پیسہ پاکستان سے باہر قانونی طریقے سے گیا، چیئرمین ایف بی آر

    پیسہ پاکستان سے باہر قانونی طریقے سے گیا، چیئرمین ایف بی آر

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان سے باہر پیسہ غیرقانونی طریقے سے نہیں گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسد عمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بیرون ملک پیسہ غیرقانونی طریقے سے نہیں گیا۔انہوں نے کہا کہ 2018 سے پہلے کوئی بھی شخص ڈالر خرید کر باہر بھیج سکتا تھا، اس لیے پاکستان سے باہر پیسہ قانونی طریقے سے گیا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے، عملدرآمد ایف بی آر کے ملازمین کی مشاورت سے ہو گا جبکہ کسی بھی ملازم کو فارغ کرنا اصلاحاتی ایجنڈا کا حصہ نہیں ہے۔ جمعرات کو چیئرمین ایف بی آر اور ایف بی آر افسران میں غیر رسمی رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی کہ کسی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات متعارف کروانے سے پہلے افسران کو اعتماد میں لیا جائے گا جبکہ ایف بی آر سے افسران کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو گا، ایف بی آر میں اصلاحات کا منصوبہ وزیراعظم سے منظور ہو چکا ہے اور اصلاحات پر عملدرآمد میں ملازمین کی مشاورت سے ہو گا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ ہر حال میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کیلئے ملازمین کا اہم کردار ہے۔ اس موقع پر ملازمین کی جانب سے بھی چیئرمین ایف بی آر کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ٹیکس وصولیاں بڑھانے اور کرپشن کے خاتمے میں ہر طرح کا تعاون کریں گے، اس موقع پر ایف بی آر میں اصلاحات جلد سے جلد متعارف کرانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

شبر زیدی

مزید : صفحہ اول