ایمریٹس گروپ نے پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا 

ایمریٹس گروپ نے پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا 

  



لاہور (پ ر)ایمریٹس گروپ نے اپنے مالی سال 2019-20کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ سال 2019-20کی پہلی ششماہی کا گروپ ریونیو 14.5 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 2 فیصد کمی سے 14.8 ارب ڈالر تھا۔ اس معمولی کمی کی بڑی وجہ یورپ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، انڈیا اور پاکستان میں غیر سازگار کرنسی تبدیلیاں اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپوٹ کے جنوبی رن وے کی 45 روزہ بندش کے دوران طے شدہ گنجائش میں کمی رہی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں گروپ کا منافع 8 فیصد زیادہ رہا جبکہ گروپ کا خالص منافع گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 320 ملین ڈالرز رہا۔ منافع میں بہتری کی بڑی وجہ فیول کی قیمتوں میں گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 9 فیصد کمی ہے تاہم کرنسی میں منفی تبدیلیوں سے فیول کی کم لاگت سے پہنچنے والا فائدہ محدود رہا۔ گروپ کی کیش پوزیشن 31 مارچ 2019 کو 6  ارب ڈالر کے مقابلے میں 30 ستمبر 2019 کو 6.3 ارب ڈالر رہی۔ ایمریٹس ایئرلائن اور گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المختوم نے کہا، "ایمریٹس گروپ نے عالمی مارکیٹوں میں مشکل کاروباری صورتحال اور سماجی و سیاسی غیریقینی حالات میں اپنی حکمت عملی کے ذریعے سال 2019-20کی پہلی ششماہی میں مستحکم اور مثبت کارکردگی پیش کی ہے۔ ایمریٹس اور ڈناٹا دونوں نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر تزئین و آرائش کے کام سے اپنے بزنس اور اپنے صارفین پر پڑنے والے اثرات کو کم سے کم لانے کیلئے بھرپور کام کیا۔ 

ہم نے بھی لاگت میں بھرپور انداز سے کمی لانے کے لئے کام کیا اور اپنی  مہارت کو آگے بڑھانے کے لئے مسلسل کام کیا۔ ساتھ ہی اس بات کو یقین بنایا گیا کہ ہمارے وسائل صحیح مواقع پر مستعدی سے استعمال ہوں۔" انہوں نے کہا، "فیول کی لاگت میں کمی ہمارے لئے اچھی رہی کیونکہ ہمارا فیول بل گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ارب درہم کم ہوگیا۔ تاہم ناسازگار کرنسی کی صورتحال سے ہمارا تقریبا 1.2 ارب درہم منافع ختم ہوگیا۔ "  انہوں نے کہا، "عالمی سطح پر صورتحال کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے لیکن سخت مقابلے کے ساتھ مارجن پر نیچے جاتا دباؤ بڑھنے سے ہمیں توقع ہے کہ ائیرلائن اور ٹریول انڈسٹری کو اگلے چھے ماہ مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ایک گروپ کے طور پر ہم اپنا بزنس پھیلانے پر توجہ بدستور مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور ہم اپنی نئی مہارتوں کے حصول کے لئے سرمایہ کاری جاری رکھیں گے جس سے ہمارے لوگ زیادہ کھل کر کام کرسکیں گے اور اپنے صارفین کو ہمیں بہتر مصنوعات، خدمات  اور سفری سہولیات پیش کرسکیں گے۔" ایمریٹس گروپ کے اسٹاف کی تعداد ایک لاکھ 5 ہزار 315 ہے جو 31 مارچ 2019 کے مقابلے میں بدستور قائم ہے۔ یہ کمپنی کی طے شدہ صلاحیتوں اور کاروباری سرگرمیوں سے ہم آہنگ ہے اور نئی ٹیکنالوجی و نئے طریقوں پر عمل درآمد کے ذریعے مختلف انٹرنل پروگرامز کی مہارت میں بہتری لانے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ایمریٹس ایئرلائن نے سال 2019-20کی پہلی ششماہی میں 3 ایئربس A380 جہاز وصول کئے جبکہ مالی سال 2019-20کے اختتام سے قبل مزید 3 نئے جہاز بیڑے میں شامل ہوں گے۔ اس دوران ایئرلائن نے اپنے بیڑے سے 6 جہازوں کو ریٹائر کیا جبکہ 31 مارچ 2020 تک مزید 2 طیاروں کی واپسی ہوگی۔ ایئرلائن انتہائی چوڑی جسامت والے جہازوں پر سرمایہ کاری کی دیرینہ حکمت عملی کی بدولت مجموعی کارکردگی میں بہتری، کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی اور اعلیٰ معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایئرلائن دبئی میں محض ایک اسٹاپ کے ساتھ دنیا بھر کے مسافروں کے لئے رابطوں میں بہتری لانے کی سہولت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایمریٹس نے دبئی۔بینکاک۔فنوم پینہ اور دبئی۔ پورٹو (پرتگال) کے نئے روٹس شامل کئے۔ 30 ستمبر کو ایمریٹس کا عالمی نیٹ ورک 84 ممالک کے 158 شہروں تک پھیل چکا ہے اور اسکے فضائی بیڑے میں فریٹرز سمیت جہازوں کی تعداد 267 ہوگئی ہے۔ ایمریٹس نے فلائی دبئی کے ساتھ اپنا اشتراک مزید بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ دونوں ایئرلائنز کی جانب سے فلائٹ شیڈولز میں اعزازی نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھانے کا سلسہ بھی قائم رہا اور دبئی کے ذریعے سٹی پیئر رابطوں کی سہولت بھی پیش کی جاری رہی۔ سال 2019-20کی پہلی ششماہی میں اٹلی کے شہر نیپلز اور ازبکستان کے شہر تاشقند میں نئے روٹس کی شروعات کیں۔ صارفین ایئرلائن کے واحد لائلٹی پروگرام ایمریٹس اسکائی وارڈز کے تحت فائدہ اٹھانے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور مسافر ایمریٹس اور فلائی دبئی کے درمیان رابطوں کے ذریعے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایمریٹس ٹرمینل 3 سے فلائی دبئی کی 22 پروازوں کے ساتھ بلاتعطل سفر کی خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پہلی ششماہی میں مجموعی گنجائش 7 فیصد کمی سے 29.7 ارب اویل ایبل ٹن کلومیٹرز (Available Tonne Kilometres) رہی جس کی بڑی وجہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی بندش اور 45 روزہ مدت کے دوران بیڑے میں کمی رہی۔ اویل ایبل سیٹ کلومیٹرز کی گنجائش سکڑ کر 5 فیصد کم ہوئی جبکہ مسافروں کا ٹریفک ریونیو پیسنجر کلومیٹرز 2 فیصد کم رہا جبکہ پیسنجر سیٹ فیکٹر گزشتہ سال 78.8 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 81.1 فیصد ہوگیا۔ ایمریٹس ایئرلائن سے یکم اپریل تا 30 ستمبر 2019 کے دوران 29.6 ملین مسافروں نے سفر کیا جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 2 فیصد کم ہیں۔ کارگو لے جانے کا حجم 8 فیصد کمی سے 1.2 ملین ٹن رہا جبکہ پیداوار میں 3 فیصد کمی رہی جس سے عالمی سطح پر کاروباری تناؤ اور بعض اہم کارگو مارکیٹس میں بے چینی کے تناظر میں ایئر فریٹ کے شعبے میں سخت کاروباری ماحول کی نشاندہی ہوتی ہے مالی سال2019-20کی پہلی ششماہی میں ایمریٹس کا خالص منافع 235 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 282 فیصد زیادہ ہے۔ ایمریٹس کا ریونیو بشمول آپریٹنگ آمدن گزشتہ سال اسی مدت میں 13.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 3 فیصد کمی سے 12.9 ارب ڈالر رہی۔ ایمریٹس کی آپریٹنگ لاگت مجموعی گنجائش میں 7 فیصد کمی کے برخلاف 8 فیصد سکڑ گئی۔ فیول کی لاگت اوسطا گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد کم رہی جس کی بڑی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 45 روزہ رن وے بندش کے دوران گنجائش میں کمی کی وجہ سے فیول کے استعمال میں کمی آئی۔ فیول بدستور ایئرلائن کی سب سے زیادہ لاگت کا حامل شعبہ ہے جو گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں 33 فیصد کے مقابلے میں 32 فیصد آپریٹنگ لاگت کا حامل ہے۔  ڈناٹا نے عالمی سطح پر 35 سے زائد ممالک میں آپریشنز کے ساتھ اپنی گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ اور سفری خدمات میں استحکام لانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سال 2019-20کی پہلی ششماہی میں ڈناٹا کے انٹرنیشنل آپریشنز میں اس کا ریونیو 72 فیصد رہا جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے 68 فیصد تھا۔ 

مزید : کامرس


loading...