جوڈیشل کمیشن ، حکومت تیار ، مولانا کا انکار ، مذاکرات کیلئے آنے والے وزیراعظم کا استعفا لے کر آئیں ، مولانا فضل الرحمن مطالبہ نا منظور : پرویز الٰہی

    جوڈیشل کمیشن ، حکومت تیار ، مولانا کا انکار ، مذاکرات کیلئے آنے والے ...

  



اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )آزادی مارچ اور دھرنے کا معاملہ حل کرنے کیلئے حکومت نے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش کردی، حکومت اپوزیشن کو یہ پیش کش سپیکر پنجاب چودھری پرویز الہٰی کے ذریعے کی گئی ، جوڈیشل کمیشن پارلیمانی کمیٹی سے بھی تحقیقات کرا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کو باضابطہ طور پر انتخابات کی تحقیقات کی پیشکش کر دی ہے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے بتایاکہ انتخابات مےں دھاندلی کی روک تھام کےلئے وزےر اعظم نے جوڈےشل کمےشن کے قےام ےا پھر پارلےمانی کمےٹی کے ذرےعے ٹی ا و آرز تےار کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ آزادی مارچ کے اختتام کے لئے مذاکرات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہےں ۔ استعفے کے حوالے سے مولانا پر ےہ بات واضح کر دی گئی ہے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ہم نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ جب ہم دھرنے مےں شرےک تھے تو آپ حکومت کی طرف سے مثبت پےغام لےکر آئے تھے ۔ اس وقت بھی استعفے کا مطالبہ تھا لےکن مےاں نواز شرےف نے استعفٰی نہےں دےا تھا اس لئے اس مطالبے کو نظر انداز کردےنا چاہےے۔ چوہدری پروےز الٰہی نے کہا کہ ےہ تاثر غلط ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اس دھرنے سے کچھ نہےں ملا بلکہ اصل حقےقت ےہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسمبلی مےں نہ ہوتے ہوئے بھی اپوزےشن لےڈر کی حےثےت سنبھال رکھی ہے ۔ مولانا نے اپنے مارچ کے ذرےعے اپوزےشن لےڈر شہباز شرےف کی حےثےت ختم کردی ہے ےہ مولانا کی بڑی کامےابی ہے۔ ا۔ انہوں نے بتاےا کہ پےپلز پارٹی جو ڈےشل کمےشن پر راضی نہےں ہے وہ چاہتے ہےں کہ پارلےمانی پارٹی کو مضبوط کےا جائے اس پر بھی وزےر اعظم نے کہا کہ اپوزےشن سے ملکر اصلاحات تےار کی جائےں ۔ چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ منتخب حکومت کے استعفے کا مطالبہ قبول نہیں، اس کے علاوہ ہر معاملے پر بات ہو سکتی ہے۔ باقی معاملات پر کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ حتمی نتیجے پر جانے کیلئے دو چیزیں رہ گئی ہیں۔ کوشش ہے جلد ازجلد یہ چیزیں حل ہو جائیں۔چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ آزادی مارچ مولانا فضل الرحمان کی بڑی کامیابی ہے۔ ۔ یہ واحد دھرنا ہے جس میں املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔ آزادی مارچ کے دوران ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہوئی۔ ثابت ہو گیا ہے کہ لڑائی جھگڑے کے بغیر بات منوائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بتا دیا ہے کہ جو دھرنے سے حاصل کر لیں گے، وہ فیس سیونگ ہوگی۔ نظام ختم ہوا تو مولانا فضل الرحمان کا بھی نقصان ہوگا۔ استعفے کے علاوہ دیگر معاملات پر جو چاہیں گارنٹی دے سکتے ہیںچودھری پرویز الہیٰ نے بتایا کہ بہتر نتائج کیلئے بار بار ملاقاتیں کی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں مذاکرات میں چودھری شجاعت ساتھ ہوں۔ رہبر کمیٹی کو مولانا فضل الرحمان بریف کرتے ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی کو میں بریف کرتا ہوں۔ اپنی اپنی جگہ ہم سب رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اصلاحاتی ایجنڈا لائے حکومت تیار ہے۔ وزیراعظم نے اصلاحات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت مشترکہ قانون سازی کیلئے بھی تیار ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں معاملہ کل حل ہو جائے۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سب پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں۔ بہت ساری تجاویز دی ہیں، امید ہے جلد نتیجہ نکلے گا اور خوشخبری ا?ئے گی۔ایک صحافی کے اس سوال پر کہ کیا مولانا فضل الرحمن وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ اور کیا انھیں جوڈیشل کمیشن پر تیار کر لیا گیا ہے؟ پرویز الہیٰ نے کہا کہ جلد اچھی خبریں دینگے۔ مولانا جس بات پر راضی ہونگے، وہی بات ہوگی۔دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ مولانا کو بہت ساری تجاویز دی ہیں ،جلد بہترنتیجہ نکلے گا، سب پرامید ہیں چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں، جلد خوشخبری سنائیں گے۔ دوسری طرف سربراہ رہبر کمیٹی اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ کچھ پتے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور حکومت کو سرپرائز دیں گے، آزادی مارچ کے حوالے سے تمام فیصلے رہبر کمیٹی کے توسط سے ہی ہوں گے، اپوزیشن کی جماعتیں حکومت سے صرف ایک ہی استعفیٰ چاہتی ہیں اور وہ استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کا ہے، رہبر کمیٹی نے حکومت پر مزید دباﺅ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور آزادی مارچ دھرنا دو روز بعد نیا رخ اختیار کرے گا، رہبر کمیٹی نے سخت موسم کے باوجود دھرنا مظاہرین کے ہمت و حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ سربراہ اکرم خان درانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس آزادی مارچ کے حوالے سے غور کیا گیا ہے جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ میں شریک شرکاءکے ہمت و حوصلے کو سراہا ہے کہ سخت سرد موسم میں وہ ڈٹے ہوئے ہیں جس پر رہبر کمیٹی کی جانب سے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت پردباﺅ مزید بڑھایا جائے گا جبکہ دباﺅ بڑھانے کےلئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا ہے جبکہ آئندہ کے فیصلے کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا، تمام جماعتیں آزادی مارچ کو جاری رکھنے پر متفق ہیں جبکہ آزادی مارچ میں شرکت کےلئے مزید قافلے بھی آرہے ہیں اور ان کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات زور وشور سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بارش کے بعد کے حالات پر ہمیں بھی افسوس ہے کہ ہم نے پہلے سے انتظامات نہیں کئے لیکن ہمارے کام اتنے زیادہ ہیں کہ ایک طرف توجہ کرتے ہیں تو دوسرا آجاتا ہے۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ آج رہبر کمیٹی نے تین تجاویز پر غور کیا ہے اور دو دن بعد آزادی مارچ نئے رخ پر نظر آئے گا، جبکہ کچھ پتے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور حکومت کو سرپرائز دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی چوہدری پرویز الٰہی کو واضح کردیا ہے کہ وہ فیصلے لینے کے مجاز نہیں اس لئے ان کی تمام تجاویز رہبر کمیٹی کو پیش کی جائیں گی اور رہبر کمیٹی ہی ہر چھوٹے اور بڑے فیصلے کرنے کی مجاز ہے، حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ایسا ڈیڈ لاک نہیں کہ بات چیت ہی ختم ہے۔ ہماری ٹیم تمام پارٹیوں کے سربراہوں سے رابطے میں ہے۔ ملاقاتوں کا انشا اللہ نتیجہ ضرور نکلے گا۔میڈٰیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو ثبوت دیں، بات آگے چلے گی۔ بغیر ثبوت کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کے وزیراعظم استعفی دیں۔ اس سے تو ایسا رواج بن جائیگا کہ ملک میں جمہوریت نہیں رہے گی۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن جب چاہے لے آئے ئیں۔اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 12 نومبر تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا شہباز شریف اور دیگر افراد کے ساتھ رابطہ ہے۔ پرویز الہیٰ صرف بات کررہے ہیں، فیصلہ انہوں نے نہیں کمیٹی نے کرنا ہے۔۔ مطابق جمیعت علمائاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے ملاقات کی۔ملاقات میں آزادی مارچ اور دھرنے کواٹھانے سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے مطالبات پر بات چیت کی گئی۔دوسری طرفجمعیت علمائے اسلام ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چودھری برادران کی پاکستانی سیاست میں ایک حیثیت ہے، کوشش ہے کہ ہم انہیں اس بات پر قائل کر سکیں کہ وہ تین ماہ میں نئے انتخابات کرانے کے لئے حکومت کو آمادہ کریں۔ایک انٹرویو میں حکومتی کمیٹی انتہائی کمزور ہے جو ہمارے مطالبات اپنی قیادت تک نہیں پہنچا سکتی۔سربراہ جے یو آئی ف نے واضح کیا کہ یہ ایک طے شدہ عمل ہے جس پر رعایت نہیں دی جا سکتی کہ یہ ایک دھاندلی کی حکومت ہے جسے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت کے ساتھ کسی بھی معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ اسی اثنا میںجمعیت علمائے اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے دھرنے کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کیلئے حکومت کی نئی حکمت عملی سامنے آئی ہے۔ چودھری پرویز الہیٰ کیساتھ ساتھ اب سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو بھی بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ انھیں مذاکرات کی کامیابی کیلئے نکات مرتب کرنے کا ٹاسک مل گیا ہے۔ وزیراعظم نے اسد قیصر کو قابل عمل اور قابل قبول نکات تیار کرنے کا ٹاسک سونپتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے نکات مرتب کیے جائیں جن سے مثبت نتائج مل سکیں۔سپیکر قومی اسمبلی نکات مرتب کرنے کیلئے اپوزیشن سے مشاورت کریں گے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کی معاونت سے متفقہ نکات تیار کیے جائیں گے۔

جوڈیشل کمیشن

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت اس اجتماع کو سنجیدہ لے، مذاکرات کی ضرورت نہیں، آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفا لیکرآئیں، کبھی کہتے ہیں دھاندلی کے لیے قومی کمیشن بنایا لیاجائے، جس چوری کی گواہ پوری قوم ہو اس کی تحقیق نہیں ہوتی اس پر استعفاہوتا ہے، اب وزیر اعظم کو کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کی چوری کی پوری قوم گواہ ہے اس لیے ہم جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کا آپشن مسترد کر تے ہیںآزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے امیر نے کہاکہ ہمارے دھرنے کے شرکا ءنے آئین و قانون کی پاسداری کی، کارکنوں نے نظم وضبط اور امن کا پیغام دیا ہے، آزادی مارچ نے مغربی میڈیا کا منفی تاثر زائل کر دیا۔ آزادی مارچ نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے پندرہ ملین مارچ پرامن طریقے سے کیے۔مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پورے ملک سے کنٹینر منگوائے، کنٹینرزکی وجہ سے ملک کوکروڑوں کانقصان پہنچایا گیا،، آزادی مارچ سے کوئی شہری پریشان نہیں ہوا، ہے کوئی ادارہ جویہ حساب لے، کل اگر امن خراب ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے پارٹی فنڈنگ کیس چل رہا ہے، یہ کیس زیر التوا ہے، بیرون ملک سے اکٹھا کیا گیا فنڈز کہاں گیا؟پاک فوج کے ترجمان کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ میرے متعلق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے۔ دوران تقریر آزادی مارچ کے شرکاءنے پاک فوج کے حق میں بلند شگاف نعرے لگائے۔آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن کے پاس دبئی میں 60 ارب کہاں سے آئے؟اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ان حکمرانوں کے خلاف فیصلہ نہیں کر پا رہا، دوسری جانب سینئر سیاستدانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں آصف علی زرداری کے لیے دعاگو ہوں، میری دعائیں ان کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے۔ جو ملک چلانے کے سلیقے جانتا ہے، ان کو جیل میں ڈال کر نااہل لوگوں کو مسلط کیا گیا۔ نااہلوں کو حکومت عطا کر دی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟ بنیادی طور پر سیاسی قیادت کی گرفتاری ناجائز عمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ٹاپ لیڈر شپ انتہائی قابل احترام ہے، ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا ہوا ہے، وہ انتہائی گرا ہوا کردار ہے جو اس وقت حکومت کے ایوانوں سے قوم کے سامنے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر قابض افراد پتھر دل لوگ ہیں جو سیاسی قیادت پر جبر روا رکھے ہوئے ہیں۔ ان سیاست دانوں کی عمر 70 سال سے بھی تجاوز کر چکی لیکن وہ استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'اب تک لوگوں کا جو جوش و خروش ہے وہ اپنی موجودگی سے یہ بتا رہے ہیں وہ یہاں تفریح کے لیے نہیں آئے، وہ ایک نظریے کے ساتھ آئے ہیں اور یہ ایک قوم کی آواز ہے لہٰذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے احتجاج کو نظر انداز کیا جائے اس لیے مارچ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔'انہوں نے کہا کہ 'ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے 26 جولائی 2018 سے کام شروع کردیا تھا، اب یہ صورتحال ہے کہ ملک میں ایسی بیداری آئی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں، اگر وہ ملک کے حالات میں بہتری لاتے تب لوگ ان کی حکومت کا شاید ساتھ دیتے لیکن ان کی حکومت میں ملک روز بہ روز تنزلی کی طرف جارہا ہے، ہم اس طرح کی جمہوریت چاہتے تھے؟ ہم نے قربانیاں اس جمہوریت کے لیے نہیں دی تھیں۔'ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا ہے اس لیے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ چاہتے ہیں کہ ان انتخابات کے لیے فوج کو بلکل نہیں بلایا جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'فوج کا ایک مقام اور عزت ہے اور گزشتہ حکومت کا انتخابات کے لیے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔'انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں مطالبات تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ مطالبات ہیں، دوبارہ انتخابات کا مطالبہ انہیں ہر صورت ماننا پڑے گا۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متعلق سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 'اسد قیصر کی کوئی حیثیت نہیں، وہ بھی میری طرح فقیر آدمی ہیں، ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے، حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے۔'مطالبات نہ مانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی، نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم جذبہ جہاد اور شوق شہادت لے کر گھروں سے نکلے ہیں جبکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہے پھر حکومت گھر جائے۔'انہوں نے کہا کہ 'ہم ڈیڈ لائن کھینچ چکے ہیں، ہم اس ناروا، ناجائز اور نااہل حکومت کو قبول نہیں کرتے۔'ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہے، ہم تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں لیکن اس حکومت کو قبول نہیں کر سکتے۔'

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول