نالائق سکول یا نا لائق بچے (1)

نالائق سکول یا نا لائق بچے (1)
نالائق سکول یا نا لائق بچے (1)

  



ایک اچھا اور فعال استاد وہ ہے جونہ صرف اپنے مضمون پر پورا عبور رکھتا ہے، بلکہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بھی اسے مکمل دسترس ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنا رویہ ہمیشہ مثبت رکھتا ہے۔ اس نے نسلوں کی تعمیر کرنا ہوتی ہے،وہ بچوں کا رول ماڈل ہوتا ہے اور بچوں کی تربیت میں اس کے مثبت رویے کا تاثر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔مَیں اس شخص کو استاد نہیں سمجھتا جو بچوں کی آسان رسائی میں نہ ہو۔ جو بچوں کی باتوں اور ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل پر پوری توجہ نہ دے۔ سکولوں کا بنیادی مقصد ہی بچوں کو ایسا ماحول مہیا کرنا ہے، جس سے ان کے اندر چھپی ہوئی بے پناہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں،تاکہ مستقبل میں وہ ایک باصلاحیت ا نسان اور اچھے شہری کے طور پر سامنے آئیں۔ تعلیم حقیقت میں ایک طرز زندگی ہے۔ اچھی طرح اٹھنا، اچھی طرح بیٹھنا، اچھی طرح کھانا، اچھی طرح پینا، اچھی طرح با ت کرنا، اچھالہجہ اپنانا، اچھا رویہ رکھنا، ایسا سب کچھ سکھانا ہی تعلیم ہے اور یہ سکھانے والا ہی استاد کہلانے کے لائق ہے……

ہم اپنے سرکاری سکولوں کو بہترین اساتذہ مہیا کرتے ہیں جو تعلیمی ہی نہیں پیشہ ورانہ طور پر بھی انتہائی اہل ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ تمام لوگ جو معاشی طور پر قدرے خوشحال ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو ان سکولوں میں نہیں بھیجتے کہ وہ غریبوں کے سکول ہیں۔ وہاں تعلیم مفت ہے۔ وہ مفت میں کیا پڑھائیں گے۔حکومت یکساں نظام تعلیم کے نعرے لگا رہی ہے۔ اصل مسئلہ تمام وسائل تک ہر طبقے کے بچوں کی یکساں رسائی کا ہے۔تعلیم آئینی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سارے سکولوں کا معیار ایک جیسا ہو سکے تو کریں، ورنہ یکساں نظام تعلیم ایک نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے،جن میں غریبوں کے بچوں کا گزر بھی ممکن نہیں، ان کو پابند کیا جائے کہ وسائل نہ رکھنے والے لوگوں کے بچوں کے لئے سکول کی کل تعداد کا کم از کم بیس فیصد کوٹہ رکھیں اور انہیں فری تعلیم دیں۔

حکومت کچھ ایسے اقدامات بھی کرے کہ کھاتے پیتے لوگ بھی سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کرانا بہتر سمجھیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ ایک لیبارٹری سکول ہے۔ وہاں بہت سے پی ایچ ڈی سکالر بھی پڑھاتے ہیں۔ پاکستان بھر کے بہترین استاد ہی نہیں، استادوں کے استاد اس سکول کے منتظم ہیں، مگر مَیں نے وہاں بھی یونیورسٹی کے کسی سینئر استاد یا کسی سینئر آفیسر کے بچے کو پڑھتے نہیں دیکھا۔ سرکاری سکولوں کے بارے معاشی طور پر بہتر لوگوں کا رویہ ایک غلط سوچ ہے، جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

عام آدمی،جو معاشی طور پر بہت آسودہ تو نہیں قدرے بہتر ہوتاہے، وہ بھی اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ سرکاری سکول کی نسبت کوئی بہتر سکول مل جائے۔ جن کے پاس پیسے ہیں، وہ لوگ مفت کی نسبت کچھ نہ کچھ پیسے دے کر بچوں کو پڑھانا بہتر جانتے ہیں۔ایسے سکول زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں۔ اس سیکٹر میں ایک مافیا بھی موجود ہے جو پوری طرح کمرشل انداز میں انتہائی مہنگے سکول چلا رہا ہے،مگر کچھ پرائیویٹ سکول بڑی معقول فیس کے ساتھ لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان سکولوں کے مالک خدمت خلق یا معمولی نفع پر کام کرتے ہیں یا کچھ سکول حکومتی اداروں کے تحت ہیں۔ افواج پاکستان،وہ چاہے آرمی ہو، ائیر فورس ہو یا نیوی، کے بارے میں لوگوں میں ایک مثبت تصور ہے کہ یہ لوگ ہر کام بڑے پروفیشنل انداز میں کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے افواج پاکستان کے سکولوں کا بہت اچھا تاثر ہے۔ آرمی کے بہت سے سکول بہت عرصے سے نصابی، ہم نصابی اور غیر نصابی، ہر طرح سے بچوں کی تربیت میں شاندار کردار ادا کر رہے ہیں۔لوگ ان سکولوں میں بچے کو داخل کرانے کے بعد اس کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں۔

پاکستان ائیر فورس کے بھی کچھ سکول ہیں جنہیں عام طور پر ایر فورس کے افسران یا PAFWAکنٹرول کرتی ہے۔میرے ایک جاننے والے کو شوق تھا کہ ان کا بچہ کسی اچھے سکول میں پڑھے، آمدن بھی پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر تھی۔ آمدن بہتر ہو تو سرکاری سکول نہیں بھاتا۔ وہ کسی بہتر سکول کی تلاش میں تھے۔ انہیں لاہورکینٹ کے علاقے میں موجود ائیر فورس کا سکول بھلا لگا، مگر وہاں داخلہ مشکل تھا، مگرکسی حوالے اور سفارش سے بچہ مونٹیسوری میں داخل ہو گیا۔ چند دن پہلے وہ مونٹیسوی کی کلاس ایڈوانس میں پڑھ رہا تھا۔اس کے والدین مجھ سے ملے۔ کچھ پریشان تھے کہ بچہ گھر میں ہر چیز فرفر سنا دیتا ہے، مگر سکول کے نام سے جانے کیوں نروس ہو جاتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ سکول نہ جائے۔ ہم کلاس ٹیچر سے ملے ہیں،وہ کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں۔ ہیڈ مسٹرس صاحبہ بھی کوئی توجہ نہیں دیتیں۔

بچہ گھر میں ہر طرح ٹھیک ہے، مگر سکول سے حد درجہ خائف۔سکول کے تمام ذمہ داروں سے ملے ہیں،مگر کوئی ہماری بات سننے کو تیار ہی نہیں۔ انہوں نے سکول ایڈمنسٹریٹر، شا ید اسلم نام تھا، کافون دیا۔ مَیں نے اس سے بات کی تو اس نے مجھے کہا کہ والدین کو میرے پاس بھیج دیں۔ مَیں دیکھ لیتا ہوں۔ والدین ملے تو اس نے صرف یہ کیا کہ انہیں سکول ہیڈمسٹرس سے ملنے کا کہا۔ ان کے بقول وہ ہیڈ مسٹرس صاحبہ سے دو تین بار مل کر خاصی عزت افزائی حاصل کر چکے تھے،اس لئے دوبارہ ملنے کا ان میں حوصلہ نہیں تھا۔ مَیں نے انہیں ہیڈ مسڑس صاحبہ کافون نمبر لانے کا کہا کہ خود بات کر لوں۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...