افسران اپنے دفاتر کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھیں،ڈاکٹر کاظم

افسران اپنے دفاتر کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھیں،ڈاکٹر کاظم

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا ہے کہ گڈ گورننس کی بہتری کیلئے کام تیز کرنااور عوام کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے جس کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ تعارفی ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکبر خان،تمام ڈویژنل کمشنرز،سیکرٹری ریلیف عابد مجیداور سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تمام شرکاءسے تعارفی ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے شرکاءکو ہدایات جاری کےں کہ تمام سرکاری افسران عوام کے خادم ہیں اس لئے روزانہ کی بنیاد پر کم از کم تین گھنٹوں کیلئے اپنے دفاتر کے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھیں ، دور دراز کے علاقوں میں کھلی کچہری کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے اور عوام سے رائے جاننے کیلئے انٹرنیٹ ٹیلی کام ٹیک کا استعمال کریں ،قبضہ مافیا سے سرکاری اراضی کو فوری ضبط کرنے اور سرکاری بقایاجات کی واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کےں۔انہوں نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بی ایچ یوز و دیگر سرکاری محکموں کی انسپکشن پر بھی زور دیا اور کہا کہ باقاعدگی سے سرکاری ہسپتالوں کا معائنہ ، سکولز و دیگر تعلیمی اداروں کی انسپکشن کریں ، صحت کے معاملے میں افسران کوئی کوتاہی نہ برتےں اور ملیریا ،ڈینگی اور آوارہ کتوں کے خلاف مہم چلائیں ، شہریوں سے ذاتی موبائل پر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ،فرد ،اسلحہ لائسنس،برتھ و ڈتھ سرٹیفیکیٹ ،طلاق وغیرہ کا سرٹیفیکیٹ ،لینڈ میوٹیشن و ڈیڈ رجسٹریشن ،ہیلتھ ایمرجنسیز، ڈی ایچ کیوز اور رےسکیو 1122 کے حوالے سے عوام کی رائے جانئے متعلقہ محکمے کی خدمات سے شہری مطمئن ہےں یا نہیں ۔انہوں نے پولیو پر خاص توجہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالیں اور پولیو کا مکمل طور پر خاتمہ کریں اور اس کیلئے بچوں کوقطرے پلائیں اور باقاعدگی سے مانیٹرنگ بھی کریں۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے شرکاءکو فارسٹ مافیا ،مائنز مافیا اور تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے سختی سے تاکید کی کہ سرکاری ضبط شدہ اراضی اور اراضی کی قیمت کیا ہے ،غیر قانونی کان کنی وجنگلات کی کٹائی کی ریکوری اورجنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کےں کہ گندم کے گوداموں کی انسپکشن کریں اور گندم کی موجودگی کو یقینی بنائیں،غیر معیاری ادویات ،ملاوٹی اشیاء اور سرکاری نرخنامے سے زیادہ پرفروختگی کا نوٹس لیں خاص کر چینی،دودھ،آئل/گھی اور آٹا اورقانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کوقانون کے مطابق سزا دیں۔شہریوں کیلئے مختلف موسموں میں ثقافتی پروگرامز اور کھیلوں وغیرہ مثلاًسپورٹس ویک،سکولوں و کالجوں میں سپورٹس گالا کا بندوبست کیا جائے ،سرکاری محکمے اقلیتی و ادبی سوسائیٹیز،کمرشل ٹریڈاور ثقافتی فروغ کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔سرکاری اہلکار جشن آزادی،عید،کرسمس و دیگر تہواروں میں عوام کے ساتھ شریک ہوں ۔اسی طرح سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کے ساتھ روابط قائم کریں ۔صفائی ستھرائی اور سرکاری املاک کی مرمت کو بھی یقینی بنایا جائے،ٹرانسپورٹ اڈا ،پارکس،عوامی واش رومز اور قصائی دُکانوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے ۔تمام ضلعی انتظامیہ کلین گرین مہم کا آغازکریں اور اس ضمن میں آگاہی مہم بھی چلائیں۔،سڑکوں کی مرمت،کیٹ آئیز کا خاتمہ ،اسپیڈ بریکرز کا خاتمہ اور ندی نالوں پر بنے ہولز کو بند کریں تاکہ شہریوں کو گزرنے میں آسانی ہو،عوام کیلئے کم ریٹ پر ٹورزم اسپاٹ بنائےں جس میں ٹریکنگ ،ہائیکنگ اور پکنک اسپاٹ شامل ہوں۔ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں ٹورزم اسپاٹ قائم کریں تاکہ وہاں کے لوگوںکو اپنے اضلاع مےں سیر و سیاحت کا موقع ملے اور مزید کہا کہ تمام اضلاع میں جاری ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لیا کریں اورسکیمز کے متعلقہ اہلکاروں کو ہداےات دیں کہ ترقیاتی کاموں میں تیزی لائیں تاکہ عوام کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہاکہ تمام اضلاع میں چیرٹی آرگنائزیشن کی وساطت سے عوام کیلئے شیلٹر ہومز قائم کریں تاکہ مسافر اور بے گھر افراد اس سے مستفید ہوں

مزید : پشاورصفحہ آخر