جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے؟

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے؟
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے؟

  



کشمیر میں کرفیو کا آج 92واں روز ہے۔ خواتین،مرد، بچے، بوڑھے، خوراک، علاج اور پانی نہ ملنے کے باعث اپنے گھروں میں مر رہے ہیں۔ خون کا آخری قطرہ بہانے تک نوجوان کشمیری سینے کھولے گولیاں کھا رہے ہیں۔ نریندر مودی قاتلِ انسانیت،وقت کا فرعون و یزید، ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ وہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لئے آخری پتہ کھیل چکا ہے۔ بطور سیاستدان اپنی کامیابی کے فوری بعد اس نے چند دنوں کے بعد یہ قدم عالمی تناظر میں خوب سمجھ کر اٹھایا ہے۔ امریکہ افغانستان میں الجھا ہوا ہے اور یہ ہاتھی اس دلدل سے نکلنے کے لئے کوشاں ہے۔ برطانیہ جو مسئلہ کشمیر کو پیدا کرنے کا اصل وطن ہے اور جو چاہتا تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا، اس نے دونوں قوموں کو آزادی مانگنے کی وہ سزا دی ہے کہ دونوں خطے صدیوں یاد رکھیں گے۔

دونوں ملکوں کے وسائل کا اسی فیصد، جو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جا سکتا تھا، دفاع کے نام پر اسلحہ ساز ملکوں کے ہاں اسلحہ کی خریداری کی صورت میں منتقل ہو رہا ہے۔ پاکستان،جس کے لئے کشمیریوں کی آزادی کی جنگ،جو دراصل تکمیل پاکستان کی جنگ تھی، اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہے۔ بھیک مانگنے کے لئے حکمران سعودی عرب، یو اے ای، قطر، چین اور آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑے ہیں کہ وہ حکمران جو بیرونی امداد کو غیرت سمجھنے کا نام دیتے تھے۔ خود کاسہ ء گدائی لئے دربدر ہیں۔ سیاسی میدان میں اپوزیشن کو ملک فروشی اور لوٹ مار کے الزام کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا گیا ہے، بھارت کی قیادت کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع نہیں تھا۔

ہمارے حکمران کہتے ہیں یو این او کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا، کسی نے ویٹو نہیں کیا۔ہماری وزارتِ خارجہ نے بلاشبہ ٹیلی فون کے ذریعے ہندوستان کی اس زیادتی کی نشاندہی کی ہے، مگر عملاً سعودی عرب، چین، امریکہ، بلجیم، ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا، کشمیریوں کے ساتھ مسلسل زیادتی پر تشویش کا اظہار کرنے،تحفظات کا اظہار کرنے اور دونوں ملکوں کو تحمل سے کام لینے، ایٹمی اسلحہ استعمال نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جنیوا کانفرنس میں عالمی امن کے داعی جی سیون کا فرانس میں اجلاس، خود حکومت کے بیانات کیا کشمیریوں کے درد کا مداوا بن سکے ہیں۔ کیا ہندوستان اپنی چیرا دستیوں سے باز آ گیا ہے۔ کیا وہ قتل و غارت گری، مسلم آبادی کو ختم کرکے ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ کرنے، آر ایس ایس کی طرف سے مسلم خواتین کی بے حرمتی کا سلسلہ رُک گیا ہے؟ ہمارے حکمرانوں کی بھاگ دوڑ، کشمیریوں کے لئے کیا پیغام امن یا محبت لائی ہے؟ علی گیلانی نے بروقت انتباہ کیا تھا……”ہم مٹ جائیں گے تو مدد کو آؤ گے“؟ عربوں نے نریندرمودی کے اس کارنامے پر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دے کر جو نمک پاشی کشمیریوں کے زخموں پر کی ہے، وہ تاریخ کا عبرتناک باب ہے:

جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

بھارت نے برسوں اپنے سفارت خانوں میں عرب ممالک میں عربی بولنے والے فاضل علماء بھیج کر اپنا کام انجام دیا۔ ہماری خارجہ پالیسی صرف نمائشی رہی، ہر دورے کو کامیاب قرار دے کر قوم کو بیوقوف بنایا گیا۔ کسی ایک ملک کی طرف سے، خواہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی عملاً کشمیریوں کے لئے کوئی مدد آئی ہے؟ بھارت کو ہم پر حملہ کی ضرورت نہیں، وہ اپنا کام کر چکا، عالمی دباؤ پر وہ دو طرفہ مذاکرات پر آمادہ بھی ہو جائے تو حسب سابق پر نالہ وہیں رہے گا۔ عالمی دباؤ ختم ہونے پر وہ ایل او سی پر حملہ کرکے پاکستان کو ایک نئی جنگ بندی پر مجبور کر دے گا۔ عالمی طاقتیں اس کی پشت پر ہیں۔ دشمن کی عیاری اور تیاری ایک طرف، ہماری دلداری اور لاچاری دوسری طرف! کیا ہم قوم کو دشمن کے مقابلے کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ کیا ہم حالتِ جنگ میں نہیں؟ قوم کو کون کب تیار کرے گا؟ امن کی خواہش قابل تعریف، جنگ سے بچنا قابل تعریف، مگر قومی غیرت، اسلامی حمیت، کشمیریوں کے بہتے خون کو روکنے کی کیا کوشش ہوئی ہے اور کیا ہو رہی ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...