سوسال پہلے اردو کو اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والا وہ بادشاہ جس نے موسیقی اور موسیقاروں کو بھی زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا تھا،وہ کس بہادر ماں کا بیٹا تھا ،آپ بھی جانئے

  

لاہور (ایس چودھری )اردو زبان کی ترقی کے لئے صدیوں تک کئی شہنشاہوں اور راجوں نوابوں نے اپنا خون جگربہایا ہے ۔اردو اگرچہ اب پاکستان کی قومی زبان ہے لیکن تین سو سال پہلے جب اس نے عادل شاہی دور حکومت میں متحدہ ہندوستان کی ریاست بیجاپور کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل کیا تو یہ دور اردو کی ترقی کا بنیادی دور کہلانے لگاجس سے دکنی اردو ادب معرض وجود میں آیا ۔عادل شاہی خاندان مغل شہنشاہ اکبر کے ہی زمانے میں ہندوستان کاایسا بااثر شاہی خاندان تھا جو مغلیہ سلاطین کا مقابلہ کرسکتا تھا مگر اس نے فلاح عامہ اور فن و ادب کی ترقی پر توجہ دی ۔ابراہیم عادل شاہ ( 1556 تا 1627)کے دور میں اردو زبان نے معرکہ آرائی کے ساتھ ترقی کی تھی ،اس نے پہلی بار فارسی کی جگہ اردو کوسلطنت کی سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا ۔نہ صرف اردو زبان میں شعروادب کو بلکہ موسیقی پر بھی کارہائے نمایاں انجام دئےے تھے۔وہ چاند بی بی جیسی بہادر ماں کا سپوت تھا جس نے بیجا پور پر حکمرانی کے دوران اپنے شوہر کے بعد تخت سنبھال کرشہنشاہ اکبر کو مدتوں جنگوں میں الجھائے رکھا ۔

ابراہیم عادل شاہ شاعر ،مصنف ،موسیقار اور بہترین منتظم تھا۔اس نے اپنے دور میں ہی موسیقی کی معرکتہ الارا کتاب ” کتاب نورس “ لکھ ڈالی تھی جس میں انچاس گانوں کے راگ گانے کا طریقہ بیان کیا گیا تھا ۔ابراہیم عادل شاہ شاعری اور موسیقی کا ایسا دلداہ اور فن پرورتھا کہ اس نے اپنے پسندیدہ نام” نورس“ کے نام پر کئی جگہوں اور چیزوں کے نام رکھے اور بیجاپور میں موسیقاروں گھرانوں کو آباد کرکے انہیں خوشحال کردیا تھا ۔معروف محقق سید یحیٰی نشیط لکھتے ہیں کہ ابراہیم عادل شاہ نے 1580ءسے 1627 ءتک یعنی سینتالیس برس حکومت کی۔اس کے دور حکومت میں ہر طرف خوش حالی اور امن و سکون تھا۔وہ خود ادب نواز اور موسیقی کو پسند کرتا تھا۔اس نے بیجاپور کا نام بدل کر ”بدیا پور“ کر دیا تھا۔اس نے ’نورس پور ‘ نام کا ایک شہر بھی بسایا تھا۔اس میں ایک محلہ صرف موسیقاروں کے لیے مختص تھا۔ اس محلے میں کم و بیش ایک ہزار فنکار اپنے مراتب کے لحاظ سے آباد تھے۔ ان میں کوئی ”گنی جنی “تھا توکوئی ”ڈھاڑی“اور کوئی ”عطائی “تھا۔ ابراہیم عادل شاہ نے انھیں بھی نئے نام عطا کیے جو موسیقار سلطان کا استاد ہوتا، اسے ’حضوری‘ ،جو دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا اسے’درباری‘ اور جو موسیقار دربار کے باہر شہر میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا وہ ’شہری ‘ کہلاتا تھا۔

ابراہیم عادل شاہ کو موسیقی سے بڑا لگاو¿ تھا۔اسد بیگ نے اپنی کتاب میں ابراہیم کی اس دلچسپی کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دن بادشاہ موسیقی کی نسبت ایک گفتگو میں اس قدر محو تھا کہ کسی کے پوچھے گئے سوال کا جواب دینے کا اسے خیال تک نہیں رہا۔اس نے اکبر اعظم کے درباری موسیقار تان سین کے متعلق ایک بار یہ دریافت کروایا کہ وہ کیسا گاتا ہے ،کھڑا رہ کر یا بیٹھ کر۔ جب اسے اس سوال کا جواب دیا گیا کہ تان سین صبح کے وقت دربار میں کھڑا رہ کر گاتا ہے اور شام میں یا عید تہوار کے موقعوں پر بیٹھ کر گاتا ہے۔یہ جواب سن کر عادل شاہ نے کہا کہ موسیقی کی سماعت کے لیے وقت مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،نغموں کا لطف کبھی بھی لیا جا سکتا ہے۔کھڑے رہ کر نغمہ سرائی کرنے کی بجائے بیٹھ کر کرنے میں نغمہ گو کی تعظیم ملحوظ رہتی ہے۔کیونکہ اسے بھی عزت ملنی چاہیے۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ابراہیم عادل شاہ ثانی موسیقی کے میدان میں باریک باریک باتوں کا خیال رکھتا تھا۔

”نورس“ ابراہیم عادل شاہ ثانی کا پسندیدہ لفظ تھا۔ یہ لفظ اسے اتنا پیار ا تھا کہ اس نے کئی اشیا کے نام ا س لفظ سے جوڑ دیے تھے۔مثلاّ’کتاب نورس‘ ’شراب نورس‘ ’نورس علم ‘ ’نورس پیکر ہاتھی‘ ’نورس مہر‘ ’نورس محل‘ ’لشکر نورس‘ وغیرہ۔”کتابِ نورس“ فن موسیقی کی کتاب ہے۔اس میں مختلف راگوں میں گائے ہوئے ابراہیم کے 59 گیت ہیں۔راگ بھوپالی میں 2 ،رام کری میں2، بھیروراگ میں 6 ، ہجز میں 1 ، مارو راگ میں 2 ، آساوری میں 2 ،دیسی راگ میں2، پوریا میں 1، براری میں1، ٹو ڈی میں4، ملھار راگ میں5، گوری میں2 ، کلیان راگ میں4، دھناسری میں2، کنڑا یا کرناٹی میں19، اور کیدار راگ میں 4۔ نورس کے ہر گیت کو انترا، بین اور آبھوگ سرخیوں کے تحت علیحدہ علیحدہ کیا گیا ہے۔ گیت کے ہر حصے میں دو، تین یا چار مصارع ہیں۔ فن موسیقی کی رو سے ہر گیت چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اِستھائی، انَترا، سنچاری اورآبھوگ۔آسانی کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ا ستھائی یعنی گیت کا اول حصہ ، انترا دوسرا ،سنچاری تیسرا اور آبھوگ چوتھا حصہ۔لیکن کتاب نورس میں صرف گیت کے تین حصوں کا ہی ذکر ہے۔اس میں گیت کے اول حصے کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ ابراہیم نے سنچاری کی جگہ ’بین ‘ کا استعمال کیا ہے۔فن موسیقی میں یہ اس کی اصلاح یا ایجاد تسلیم کی جاتی ہے۔مغل بادشاہ جہانگیر نے اسے موسیقی میں نئی ایجاد سے تعبیر کیا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /ادب وثقافت