زرداری، بیماری ڈرامہ نہیں!

زرداری، بیماری ڈرامہ نہیں!
زرداری، بیماری ڈرامہ نہیں!

  



سواقعات اتنی برق رفتاری سے پیش آ رہے ہیں کہ بعض مسائل پر لکھنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی علالت جب سے ظاہر ہوئی، تب سے ان کے بارے میں کچھ کہنے کی کوشش تھی لیکن اس دوران کئی اور واقعات پیش آئے۔خصوصاً مولانا فضل الرحمن نے توجہ مبذول کرا لی۔ آصف علی زرداری جن کی وجہ شہرت سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید)کے حوالے سے کہی جاتی ہے۔ حقیقتاً علیل ہیں، لیکن ان کی طرف سے اس قدر احتجاج نہیں کیا جا رہا جتنا ان کی صحت کے حوالے سے ہے، البتہ اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج شروع کیا جبکہ ان کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری زیادہ مضطرب اور پریشان ہیں وہ ہر تاریخ سماعت پر ان سے کمرہ عدالت میں ملاقات کر لیتی ہیں۔

جہاں تک آصف علی زرداری کی علالت کا تعلق ہے تو وہ کافی عرصہ سے بیمار ہیں اور کئی امراض میں مبتلا ہیں۔ حراست میں نہیں تھے تو سیاست میں دلچسپی اور بہتر پرہیزی غذا کے ساتھ مسلسل طبی نگہداشت سے وہ چلتے پھرتے نظر آتے تھے، جہاں تک ان کی مسکراہٹ کا تعلق ہے تو یہ ان کے مزاج کا حصہ بن گئی ہوئی ہے۔ حراست سے پہلے بھی وہ چلتے پھرتے تھے واضح ہو جاتا تھا کہ ان کو کمر میں ضرور تکلیف ہے کہ تھوڑا سا جھک کر چلنا پڑتا تھا بہرحال گھر پر دیکھ بھال اور علاج کے باعث محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنے علیل ہیں۔ اس مرتبہ جب نیب کی حراست میں گئے اور وہاں سے جیل پہنچے تو ان کو وہ سہولتیں حاصل نہیں تھیں جو سابقہ ادوار میں پکڑے جانے اور جیل میں رہنے کے دوران تھیں، اس دوران ان کے ساتھ جو رہے وہ احوال بیان کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری کی اپنی شخصیت کیا ہے اس سلسلے میں ایک شہادت چودھری احمد مختار (سابق وفاقی وزیر) کی بھی ہے جو خود بھی زیر حراست تھے،

وہ کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری کراچی جیل میں تھے تو ان کو بھی وہاں رہنا پڑا اس دوران معلوم ہوا کہ آصف علی زرداری کا زیادہ وقت پڑھنے میں گزرتا ہے،جیل میں ان کی کوٹھڑی ایک لائبریری کی صورت اختیار کر گئی تھی اور وہ دنیا بھر میں شائع ہونے والی ہر متعلقہ کتاب منگوا لیتے تھے۔ چودھری احمد مختار کے بقول انہوں (احمد مختار) نے بھی اس حراست کے دوران ان کتابوں سے استفادہ کیا اور بہت کتابیں پڑھیں بعض کتابوں کے بارے میں تو خود آصف علی زرداری نے تجویز کیا انہی کے بقول آصف علی زرداری کبھی کبھار کتاب لکھنے کی بات کرتے، لیکن بعض امور ان کے آڑے آ جاتے تھے اور وہ رک جاتے۔ اسی حراست ہی کے حوالے سے تو محترم مجید نظامی نے ان کو مرد حر کہا۔ آصف علی زرداری نے حالیہ حراست پر بھی کوئی واویلا نہیں کیا بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والے ضمانت کی درخواستیں بھی واپس لے لیں کہ نیب تحقیقات کر لے۔

آصف علی زرداری سے ہمیں بھی واسطہ رہا کہ رپورٹنگ کے دوران کوریج بھی کرنا ہوتی تھی، یوں بھی اکثر ملاقاتیں مختلف نوعیت کی تقریبات کے موقع پر ہوجاتی تھیں، ہمیشہ مسکرا اور ہنس کر ملتے اور بات کرتے تھے، یہ آصف علی زرداری وہی ہیں جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایا تھا، یہ وہ وقت تھا جب سندھ میں جلاؤ گھیراؤ بھی شروع ہو چکا تھا اور لوگوں کے جذبات بھڑکے ہوئے تھے کہ اس سے پہلے باپ کا جنازہ راولپنڈی سے آیا تو اس بار صاحبزادی کفن میں لپٹ کر آئی تھی، کوئی احساس کرے یا نہ کرے، سندھ کے دیہی علاقوں میں جا کر دیکھ لے کر وہاں بے نظیر بھٹو کو شہید رانی کہا جاتا ہے اور یہ آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے اس حادثہ اور سانحہ کے بعد بھی مفاہمت کی سیاست کی اور اسی کے نتیجے میں پیپلزپارٹی نے پانچ سالہ دور پورا کیا اور پھر مسلم لیگ (ن) بھی مدت پوری کر گئی،

اسی سیاست اور مفاہمت کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو زبردست نقصان پہنچا کہ جیالے مفاہمت کی سیاست کے باعث ٹھنڈے ہو چکے تھے کہ یہ ان کا مزاج نہیں ہے۔آصف علی زرداری نے ایک ملاقات میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ محترمہ کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنا فرض جان کر ہی وہ عمل کیا جس کی ضرورت تھی ورنہ حالات اتنے زیادہ خراب ہو جاتے کہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچتا اس عمل سے بڑے نقصان سے بچا لیا گیا، ان کے بقول حالات ایسے تھے کہ بہت سے حلقے پس جاتے ان کا تویہ بھی دعویٰ ہے کہ ترقی پسند حضرات کو انہوں نے محفوظ کیا تھا۔

بہرحال یہ بحث کافی لمبی ہے۔یہ امر درست ہے کہ ان کی گہری مفاہمت نے جماعت کو نقصان پہنچایا اور اب ان کی حراست اور بیماری بھی ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو کی راہ میں آ رہی ہے اور وہ کھلی سیاست بھی نہیں کر پا رہے پارٹی کے لوگ مضطرب ہیں وہ زیرحراست نہ ہوتے تو شاید ایسی صورت حال پیدا نہ ہوتی جواب ہے۔

آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کا جس قدر شدید پروپیگنڈہ کیا گیا ویسے مقدمات یا ریفرنس تو نہیں بنے اور اب تک وہ جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے قید میں ہیں اور شدید علالت کے باوجود بھی ان کی ذات کے لئے کوئی نرم گوشہ بھی موجود نہیں ہے تاہم ابھی نوعیت الزام کی ہے کوئی بھی ثابت ہو کر جرم نہیں بنا۔ ایسے میں وہ سابق صدر کی حیثیت سے مکمل مراعات کے حق دار ہیں اور اسی میں علاج معالجہ بھی شامل ہے۔ اس لئے بلا تاخیر ان کو بھی مکمل طبی امداد ملنا چاہیے اور جو سہولتیں، آئین، قانون اور جیل کے قواعد کے مطابق ہیں، لیکن یہاں تو الٹا حساب ہو رہا ہے، ان کو زیادہ پریشان کیا جا رہاہے جیل حکام، حکومت کی اجازت سے ان کو خود اپنے خرچ پر بھی تو علاج کرانے دیا جا سکتا ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق خود اپنا علاج کرائیں۔

ان کو خود اپنے خرچ پر علاج کرانے دیا جائے اب وہ اپنے ان معالجین سے مشورہ نہیں کر سکتے،جو پہلے سے علاج کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ذمہ داری آصف علی زرداری ہی اٹھائیں۔آصف علی زرداری اور محمد نواز شریف کے حوالے سے بات عام قیدیوں کی بھی ہوئی تو جو بھی فرد جیل یا حوالات میں ہو گا وہ بیمار ہو تو علاج(ہر قسم کا) سرکاری خرچ پر ہی ہونا چاہئے۔اس میں کوئی کلام نہیں اگر نہیں ہوتا تو یہ بھی حکومتی کوتاہی ہے اور اس کا بوجھ محمد نواز شریف یا آصف علی زرداری پر نہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...