60فیصد پاکستانی کمپنیوں کے پاس ایاٹا نہیں، منی میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی: عمر سراج اکبر

    60فیصد پاکستانی کمپنیوں کے پاس ایاٹا نہیں، منی میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی: ...

  



لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)حج2020ء کیلئے پاکستانی منظم کو زیادہ سے زیادہ  مدت کیلئے ویزہ دینے کی درخواست کی ہے،پرائیویٹ حج سکیم کے کوٹہ کی تقسیم جلد ہونے کیساتھ آن لائن نظام کی جلد فعالیت سے بہت سی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے،60فیصدپاکستانی کمپنیوں کے پاس ایاٹا نہیں ہے،پاکستانی وزارت الحج نے بھی ایاٹا کی لازمی شرط کے لیے وقت دینے کی تحریری درخواست کی ہے امید ہے کہ وقت مل جائے گا،حج2020ء کے لیے تیاریاں شروع ہیں،منٰی میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی،مکتب کے حوالے سے کام ہو رہا ہے،ضیوف الرحمن کی خدمت جتنی کی جائے وہ کم ہے،حج2020ء کا ماسٹر پلان تبدیل ہو گاان خیالات کا اظہار سعودی موسسہ جنوب ایشیاء کے وائس چیئرمین عمر سراج اکبر نے ہوپ پنجاب کی طرف سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ14ذو الحج سے پہلے مکہ سے روانگی کے خواہش مند موسسہ سے رابطہ کر سکتے ہیں ان کی معاونت کریں گے،پاکستانی حج آرگنائزر سعودی معلمین اور ٹرانسپورٹ کی ادائیگی بذریعہ آن لائن کریں، اس سے پہلے ہوپ کے سابق چیئرمین شاہد رفیق نے خطبہ استقبالیہ میں وائس چیئرمین موسسہ عمر سراج اکبر کو توجہ دلائی کہ گزشتہ سال کراچی قونصلیٹ نے منظم کو6ماہ کا ویزہ جاری کیا جبکہ اسلام آباد قونصلیٹ نے دو دو دن اور تین تین دن کا ویزہ دیا جس کی وجہ سے منظم کو حج انتظامات میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،ایاٹا کی لازمی شرط ختم کی جائے،پاکستان کو کم ازکم دو سال کی مہلت دی جائے کیونکہ ہم پاکستان حج مشن کے تحت کام کرتے ہیں،لازمی واجبات میں جو 294ریال اضافی عائد کر دئیے گئے ان کو ختم کیا جائے،امتیاز بھٹی،حاجی مقبول احمد،رانا شاہد نذیر،خرم ثقلین،طولب چودھری،ذیشان چودھری، جاوید اقبال،عابد رضا شیخ،یوسف پراچہ نے بھی سوالات کیے جس کا وائس چیئرمین موسسہ عمر سراج اکبر نے تسلی بخش جواب دئیے۔   

عمر سراج اکبر

مزید : صفحہ آخر


loading...