حکومت گلگت بلتستا ن آئینی حیثیت کا معاملہ حل کرے: سپریم کورٹ

حکومت گلگت بلتستا ن آئینی حیثیت کا معاملہ حل کرے: سپریم کورٹ

  



اسلام آباد(آن لائن) گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق وفاقی حکومت کی نظر ثانی  اپیل پر سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت دیکھ لے کہ حالات اچھے نہیں ہیں کہیں ایسا نہ ہو کوئی اور حالات پیدا کردیئے جائیں حکومت کو سوچنا چاہئے معاملہ کا حل کیسے کرنا ہے عدالت نے معاملہ پر وفاقی حکومت کی طرف سے سوچ و بچار کرتے ہوئے معاملہ غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا ہے، کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق معاملہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث ہے وفاقی حکومت کو غور و فکر کیلئے مزید وقت درکار ہے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت فیصلہ سنا چکی اب معاملہ حکومت کے سپرد ہے۔ وزارت بین الصوبائی رروابط کی طرف سے غیر ملکی سفارتخانوں کو بھیجی گئی بوگس ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ سرکاری افسران نے اداروں کوذاتی میراث سمجھ لیا ہے کیا مجاز افسران نشے میں دفتروں میں بیٹھتے ہیں،ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ مالی کے سپرد کیوں کردیاگیا، مالی کام کرے گا تو سیکرٹری تفریح کریگا، شرم اور بے غیرتی کی انتہا ہے سرکاری دفتروں میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،عدالت نے اس موقع پر آئندہ اس طرح کا واقعہ رونما ہونے کی صورت میں سیکرٹری ذاتی طورپر ذمہ دا  ہونے کی تنبیہ کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس مشیر عالم نے سوال اٹھایا کہ بتایا جائے کہ لیوی ٹیکس ہے یا نہیں، جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ لیوی کو سروس فیس کہہ سکتے ہیں، وکیل صفائی مخدوم علی خان نے بتایا کہ حکومتی موقف ہے کہ نیچرل گیس کی سروس پر فیس دی جائے یہ فیس ڈومیسٹک صارفین پر لاگو نہیں ہوگی، معاملہ کی بعد ازاں معاملہ کی سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔سرکاری گھروں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ نے تمام صوبوں اور آئی سی ٹی کو دو ماہ کے اندر تفصیلات جمع کرانے کا حکم جاری کردیا ہے،کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی دوران سماعت کے پی کے حکومت کی طرف سے معاملہ تازہ رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت طلب کی گئی سی ڈی اے وکیل نے موقف اپنایا کہ وفاقی پولیس نے سی ڈی اے کے دو سو کوارٹرز پر قبضہ جمایا ہوا ہے جس میں آئی جی اسلام آباد کی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ

مزید : پشاورصفحہ آخر