کرتار پور راہداری …… حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی

کرتار پور راہداری …… حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی
کرتار پور راہداری …… حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی

  



عمران خان کی حکومت کا آنا اور حلف وفاداری کی تقریب میں نوجوت سنگھ سدھو سے چیف آف آرمی سٹاف کی جپھی اور دل میں اترنے والی ایک بات کام دکھا گئی اور یہ ملاقات کرتار پور راہداری کو پایہء تکمیل تک لانے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ کرتار پور راہداری سے جہاں موجود حکومت نے دنیا بھر میں آباد سکھوں کی ہمدردیاں حاصل کر لی ہیں، وہاں یہ اپنی خارجہ پالیسی میں کامیاب رہا ہے، جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان معاشی کاروبار کی راہیں مزید کھلیں گی اور بارڈر کے اُس پار اور بارڈر کے اِس پار دونوں حکومتوں میں کاروباری حضرات، سکھ یاتریوں کی خرید و فروخت کا سامان اپنے ملک میں لے جانے کے لئے سرگرم نظر آئیں گے۔

اگر نارووال کی جغرافیائی لحاظ سے پیمائش کی جائے تو اس کے جنوب مشرق میں دریائے راوی، جو بھارت اور ضلع نارووال کی سرحد کے ساتھ ساتھ بہتا ہے اور اس کے ساتھ والا علاقہ بھارت میں ہے اور شمال مشرق میں ریاست جموں و کشمیر اور شمال مغرب میں ضلع سیالکوٹ اور جنوب میں ضلع گوجرانوالہ، شیخوپورہ واقع ہے۔ نارووال کا زیادہ تر علاقہ ہموار ہے، صرف جنوب مشرق میں شکر گڑھ کا علاقہ تھوڑا سا غیر ہموار ہے۔ شکر گڑھ 1947ء سے پہلے گورداس پور کی چار تحصیلوں میں سے ایک تھا۔ بٹالہ، گورداس پور اور پٹھان کوٹ کی تین تحصیلیں تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف کو حکم دے کر انڈیا کو دیں تاکہ انڈیا کو گورداس پور اور پٹھان کوٹ کے راستے جموں و کشمیر مل سکے۔ ضلع گورداس پور کی تحصیل شکر گڑھ تقسیم پاکستان سے پہلے ریلوے لائن نارووال کو امرتسر سے ملاتی تھی۔ یہ گاڑی راوی عبور کر کے براستہ ڈیرہ بابا گورونانک امرتسر جایا کرتی تھی۔ فیض احمد فیض کا گاؤں بھی بابا گورونانک سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر چک قاضیاں ہے، جہاں مشہور سیاست دان اور سابق وفاقی وزیر ایس ایم ظفر کا گاؤں ہے۔ نارووال کی زرخیز زمین نے بہت سے سپوت پیدا کئے ہیں، ان میں زیڈ اے سلہری، راشد منہاس، انور عزیز، احسن اقبال، چودھری سرور، وارث سرہندی، ہاشم شاہ، بھارت کے مشہور اور لیجنڈ اداکار راجندر کمار شامل ہیں۔ شوکمار بٹالوی بھی اسی مٹی کے سپوت تھے۔

شکر گڑھ کی سڑک کے ساتھ دریائے راوی شروع ہو جاتا ہے جو شکر گڑھ کی سڑک کے ساتھ خوبصورت مناظر پیش کرتا ہے۔ پاک چین راہداری کی طرح کرتار پور راہداری بھی معاشی نقطہء نظر سے سنگ میل ثابت ہو گی۔ کرتار پور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ سرحدی راہداری ہے، جو بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے علاقہ کرتار پور میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی مقدس عبات گاہ سے منسلک کرتی ہے۔ بھارتی ردعمل تو سامنا آیا ہے،مگر بھارتی عوام اس راہداری پر بہت خوش نظر آتے ہیں، لیکن حکومت بے بس ہو گئی۔ مووی کے منصوبے ناکام ہو گئے، بھارت کے دنیا بھر میں بسنے والے سکھ اب ایک قوت بن چکے ہیں جس کے سبب مودی کے لئے مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔ مودی حکومت نے بہت کوشش کی کہ کرتار پور راہداری منصوبہ مکمل نہ ہو، لیکن پاکستان کی حکومت نے سکھوں کے ساتھ مل کر مودی کے تمام عزائم ناکام بنا دیئے ہیں۔

کرتار پور راہداری کے نتائج اور پاک بھارت تعلقات میں بہت بہتری آئے گی اور سرد مہری کی جو کیفیت 1947ء کی تقسیم کے بعد سے پاکستان اور بھارت میں جاری تھی، اس میں کمی کرناتھی، وہ پگھلنا شروع ہو جائے گی۔ پاکستانی حکومت نے سکھ یاتریوں کے لئے ویزے کی شرط بھی ختم کر دی ہے، جس کے سبب بابا نانک کے قریب سکھوں کی آمدورفت میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں اور اس راہداری کے سبب نارروال دنیا بھر میں مشہور اور نمایاں مقام حاصل کرگیا ہے۔ حکومت پاکستان نے سکھ یاتریوں کو رہائش، کھانے پینے، پارکنگ اور دیگر تمام سہولتیں مہیا کر دی ہیں۔ یہاں سے نئی سڑکیں،جو بابا گورونانک تک جانے کے لئے ضروری تھیں، تعمیر ہو چکی ہیں۔ آج سے چند برس پہلے یہاں سے بابا گورو نانک جانے کے لئے جنگل سا نظر آتا تھا۔ پاک بھارت کرتار پور راہداری سے اب اس علاقے کی ترقی کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ جن سکھ یاتریوں نے جنم بھومی بابا نانک کے لئے آنا ہے، ان کی فہرست پاکستان کے حوالے کر دی گئی ہے۔

اس فہرست میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور مشرقی پنجاب بھارت کے وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں۔ صرف سکھ یاتری اپنے شناختی کارڈ کے ذریعے پاکستان کی سرحد میں داخل ہو جائیں گے۔ لاہور سے خفیہ اداروں نے وہاں امن و امان کے لئے اپنے اہلکاروں کے تبادلے بھی کر دیئے ہیں، جو مستقل وہاں تعینات رہیں گے۔ سکھوں کے پاکستان میں بہت سے مقدس مقامات ہیں۔ ننکانہ صاحب میں ننکانہ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ پاکستان اقلیتوں کے حقوق اور مذہب کی حفاظت کے لئے بے شمار اقدامات کرتا ہے، پاکستان کے آئین میں بھی اقلیتوں کے حقوق کی شقیں شامل ہیں۔ قائداعظمؒ نے بھی اپنے خطاب میں برصغیر کی تقسیم کے بعد اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ کرتار پور راہداری اقتصادی و معاشی ترقی میں دونوں ممالک کے درمیان اہم راہداری ثابت ہوگی اور لگتا ہے کہ سکھ قوم ہندوستان میں انقلاب لانے میں کامیاب ہو جائے گی اور نریندر مودی کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دے گی۔ نریندر مودی کو بھارت میں آباد اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے بھی اقدامات کرنا چاہئیں اور جو وہ تقسیم ہند سے سیکولر اسٹیٹ کا راگ آلاپ رہے ہیں، اس کو بھی پورا کرنا چاہئے۔

کرتار پور راہداری کے سبب اس کے قریبی گاؤں اڈا پلاٹ، جسٹر، نور کوٹ اور دیگر گردو نواح کے دیہاتوں کے لئے کاروبار کے مواقع بھی کھل گئے ہیں۔ اس سے یقینا خوشحالی اور ترقی کی مزید راہیں نکلیں گی۔ اس کامیابی پر اپوزیشن جو الزمات اور کرتار پور راہداری کے منصوبہ کے خلاف بیانات دے رہی ہے، میرا خیال ہے کہ اب اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ان کو بھی کھل کر اس منصوبے کی کامیابی پر حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ پاک، بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جا سکے، کیونکہ کرتار پور کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقہ پر پاکستان میں جو گاؤں آباد ہیں، وہ پاک بھارت سرحدی علاقہ پر بھی ہیں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقے میں بھی آباد ہیں، جن میں ظفر وال سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر درمان، یسر کلاں جیسے گاؤں ہیں۔ ان علاقوں سے صبح سویرے مقبوضہ کشمیر کے پہاڑی علاقے نظر آتے ہیں۔

جہاں سے برف باری کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جہاں کرتار پور راہداری کھلنے کے بعد پاکستان کو تو مجموعی طور پر بے شمار ثقافتی و خارجی فوائد حاصل ہو سکیں گے۔ وہاں نارووال میں آباد شہروں، قصبات کی اہمیت و افادیت میں بھی اضافہ ہو گا۔ نارووال کے شہریوں کے لئے اعزاز سے کم نہیں کہ کرتار پور راہداری اور بابا نانک کے سبب نارووال عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے کالم نگاروں، ادیبوں اور شاعروں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میرا اور مظہر برلاس، افضال ریحان کا تعلق بھی کرتار پور سے چند میل کے فاصلے پر واقع گاؤں اڈہ پلاٹ اور نونار سے ہے۔

عمران خان کی حکومت کاکرتار پور راہداری منصوبہ پاک چین راہداری منصوبہ سے بھی بڑی کامیابی ہے۔ دنیا بھر میں اب کرتار پور راہداری کا منصوبہ نظروں میں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق معاہدہ طے پاگیا ہے، جس پر دونوں جانب سے دستخط کردیئے گئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے معاہدے پر دستخط کئے، جس کے تحت دونوں ممالک نے سکھ یاتریوں کی آمدورفت اور دوسرے طریقہ کار پر اتفاق کیا۔معاہدے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار سکھ یاتری کرتارپور راہداری استعمال کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری منصوبے کا سنگ بنیاد 28 فروری 2018ء کو رکھا تھا، تقریباً ڈیڑھ سال میں دربار صاحب سے پاک بھارت سرحد تک ساڑھے چار کلو میٹر لمبی سڑک اور دریائے راوی پر پلُ کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے۔

گوردوارہ دربار صاحب 1539ء میں قائم کیا گیا تھا۔بابا گرونانک نے وفات سے قبل 18 برس اس جگہ قیام کیا اور گرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر کرتارپور ہے، جسے بابا گرونانک نے 1521ء میں بسایا،یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921ء سے 1929ء کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔ گورونانک کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لئے مقدس مقام ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...