سابق وزیراعظم کا بیرون ملک علاج

سابق وزیراعظم کا بیرون ملک علاج

  



پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف لاہور کے سروسز ہسپتال سے اپنی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں منتقل ہو گئے ہیں،جو شریف میڈیکل سٹی سے متصل ہے۔ ان کے مرحوم والد نے برسوں پہلے اِس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔یہاں اعلیٰ معیار کا ہسپتال، میڈیکل کالج اور دوسرے تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں، جو رفاحی اور تعلیمی کاموں سے شریف خاندان کے مرحوم رہنما کی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔اِس سے پہلے لاہور شہر میں اتفاق ہسپتال کی بنیاد بھی رکھی گئی تھی، جو ایک ٹرسٹ کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔شریف میڈیکل سٹی کے انتظامی سربراہ ڈاکٹر عدنان کی نگرانی میں سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ ہی پر خصوصی نگہداشت کا وارڈ بنا دیا گیا ہے،جہاں وہ تمام سہولیات میسر ہوں گی، جو کسی بھی معیاری ہسپتال میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ کسی ہنگامی صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے چند قدم کے فاصلے پر شریف میڈیکل کمپلیکس سے استفادہ بھی ممکن ہو سکے گا۔ ماہر ترین ڈاکٹر وں کے زیر نگرانی نواز شریف صاحب کا علاج جاری ہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو بھی،جنہیں ایک نجی کاروباری ادارے چودھری شوگر ملز کے شیئر ہولڈر یا (سابق) ڈائریکٹر ہونے کی وجہ سے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا،ضمانت پررہا کیا جا چکا ہے۔یہ ضمانت عبوری نہیں پکی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے تھے،اور ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ عدالتی تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا تھا۔وکیل مخالف کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ضمانت کا فائدہ اٹھا کر بیرون ملک ”فرار“ ہو سکتی ہیں۔مریم اپنے والد کی تیمار داری میں مصروف ہیں کہ اپنی والدہ کلثوم نواز شریف کے لندن میں انتقال کے بعد سے،وہی اپنے بیمار والد کا ایک بڑا نفسیاتی سہارا رہی ہیں۔خبر آئی ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہو سکتے ہیں،معالجوں کے سرکاری بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر محمود ایاز نے یہ کہہ کر اس امکان کی توثیق کر دی ہے کہ ان کے بعض میڈیکل ٹیسٹ پاکستان میں ممکن نہیں ہوں گے۔شہبازشریف بھی ان کے ہمراہ جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ نواز شریف کی ضمانت اگرچہ آٹھ ہفتوں کے لیے منظور کی گئی تھی،تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے اس میں توسیع کے لیے انتظامیہ کو حاصل اختیار کی نشاندہی بہت ٹھوس انداز میں کر دی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے بھی کہا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کے لیے کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی۔اگر ایساکچھ ہوا تو اسے عبور کر لیا جائے گا۔ محترمہ مریم نواز کا پاسپورٹ عدالتی تحویل میں ہے،ان کی بیرون ملک روانگی کے لیے شاید عدالت عالیہ سے اجازت لینی پڑے یا(ممکن ہے) اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انتظامیہ اپنا اختیار استعمال کر گذرے۔

سابق وزیراعظم کا بیرون ملک علاج کئی سیاسی اور صحافی تبصروں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ کئی ثقہ مبصرین بھی اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرتے رہے ہیں،اسے ”ڈیل“ یا ”ڈھیل“ کا نتیجہ قرار دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔اس طرح کے نکتے باقاعدہ سرکاری ترجمان بھی اُڑاتے اور پھیلاتے رہے ہیں۔یہاں تک کہ اعلیٰ عدلیہ کو ان کا نوٹس لینا پڑا ہے،اور انہیں عدالتی کارروائی کو متاثرہ کرنے یا اس میں خلل ڈالنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ہم ایسی کسی بحث میں اُلجھے یا اس میں حصہ لیے بغیر اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر رائے زنی نہ تو ملکی قانون کے مطابق ہے، نہ ہی صحافی ضابطہ اخلاق کے۔ پھر یہ کہ انسانی صحت ایسا معاملہ بھی نہیں کہ جس میں سیاست تلاش کی جائے،یا جس پر سیاست انڈیلی جائے۔ ہر چند کہ سیاست دانوں کے معاملات خواہ کسی بھی رنگ کے ہوں، انہیں سیاست سے جدا کر کے دیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے، پھر بھی جہاں تک ممکن ہو احتیاط کی جانی چاہیے۔اگر کسی سیاسی رہنما کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت محسوس ہو تو اس میں بھی کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے،نہ ہی اسے بہادری یا بزدلی سے نتھی کرنا چاہیے۔نواز شریف اپنی اہلیہ کی بیماری کے دوران بھی بیرون ملک تھے،اور احتساب عدالت سے اپنے خلاف فیصلے کا سُن کر اپنی بیٹی مریم کے ہمراہ واپس آ کر سیدھے زنداں خانے جا پہنچے تھے۔اگر ڈاکٹر ضرورت محسوس کر رہے ہوں کہ اُنہیں بیرون ملک لے جایا جانا چاہیے تو پھر اس میں کوتاہی مجرمانہ ہو گی۔ بیماری پر سیاست نہ مخالفوں کو کرنی چاہیے نہ مداحوں کو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا گو ہیں کہ سابق وزیراعظم کو شفائے کاملہ اور عاجلہ نصیب فرمائے۔وہ تین بار وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ اب بھی ایک بڑی جماعت کے قائد ہیں۔ مختلف صوبوں اور علاقوں میں ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔دستور کی حاکمیت کا خواب دیکھنے والوں کی بھاری تعداد کی توقعات کا وہ آج بھی مرکز ہیں۔انہیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور قید و بند کی جن صعوبتوں سے وہ گذر رہے ہیں،ان کے بارے میں عوامی اضطراب بے کنار ہے۔ تہہ در تہہ معاملات کی (انتہائی) تہہ تک پہنچنے کے لیے بسا اوقات وقت درکار ہوتا ہے۔سیاسی امور کے فیصلے بالآخر عوامی عدالتوں میں ہوتے ہیں،اور انہی کو تاریخ میں پذیرائی ملتی ہے۔اس بحث سے قطع نظر امید کی جانی چاہیے کہ انسانیت کے ارفع تقاضوں کو کوئی بھی بااختیار حلقہ نگاہ سے اوجھل نہیں ہونے دے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...