سٹوریج سہولیات کی عدم دستیابی، سالانہ 9ارب لیٹر دودھ ضائع: رپورٹ

سٹوریج سہولیات کی عدم دستیابی، سالانہ 9ارب لیٹر دودھ ضائع: رپورٹ

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)ڈیری کے شعبہ میں سٹوریج کی سہولیات کی عدم دستیابی سے سالانہ 9 ارب لیٹر دودھ ضائع ہو جاتا ہے جو کینیڈا اور ارجنٹینا کی سالانہ پیداوار کے مساوی ہے۔ انٹرنیشنل فارم کمپیریژن نیٹ ورک (آئی ایف سی این) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دودھ کی پیداوار دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے لیکن فی کس استعمال کم ہے کیونکہ دودھ کو صحت مند اور محفوظ ماحول میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے سالانہ نو ارب لیٹر دودھ ضائع ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں سالانہ 30 ارب لیٹر دودھ مقامی سطح پر استعمال اور بچھڑوں کو پلایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ڈیری شعبہ میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں جس کے لئے دودھ دوہنے کی جدید ٹیکنالوجی جانوروں کی افزائش شعبہ میں کام کرنے والے افراد کی اجرت میں اضافہ سرمایہ کاری کے فروغ جانوروں کے علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی اور غذائیت سے بھرپور چاروں کے استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔آئی ایف سی این کے مطابق پاکستان میں ڈیری اور لائیو سٹاک کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے حوالے سے زراعت میں 55 فیصد کا حصہ دار ہے۔ شعبہ کی ترقی سے نہ صرف زرعی شعبہ کی ترقی ہوگی بلکہ اس سے پاکستان کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : کامرس


loading...