ڈاکٹرز ہڑتال ختم کر دیں، عدالت پر جیل بھجوائیں گے: ہائیکورٹ

  ڈاکٹرز ہڑتال ختم کر دیں، عدالت پر جیل بھجوائیں گے: ہائیکورٹ

  



 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کو فوری طور پرپنجاب بھر میں ہڑتال ختم کرنے کا حکم دے دیا،معاملہ کے حل کے لئے10رکنی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جس میں دونوں طرف سے 5،5نمائندے شامل ہوں گے،مسٹر جسٹس جواد حسن نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خلاف دائر جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے قراردیا کہ آئین کے تحت ڈاکٹرز کی ہڑتال جائز نہیں، ہڑتال کرنے والے اب توہین عدالت میں جیل جائیں گے،فاضل جج نے قراردیا کہ جس آرڈیننس کے خلاف ہڑتال ہورہی ہے اب اس کا اطلاق نہیں ہوگا، قانون کا نیاڈرافٹ تیارکرکے عدالت میں پیش کیاجائے،کمیٹی کی رپورٹ تک ڈاکٹرہڑتال نہیں کریں گے اور حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی،اب قانون کے ڈرافٹ پر بات ہوگی، تمام لوگ بیٹھ کر مشاورت کریں، پروفیشنلز نے معاشرے کو اپنی خدمات دینا ہوتی ہیں،کمرہ عدالت میں ایک موقع پرشورکرنے پر فاضل جج نے ینگ ڈاکٹرز کو کمرہ عدالت سے باہرنکال دیا،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو تمام سٹیک ہولڈرز کو کمیٹی میں شامل کرکے مل بیٹھ کر معاملات کوحل کرنے کی ہدایت کی اورکہا کہ دونوں جانب سے پانچ پانچ نمائندے لئے جائیں،جن میں وائی ڈی اے، کالج آف فزیشن اور پاکستان میڈیکل کمشن کے نمائندے،ینگ ڈاکٹرز کے وکیل عابد ساقی اور سیکرٹری قانون بھی شامل ہوں گے،عدالت نے حکم دیا کہ کمیٹی 2روزہ ورکشاپ منعقد کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کو سن کر قانو ن کا مسودہ تیار کرے، عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ حتمی مسودہ 23نومبر کو عدالت میں پیش کیا جائے،ڈاکٹر اس دوران کسی بھی قسم کی ہڑتال نہیں کریں گے، گزشتہ روز علی الصبح کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پاکستان میڈیکل کمشن،کالج آف فزیشن اورینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے،سیکرٹری صحت نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ کچھ ہڑتالی ڈاکٹروں کو پہلے ہی اظہار وجوہ کے نوٹس جاری ہیں،جس پر عدالت نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ اس پر جواب دیں،فاضل جج نے ینگ ڈاکٹرز سے استفسار کیا کہ پہلے عدالت کو آگاہ کریں کہ ہڑتال ختم کررہے ہیں یا نہیں؟فاضل جج نے ینگ ڈاکٹرز سے کہا کہ وہ اپنے بڑوں سے مشورہ کرلیں،انہیں سوچ وبچار کیلئے آدھے گھنٹے کی مہلت دی جارہی ہے،عدالت کو سیکرٹری صحت مومن آغا نے بتایا کہ معاملے کے حل کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے،فاضل جج نے کہا ہڑتال تو اکتوبر سے چل رہی ہے،کمیٹی کل کیوں بنائی گئی؟سیکرٹری صحت نے کہا کہ یہ لوگ اب ایم ٹی آئی کے قانون کو ہی ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،ینگ ڈاکٹرز کے وکیل عابد ساقی نے کہا کہ او پی ڈی میں ہڑتال نہیں ہے، سیکرٹری صحت معاملے کو ڈرامائی انداز میں پیش کررہے ہیں،ینگ ڈاکٹرز قوم کا مستقبل ہیں،انہیں تحفظ ملنا چاہیے،سیکرٹری صحت نے کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی معاملے پرغورکررہی ہے،نیا قانون آرڈیننس سے بالکل مختلف ہوگا،فاضل جج نے سیکرٹری صحت سے پوچھا کہ کیا قانون بناتے ہوئے فریقین سے مشاورت کی گئی؟جس پر عدالت میں موجود ڈاکٹروں نے نو نو کے نعرے لگادیئے،ینگ ڈاکٹرز کے شورشرابہ کرنے پر پولیس کی مدد سے ینگ ڈاکٹر کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیاگیا،فاضل جج نے ڈاکٹروں سے کہا کہ ابھی آرڈیننس تو کچا ہے،آپ لوگ کیوں ہڑتال پر ہیں؟پروفیشن میں ہڑتال نہیں ہوتی، میں ہڑتال پر تفصیلی فیصلہ جاری کروں گا،عدالت نے سیکرٹری صحت سے کہا کہ ہڑتال کس وجہ سے ہوئی؟سیکرٹری صحت نے کہا کہ ڈاکٹرز نئے قانون کے خلاف ہڑتال کررہے ہیں، عدالت نے کہا کہ آپ معاملے کو مل بیٹھ کرحل کیوں نہیں کرتے؟اس وقت ڈینگی، سموگ سمیت دیگر صحت کے ایشو ہیں، سیکرٹری صحت نے بتایا کہ تین وائس چانسلرز نے ملاقات کی لیکن ڈاکٹر نہیں مانے، ڈاکٹرز پورا قانون ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،فاضل جج نے کہاعدالت میں موجود ہر شخص ڈاکٹروں کی ہڑتال سے متاثر ہے،عدالت نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ پہلے ہڑتال ختم کریں پھر بات چیت کریں، عدالت نے سیکرٹری قانون سے کہا کہ آپ ڈاکٹروں کے نکات کو قانون میں شامل کرلیں،قانون تو آپ نے بناناہے چاہے سخت بنائیں یا نرم،فاضل جج نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کیس میں عدالت نے چیف سیکرٹری کو متاثرین سے بات کرنے کا کہا جس کا مثبت نکلا، آپ بھی ایسا کریں،ڈاکٹروں کو بتائیں کہ ابھی تو آرڈیننس آیا ہے اسے قانون بننا ہے، فاضل جج نے ڈاکٹروں کے وکلاء سے کہا آپ بھی ڈاکٹرز کو سمجھائیں کہ ہسپتال خودمختار ہونے سے ان کا سٹیٹس متاثر نہیں ہوگا، سیکرٹری صاحب ڈاکٹرز کو ساتھ بٹھا لیں اور ان کو سمجھائیں کہ قانون میں کیا کیا ہوگا، وائی ڈی اے کو تحریری طورپرلکھ کردینا ہوگا کہ ہڑتال ختم کررہے ہیں، عدالت ایک کمیٹی بنا دے گی جو ڈاکٹرز کی بات سنے گی، ہڑتال کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی،فاضل جج نے کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے کہا کہ 12بجے تک ہڑتال ختم ہوگی، بارہ بجے تک ہڑتال ختم نہ کی تو اچھا نہیں ہوگا،مجھے پورے صوبے میں بارہ بجے تمام ڈاکٹرز ڈیوٹی پر چاہئیں،جس پر ینگ ڈاکٹرز کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہڑتال ختم کررہے ہیں،عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر کی ہڑتال اس وقت پری میچور ہے،جب تک مکمل قانون سازی نہیں ہوتی ہڑتال بلا جواز ہے،فاضل جج نے عدالت میں موجود ڈاکٹروں کو دیکھ کر ریمارکس دئیے افسوس کہ یونیفارم پہن کر ڈاکٹرز ہسپتال کے بجائے عدالت میں آگئے،جائیں جاکر ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کریں،جس پر ڈاکٹروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ پوسٹ گریجوایشن کے زیرتربیت طلبا ہیں،فاضل جج نے کہا کہ وکلاء بھی ہڑتال کرتے ہیں لیکن وہ اہم مقدمات میں پیش بھی ہوتے ہیں،ینگ ڈاکٹرز کے وکلاء نے دوران سماعت ڈاکٹروں کے شورشرابہ پرعدالت سے معذرت کی، فاضل جج نے کہا کہ اونچی آوازمیں ہمیشہ بزدل بولتے ہیں،وکلاء نے کہا کہ ڈاکٹرز صرف اپنا موقف بیان کرناچاہتے تھے،جذبات میں آنے کی معذرت چاہتے ہیں، ینگ ڈاکٹرز کے وکلاء نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز اچھا تاثر دینے کیلئے ہڑتال ختم کررہے ہیں،ہم اس سلسلے میں عدالتی حکم پر عمل کریں گے اور آج ہی ہڑتال ختم کردیں گے،ہم عدالت کے ساتھ کھڑے ہیں۔فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ سیکرٹری صحت کا قصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہواہے جب تک تمام سٹیک ہولڈرز نہیں بیٹھتے معاملہ حل نہیں ہوتا، ڈیوٹی کے اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے،اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، عدلت نے کمیٹی کوحتمی مسودہ اور رپورٹ 23 نومبر تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی،فاضل جج نے اس کیس کی مزید سماعت کیلئے 2دسمبر کی تاریخ مقررکی ہے،ینگ ڈاکٹرز میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس آرڈیننس اور پاکستان میڈیکل کمشن آرڈیننس کے خلاف ہڑتال کررہے ہیں،ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کے ذریعے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری سے علاج مہنگا ہوجائے گا اور ان کی ملازمتوں کی حیثیت بدل جائے گی۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کوجوڈیشل ایکٹوازم پینل نے ہائی کورٹ میں چیلنج کررکھاہے،فاضل جج نے مذکورہ سماعت کے بعد مزید کارروائی 2دسمبر پر ملتوی کردی،گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران پیرامیڈیکل سٹاف سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی ہائی کورٹ میں موجود تھی،جنہوں نے ہائیکورٹ کے احاطہ میں متنازع آرڈیننس کے خلاف نعرے بازی کی۔دریں اثناء ڈاکٹروں کی ہڑتالوں پر مستقل پابندی کیلئے بھی لاہورہائی کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کردی گئی ہے۔

ڈاکٹرز ہڑتال کیس

مزید : صفحہ اول