ملاکنڈ میں گھی ملوں سے گیس کے بلوں میں مختلف ٹیکسوں کی وصولی روک دی گئی 

    ملاکنڈ میں گھی ملوں سے گیس کے بلوں میں مختلف ٹیکسوں کی وصولی روک دی گئی 

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ نے ملاکنڈ میں گھی ملوں سے سوئی گیس کے بلوں میں مختلف ٹیکسوں کی وصولی روک دی اورٹیکسوں کے خلاف دائررٹ پروفاق سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس ارشدعلی پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز ملاکنڈسے تعلق رکھنے والے صنعت کار وسیم شہزادکی رٹ پرجاری کئے اس موقع پر درخواست گذار کے وکیل اکبرخان نے عدالت کو بتایاکہ ملاکنڈمیں قائم گھی ملوں سے سوئی گیس کے بلوں میں مختلف نوعیت کے ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ پاٹا میں وفاق نے پانچ سال کیلئے تمام ٹیکسز معاف کئے ہیں اب سوئی گیس کے بلوں میں ٹیکسز ڈالے گئے ہیں جو لاکھوں روپے ہیں انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ فیڈرل بیورو آ ف ریونیو نے اس حوالے سے ایس آر او بھی جاری کیا ہے، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایس آراوکامقصدلوگوں کو روزگار دینے اور صنعت کاروں کوپاٹامیں سرمایہ کاری کے لئے ریلیف دیناہے لہذاوفاقی حکومت کااقدام کالعدم قرار دیا جائے دو رکنی بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد رٹ پٹیشن سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ایف بی آر کو نوٹس جاری کردیا جبکہ تاحکم ثانی گھی ملوں سے سوئی گیس کی بلوں میں مختلف ٹیکسوں کی وصولی روک دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...