پاک فوج کو متنازعہ بنانے کی سازش؟

پاک فوج کو متنازعہ بنانے کی سازش؟

  



21ویں صدی کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے شکایت کرنے والے سوشل میڈیا کی کارستانیوں اور مہم جوئی پر سر پکڑے بیٹھے ہیں، الیکٹرانک میڈیا سے تو گِلا تھا کہ ریٹنگ کے نام پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں معاشرے کی اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے تمام حدیں پھلانگ رہا ہے، عملی طور پر دیکھنے میں آیا۔ الیکٹرانک میڈیا بھیڑ چال کا شکار ضرور ہوا، مگر اہل ِ دانش کی توجہ اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے تیزی سے اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے، مگر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بالمقابل آنے والا سوشل میڈیا کا آفریت سر چڑھ کر بول رہا ہے، جدھر کو منہ کر رہا ہے چیر پھاڑ رہا ہے، کوئی ادارہ کوئی اخلاقی قدر محفوظ نہیں رہی۔

پاکستان میں ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو قیام پاکستان سے آج تک پوری دُنیا کی طاغوتی قوتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔یہ وہی ادارہ ہے، جس نے وطن ِ عزیز کی سرحدں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دشمن ممالک کے اندر سے اٹھنے والی سازشوں کو بھانپتے ہوئے اس کا بروقت اور موثر توڑ کیا ہے۔ وطن ِ عزیز کا قیمتی اثاثہ پاک فوج کا ادارہ ہے جس کی ایجنسیاں وطن ِ عزیز کے مختلف کونوں میں بیرونی قوتوں کی لگائی ہوئی آگ کو نہ صرف بھجا رہی ہیں، بلکہ سازشیں کرنے والوں کی سرکوبی بھی کر رہی ہیں، افغانستان کی طویل جنگ ہو،”را اور موساد“ کی سدا بہار سازشیں ہوں، بلوچستان اور سندھ میں جنم لیتی علیحدگی کی تحریکیں ہوں سب سے نہ صرف آگاہ ہیں،بلکہ ان کا بروقت منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ پاکستان کا فخر آئی ایس آئی جس نے قیام پاکستان سے اب تک سینہ تان کر وطن ِ عزیز کا تحفظ کیا ہے، اس لئے پاک فوج کے جانوں کی قربانیاں نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔ پاکستانی قوم اور اس کی سیاسی جماعتیں اور74سالہ جمہوری اقدار کی تاریخ تو یہ ہے سیلاب آ جائے تو فوج کی ضرورت،بجلی کا بحران آ جائے تو فوج کی ضرورت،دہشت گردی کا واقع ہو جائے تو فوج کی ضرورت، ٹرین کا حادثہ ہو جائے تو فوج کی ضرروت،بجلی کے بلوں کی ترسیل سے لے کر ملک میں آنے والی ہر آفات کا مقابلہ فوج کے بغیر ممکن نہیں ہے، دُنیا بھر کے دشمنانِ دین اور طاغوتی قوتوں کا واحد ٹارگٹ بھی ہماری پاک فوج اور اس کی ایجنسیاں ہیں، جب وہ سیدھے طریقے سے ہماری فوج کی قوت بہادری، دانشمندی سے اٹھائے ہوئے اقدامات کا مقابلہ نہیں کر سکتی تو پھر ہمارے اندر سے غداروں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے اور ہم ہیں کہ سب سے سستے بکنے والے چند روپوں کی خاطر ہم سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں یہی کچھ آج کل ہمارے ملک میں جاری ہے، ہماری ایک لاکھ فوج ایک ملک کی سرحد کے ساتھ مصروف ہے،دو لاکھ فوج کے جوان دوسرے دو ممالک کے ساتھ ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔طویل بارڈر پر باڑ لگانے میں ہزاروں سپاہی مصروف ہیں،روزانہ کی بنیاد پر مختلف سیکٹر میں فائرنگ اور گولہ باری کی جا رہی ہے ان حالات میں پاک فوج کو ملک کے اندر سے تقویت ملنی چاہئے، سپورٹ ملنی چاہئے، ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، نئی روایات کو جنم دیا جا رہا ہے، جمہوریت کا راگ الاپنے والی قوتیں فوج کو بدنام کرنے، متنازعہ بنانے کے لئے مہم جوئی میں مصروف ہیں۔خوفناک مہم جوئی میں سوشل میڈیا سرفہرست ہے، مگر الیکٹرانک میڈیا کے بعض اینکر بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے بے وقت کے دھرنے کے آغاز سے کشمیر کاز کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ شاید کئی سو سال تک نہ ہو سکے۔ دس دن پہلے تک پورے ملک میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہو رہا تھا، تین ماہ سے یرغمال مائیں، بہنیں بڑی خوش تھیں کہ ہمارے مسلمان پاکستانی بھائی ہمارے لئے سڑکوں پر ہیں، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اقوام متحدہ میں موثر انداز میں مقدمہ لڑے جانے کے بعد پاکستان کے ساتھ دُنیا بھر کے مسلمانوں میں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک نیا رنگ لے رہی تھی کہ وزیراعظم کے استعفیٰ اور فوج کے بغیر انتخابات اور قومی اسمبلی کی تحلیل کرنے کا آزادی مارچ شروع کر دیا گیا جو اب چھ دن سے دھرنے میں تبدیل ہو چکا ہے، کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی تحریک دم توڑ چکی ہے۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، دانشور حضرات اور کالم نویس حضرات کے پاس صرف دھرنا اور وزیراعظم کا استعفیٰ اور پاک فوج کے بغیر الیکشن کا اعلان باقی رہ گیا ہے، عوام کی کسمپرسی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری کے خاتمے کا کوئی مطالبہ نہیں ہے، آزادی مارچ میں اعلان ہوا کہ ہم آزادی مارچ کو مذہبی نہیں بنائیں گے۔ اب12ربیع الاول کو دھرنے کے مقام پر سیرت کانفرنس کے بعد قرآن پاک ہاتھوں میں لے کر ڈی چوک کی طرف مارچ کے اعلان نے نیا ڈھونڈورا بکس کھول دیا ہے، دھرنے کے سٹیج سے پاک فوج اور آرمی چیف کو زبردستی گھسیٹنے کی کوششوں کی وجہ سے پاک فوج کے ترجمان کو دو دفعہ دفاعی پوزیشن میں مداخلت کرنا پڑی ہے کہ ہمارا سیاسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 27اکتوبر کے تاریخی دن جو قیام پاکستان سے اب تک کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے، سے آزادی مارچ شروع کرنے والے شرمندہ ہونے کی بجائے، اب سکھوں کی مذہبی عبادت گاہوں کو بھی 9نومبر کے ساتھ مشروط کر کے پاک فوج کو دوبارہ سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک حلقہ صبح دوپہر شام کرتارپور کوبابا گورو نانک کی راہ داری کی بجائے مرزائیوں کی آمدروفت کا راستہ قرار دے رہا ہے، حالانکہ ڈی جی آئی ایس پی آر واضح کر چکے ہیں کہ کرتار پور راہداری ون وے ہے، آنے والے اسی راستے سے واپس جائیں گے مگر بے شرمی سے سوشل میڈیا پر مہم جوئی جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے سٹیج سیکرٹری علامہ سومرو کے سینئر صحافی کے ساتھ انٹرویو میں حاضر شرکاء دھرنے کی تعداد کی مبالغہ آرائی سن کر مَیں سکتے میں آ گیا ہو۔ مولانا سومرو فرماتے ہیں پہلے دن سے آج تک 15لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں۔ عالم دین کے فرمان کے بعد بندہ کس کو سچا اور کس کو جھوٹا کہے۔ قیام پاکستان سے اب تک ایک ہی مطالبہ سیاسی جماعتیں کرتی چلی آ رہی تھیں، شفاف الیکشن کرانا ہے تو فوج کی نگرانی میں کرایا جائے۔ فوج کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کو ہی شفاف قرار دیا جاتا ہے،جب فوج کے سپاسی پولنگ اسٹیشن کے باہر تعینات ہوتے تھے ان کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا، آفات میں ہماری لاشیں اٹھانے والے، زلزلے میں ہمارے مکان بنانے والے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانیں دنیے والے پاک فوج کے جوانوں سے اب ہماری سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اتنی الرجک ہو گئی ہیں کہ الیکشن سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایک بات ہماری سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو سوچ سمجھ لینی چاہئے ہماری فوج ہے تو پاکستان ہے،دشمن ِ دین ہمیں ایک دن برداشت نہیں کر سکیں گے۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے ہم بازاروں اور سکولوں میں جانے کے قابل نہیں رہے تھے، فوج کی 70 جانوں کی قربانیوں کے بعد امن ہمیں ملا ہے اب اگر ہم اپنی تباہی بربادی پر خود مہر ثبت کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمارا خدا ہی حافظ ہے۔قومیں اپنی افواج کی پشت بانی کرتی ہیں نہ کہ ان کے خلاف سازش کرتی اور ان کو متنازعہ بنانے کی مہم جوئی۔

مولانا کے دھرنے کا المیہ یہ بھی ہے مولانا کو بھی اب تک پتہ نہیں لگ رہا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں، کیا وہ وطن ِ عزیز میں جاری لولی لنگڑی جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا عزم لے کر آئے ہیں، کیا آئندہ کے لئے 50سے 60ہزار افراد کا جتھہ لے کر وزیراعظم ہاؤس پر قبضے کی نئی روایات متعارف کرانے آئے ہیں۔تاریخ لکھی جا رہی ہے سب سے آسان کام کسی بھی فرد کو دشمن کا آلہ کار اور مرزائی قرار دینا ہے جو اب تک ہوتا آ رہا ہے۔ امریکہ بہادر سمیت پوری دُنیا کی نظریں ہماری پاک فوج کے کردار پرلگی ہوئی ہیں، اس کو متنازعہ بنانے اور دفاعی پوزیشن میں لانے کے لئے اربوں خرچ کئے جا رہے ہیں، افسوس کہ جو بیرونی قوتیں نہیں کر سکیں وہ ہم کر رہے ہیں۔عمران خان آج ہے کل کوئی اور ہو گا، اسے کام کرنے نہیں دیا جائے گا تو مولانا آپ کو کون کام کرنے دے گا، آپ کو گرانے کے لئے بھی پیسے لے کر گروہ تیار ہیں خداراہ فوج ہے تو ملک ہے، ملک ہے تو ہم ہیں۔ یہ وقت فوج کے خلاف سازشیں کرنے کا نہیں، فوج کے خلاف سازشوں کا حصہ دار بننے کا مقصد ہے کہ بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنیں۔ یہ دھرنا وزیراعظم نہیں، بلکہ فوج کے خلاف ہے، ان خبروں کا بھی نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...