ملکی معیشت میں استحکام آچکا، مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے: عمرا ن خان 

ملکی معیشت میں استحکام آچکا، مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے: عمرا ن خان 

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عمران خان نے کہا ماضی میں سرکاری املاک کو موثر طریقے سے بروئے کار نہ لانا مجرمانہ غفلت تھی، موجودہ حکومت بطور پالیسی پر عزم ہے کہ سرکاری املاک کو عوامی فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لائے، موجودہ حکومت نے مشکل ترین حالات میں حکومت سنبھالی، معیشت کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنا ضروری تھے، مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے، آج ملک کی معیشت میں استحکام آ چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات اور بعدازاں صوبہ پنجاب کے امور سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت کی گئی۔پنجاب کے امور سے متعلق اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم، وزیر کوآپریٹیو مہر محمد اسلم، وزیر قانون پنجاب بشارت راجا، چیف سیکرٹری سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔ وزیرِ اعظم کو صوبہ پنجاب میں سرکا ر ی املاک عوامی فلاح و بہبود کیلئے برؤے کار لانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ایک ایسے ملک میں جہاں معیشت اور وسائل کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں صرف ہوتا ہو وہاں ماضی میں سرکاری املاک کو موثر طریقے سے برے کار نہ لانا مجرمانہ غفلت تھی، ڈیڈ ایسیٹ کو عوامی فلاح و بہبود کیلئے برے کار لاکر ان سے ہونیوالی آمدن کو معاشی عمل تیز کرنے اور نوکر یو ں کے مواقع پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائیگا، وزیرِ اعظم کو چیئرپرسن پنجاب کوآپریٹو بورڈ برائے لیکوڈیشن (پی سی بی ایل) بشری امان نے ادارے کے ملکیت میں مختلف املاک کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا پی سی بی ایل کی ملکیت میں 293املاک ہیں جن میں سے زرعی، کمرشل و رہائشی جائیدادوں پرمشتمل 98املاک نیلامی کیلئے فوری طور پر میسر ہیں۔ ان کی مالیت کھربوں روپے ہے۔ بقیہ املاک سے متعلق مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پی سی بی ایل کی نئی انتظامیہ نے گذشتہ چھ ماہ میں اربوں روپے کی املاک کو ناجائز قبضے سے واگذار کرایا ہے۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے پی سی بی ایل انتظامیہ اور وزیرِ قانون پنجاب کو ہدایت کی کہ ادارے کی املاک سے متعلقہ مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے کوششیں تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ عوام کو ریلیف فراہم، معاشی عمل تیزاور خصوصا نوجوانوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کیلئے کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔بعد ازاں اپنی ہی زیر صدارت عام آدمی کے زیر استعمال آنیوالی اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی، قیمتوں میں کمی  لانے کے حوالے سے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے اور یہ فرض پورا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم آمدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا باآسانی میسر آئیں۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کیلئے ان اشیا کی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عملدرآمد کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں وزیر مواصلات مراد سعید، معاون خصوصی ثانیہ نشتر، وفاقی سیکرٹریز خزانہ، انڈسٹریز، مواصلات، چیئر مین یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن ذوالقرنین علی خان، سی ای او این آئی ٹی بی سید شباہت علی شاہ اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اس موقع پر عام آدمی کے استعمال میں آنیوالی اشیائے ضروریہ مثلا آٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاو ل کی وافر فراہمی اور ان اجناس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان سے ہوا وے کے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین لی جی نے وفد کے ہمراہ جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سید زبیر حیدر گیلانی، سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا، سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ہوا وے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین نے وزیراعظم کو اپنی کمپنی کے نیٹ ورک کی توسیع اور ترقی کے حوالے سے آگاہ کیااور بتایا ان کی کمپنی نے ایک نیا ایکو سسٹم کامیابی سے قائم کیا ہے تاکہ اس شعبہ میں جن کمپنیوں کی اجارہ داری ہے، ان پر انحصار سے آزاد ہوا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت تجارت کی طرف سے نئی ای پالیسی کے تحت پیدا ہونیوالے کاروبار کے وسیع مواقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمپنی کو اس شعبہ میں کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پاکستان کے ذہین نوجوانوں کو تکنیکی شعبوں میں کام کے مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ ملاقات میں کمپنی کے مینوفیکچرنگ یونٹس پاکستان منتقل کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہوا وے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین لی جی نے کہا وہ پاکستانی طلبہ کی ذہنی صلاحیتوں اور قابلیت سے بہت متاثر ہیں، ان کی کمپنی نے نمل کے طلباء کو میرٹ ایوارڈز دینے کا پروگرام شروع کر رکھا ہے۔

وزیر اعظم

مزید : صفحہ اول