نوشہرہ میں کروڑوں کی ڈکیتی کا ڈراپ سین،چور گھریلو ملازم نکلا

 نوشہرہ میں کروڑوں کی ڈکیتی کا ڈراپ سین،چور گھریلو ملازم نکلا

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) نوشہرہ سوات سرامکس فیکٹری میں فیکٹری مالک کے گھر سے  کروڑوں روپے کی ڈکیتی کا ڈراپ سین واردات میں فرد واحد سابق گھریلو ملازم ملوث نکلا اور اکیلے ہی کروڑوں روپے لے اڑنے کی کوشش میں ناکام چند ہی روز میں ملزم نوشہرہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ملزم کا اقبال جرم تفصیلات کے مطابق سوات سرامکس شیدو کے مالک سید اظفر علی ناصر نے 25-10-2019   کو  اکوڑہ پولیس کو رپورٹ درج کرئی کہ وہ بمعہ اہل و عیال چند دن کیلئے کراچی گئے تھے واپس آکر دیکھا تو نامعلوم چور گھر کا چھت اور دروازوں  کے تالے توڑ کر 09کروڑ 72  لاکھ مالیت کی نقدی اور زیورات چوری کرے لئے گئے ہیں وقوعہ اطلاع پر  ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن (R) منصورا مان،SP انوسٹی گیشن سجاد خان  اور فرانزک انوسٹی گیشن یونٹ کے اراکین موقع پر پہنچے DIGمردان ریجن محمد علی گنڈا پورنے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن (R) منصورا مان کی سربراہی میں SHOاکوڑہ اورساجد اقبال ASIپر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی۔جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سائینسی اور تکنیکی بنیادوں پر کیس کی تفتیش کی اور 09 دن کے مختصر وقت میں ملزم کو ٹریس کر لیاتفتیش کے دوران سوات سرامکس فیکٹری کے 200 سے زائد ملازمین کی چانچ پڑتال کی گئی۔CCTV فوٹیج حاصل کی گئی فنگر پرنٹ اور موبائیل ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیاگیامورخہ 04-11-2019 کو ملزم مظہرمغل ولد مقبول مغل سکنہ مظفرآبادآزادکشمیرکو ان کے علاقے سے   گرفتار کرلیا گیااور ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے تمام حقائق اُگل دئیے اور اقرار جرم کر لیا۔ملزم 06 ماہ پہلے تک مدعیان کے گھر میں چوکیداری کر تا تھاملزم کی نشاندہی پر 01 کروڑ 45لاکھ روپے نقد،ڈیڑھ لاکھ ریال،80ہزار امریکی ڈالر،01لاکھ درہم  اور 03 کروڑ 74لاکھ مالیت  کے زیورات برآمد کر لئے برآمد شدہ مال مسروقہ کی کل مالیت 07کروڑ 62لاکھ بنتی ہیں جو نوشہرہ کی تاریخ کی سب سے بڑی اور خیبر پختونخواہ کی چند بڑی برآمدگیوں میں سے ایک ہے DIG مردان ریجن محمد علی گنڈا پور نے تفتیشی ٹیم کی انتھک محنت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ انشاء اللہ ملزمان کوعدالت سے قرار واقع سزا دلوائی جائے گی واضح رہے کہ واحد ڈکیت سے مزید 2کروڑاور 10لاکھ کی بھاری رقم کی عدم برآمدگی تعجب سے کم نہیں 

مزید : پشاورصفحہ آخر