گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات

گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات
گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات

  



بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات منانے کے لئے بھارت سمیت دنیا بھر سے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو پہلے سے زیادہ بہتر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جس کا سہرا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے سر ہے، جنہوں نے سکھ برادری سے کیا وعدہ پورا کیا۔ ان کی ہدایات پر کرتار پور راہداری کی تعمیرو مرمت، رنگ و روغن اور تزئین و آرائش کا کام جو 3 سے 5 سال میں مکمل ہونا تھا، دس ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیا گیا، وزیر اعظم پاکستان کرتار پور راہداری کا افتتاح 9 نومیر کو کریں گے، جس کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، پاکستان بابا گورو نانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ یاتریوں اور زائرین کو لنگر تقسیم کرے گا اور گردوارہ کی حدود میں پرساد بانٹے گا، سکھ یاتری آزادانہ اور پُر امن ماحول میں بغیر ویزہ کرتار پور گردوارہ گورونانک صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔ سکھ یاتری گروپ کی صورت میں بھی آ سکتے ہیں اور اگر کوئی یاتری اکیلا، پیدل آنا چاہے تو اس کی بھی اجازت دے دی گئی ہے، بسیں بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ یاتری آسانی کے ساتھ دربار بابا گورو نانک پر حاضری دے سکیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر کرتار پور راہداری کے ذریعے بھارت سے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کے لئے مزید دو شرائط ختم کرنے کا اعلان اپنے ٹوئٹر پر کیا ہے، جس کے مطابق اب کرتار پور گوردوارہ بابا گورو نانک صاحب یاترا کے لئے آنے والے سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ بھی درکار نہیں ہو گا، محض درست شناخت سے ہی کام بن جائے گا۔ 10 روز پہلے اندراج کرانے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ سکھ یاتریوں کے لئے ایک اور خوش خبری یہ ہے کہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے روز اور بابا گرو نانک دیو جی مہاراج کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر سکھ یاتریوں سے کسی قسم کے واجبات وصول نہیں کئے جائیں گے۔ حکومت پاکستان نے گوردوارہ بابا گورو نانک کے رہائشی گاؤں کو بھی قدیم طرز پر اس کی اصل شناخت کے ساتھ مثالی گاؤں ”پنڈ“ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

روائتی دشمنوں کے درمیان امن کی یہ نئی کرن، جو تاریخ میں نئے موڑ کے طور پر لکھی جائے گی، نارووال اور شکر گڑھ کے درمیان نالہ بئیں کے کنارے اور دریائے راوی سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر سرسبز اور لہلاتے کھیتوں کے درمیان واقع پاک بھارت سرحد پر سفید رنگ کی ایک خوبصورت عمارت ہے جو مغلیہ طرز تعمیر کا شاہکار ہے، اس کی بلندی 50 فٹ سے زیادہ ہے، اس کے اوپر سنہری رنگ کے جاذب نظر اور دلکش کلس دور سے ہی سکھ یاتریوں اور زائرین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ اس خوبصورت اور باوقار عمارت کی 3 منزلیں ہیں۔ گنبدوں اور محرابوں سے بنی ہوئی یہ شاندار اور 5 سو سال قدیم عمارت در اصل سکھ مذہب کا گوردوارہ ہے اور یہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک مہادیو، مہا مہاراج کی قبر اور مڑھی (آخری آرام گاہ) ہے، اس کے ساتھ ایک قدیم کنواں اور 50 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی ہے جو گوردوارہ کے نام وقف ہے۔

یہاں یاتریوں کے لئے لنگر خانہ، گیسٹ ہاؤسز، سیکیورٹی آفس، اور دربار بابا گورو نانک کے گیانی کی رہائش گاہ ہے، جبکہ گوردوارہ کے باہر ریسٹورنٹس اور دکانیں بنی ہوئی ہیں، یہ عمارت در اصل سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے 12 کروڑ انسانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز و محور ہے، جسے آج تک رشد و ہدایت، محبت و بھائی چارے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سکھ مذہب کی بنیاد بابا گورو نانک نے رکھی۔ اس کے بعد اس مذہب میں گورو انگند، امرداس، رام داس، ارجن ہر گوبند، ہر رائے ہرے کرشن، تیغ بہادر سنگھ اور آخری گورو کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب نے اس مذہب کی آبیاری۔بابا گورونانک کی تعلیمات کا نچوڑ گرو گرنتھ صاحب میں درج ہے، جس کا ایک حصہ معروف صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکر کی شاعری پر مشتمل ہے،

جن کا مزار پاک پتن شریف میں مرجع خلائق ہے۔ بابا گورو نانک صاحب 15 اپریل 1469ء کو رائے بھوئی کی تلونڈی میں پیدا ہوئے،اسی جگہ کا نام اب ننکانہ صاحب ہے، جو لاہور سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب کی سمت میں واقع ہے، جہاں بھارت سے بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے 1103 سکھ یاتریوں کا پہلا گروپ سونے کی پالکی لے کر پہنچ گیا ہے۔ پالکی کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ بابا گورو نانک دیو جی کے جنم استھان لایا گیا ہے، جہاں سکھ یاتریوں نے گوردوارہ پر حاضری دی اور اپنی مذہبی رسومات ادا کیں اور پہلے سے زیادہ اچھے انتظامات پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سونے کی اس پالکی کو ننکانہ صاحب کے بعد کرتار پور لے جایا جائے گا اور وہاں مستقل طور پر نصب کر دی جائے گی۔

گورنر پنجاب چودھری سرور نے ننکانہ صاحب میں بھارت سے آنے والے مہمان سکھ یاتریوں کے لئے کئے گئے انتظامات دیکھے اور وزیر اعظم عمران خان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس موقع پر اپنے خطاب میں سکھ یاتریوں کو یقین دلایا کہ امن ہو یا جنگ، پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں یا کشیدہ، حکومت پاکستان بھارت سمیت دنیا بھر کے سکھ یاتریوں کو اپنے مقدس مقامات کی یاترا سے نہیں روکے گی۔ سیاست میں مذہب اور مذہب میں سیاست نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہم کرتے ہیں۔ ویسے پاکستان کے دانشور اور با شعور طبقے کے لوگ اس سارے کام، سہولتوں کو بھارت کے خلاف سیاست ہی سمجھ رہے ہیں۔ بابا گورو نانک صاحب کی پوری زندگی ایک سفر پر مشتمل ہے، انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ عرصہ 18 سال کرتار پور میں گزارے، ایمن آباد اور حسن ابدال میں بھی انہوں نے قیام کیا۔

وہ ہر جگہ اپنے نظریات کی تبلیغ کرتے اور دنیا کو سکھ کی جگہ بتاتے، ان کے نظریات کے مطابق انسان بنیادی طور پر لالچ کا شکار ہو کر دوسروں کا حق مارتا ہے۔ وہ ایک اللہ کی پوجا کی طرف لوگوں کو مائل کرتے، محبت اور خلوص کا درس دیتے، مسلمان انہیں وحدانیت پرست سمجھتے تھے، اسی لئے ان کی وفات پر مسلمانوں اور ہندوؤں میں تنازعہ پیدا ہوا۔ روایت ہے کہ جب چارپائی پر رکھی بابا گورونانک کی نعش سے چادر ہٹائی گئی تو چارپائی پر میت کی جگہ تازہ پھولوں کا ڈھیر موجود تھا، آدھے پھول ہندوؤں نے جلا دیئے اور اس کی راکھ زمین میں رکھ کر مڑھی بنالی، اور آدھے پھول مسلمانوں نے قبر میں دفنا کر خوبصورت قبر بنا دی۔ کرتار پور دنیا کے سب گوردواروں پر اس لئے فوقیت رکھتا ہے کہ بابا گورو نانک نے اس کی بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی اور آج سکھ کمیونٹی اور مسلمان اکٹھے انہیں عقیدت سے سلام کرنے وہاں حاضری دیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...