اتنخابی دھاندلیوں کی تحقیقات، حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار، اپوزیشن جب چاہے تحریک عد م اعتماد لے آئے، پرویز خٹک دھرنا دو روز بعد نیا رخ اختیار کریگا، سرپراز دینگے: اکرم درانی 

اتنخابی دھاندلیوں کی تحقیقات، حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار، اپوزیشن جب ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) آزادی مارچ اور دھرنے کا معاملہ حل کرنے کیلئے حکومت نے انتخابی دھاندکیوں کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش کردی،  حکومت اپوزیشن کو یہ پیش کش سپیکر پنجاب چودھری پرویز الہٰی کیذریعے کی گئی، جوڈیشل کمیشن  پارلیمانی کمیٹی سے بھی تحقیقات کرا سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی صرف بات کررہے ہیں، فیصلہ انہوں نے نہیں کمیٹی نے کرنا ہے۔پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ہمارے ممبران کا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور دیگر افراد کے ساتھ رابطہ ہے، اپوزیشن جب چاہے تحریک عدم اعتماد لے آئے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاہم ڈیڈ لاک وزیراعظم کے استعفے اور جلدالیکشن پر ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کا مکمل اختیار دیا تھا۔سربراہ رہبر کمیٹی اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ کچھ پتے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور حکومت کو سرپرائز دیں گے، آزادی مارچ کے حوالے سے تمام فیصلے رہبر کمیٹی کے توسط سے ہی ہوں گے، اپوزیشن کی جماعتیں حکومت سے صرف ایک ہی استعفیٰ چاہتی ہیں اور وہ استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کا ہے، رہبر کمیٹی نے حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور آزادی مارچ دھرنا دو روز بعد نیا رخ اختیار کرے گا، رہبر کمیٹی نے سخت موسم کے باوجود دھرنا مظاہرین کے ہمت و حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔  سربراہ اکرم خان درانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس آزادی مارچ کے حوالے سے غور کیا گیا ہے جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ میں شریک شرکاء کے ہمت و حوصلے کو سراہا ہے کہ سخت سرد موسم میں وہ ڈٹے ہوئے ہیں جس پر رہبر کمیٹی کی جانب سے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت پردباؤ مزید بڑھایا جائے گا جبکہ دباؤ بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا ہے جبکہ آئندہ کے فیصلے کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا، تمام جماعتیں آزادی مارچ کو جاری رکھنے پر متفق ہیں جبکہ آزادی مارچ میں شرکت کیلئے مزید قافلے بھی آرہے ہیں اور ان کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات زور وشور سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بارش کے بعد کے حالات پر ہمیں بھی افسوس ہے کہ ہم نے پہلے سے انتظامات نہیں کئے لیکن ہمارے کام اتنے زیادہ ہیں کہ ایک طرف توجہ کرتے ہیں تو دوسرا آجاتا ہے۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ آج رہبر کمیٹی نے تین تجاویز پر غور کیا ہے اور دو دن بعد آزادی مارچ نئے رخ پر نظر آئے گا، جبکہ کچھ پتے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور حکومت کو سرپرائز دیں گے۔  انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے تمام فیصلے رہبر کمیٹی کے توسط سے ہی ہوں گے جبکہ فضل الرحمان نے بھی چوہدری پرویز الٰہی کو واضح کردیا ہے کہ وہ فیصلے لینے کے مجاز نہیں اس لئے ان کی تمام تجاویز رہبر کمیٹی کو پیش کی جائیں گی اور رہبر کمیٹی ہی ہر چھوٹے اور بڑے فیصلے کرنے کی مجاز ہے، حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ایسا ڈیڈ لاک نہیں کہ بات چیت ہی ختم ہے۔ ہماری ٹیم تمام پارٹیوں کے سربراہوں سے رابطے میں ہے۔ ملاقاتوں کا انشا اللہ نتیجہ ضرور نکلے گا۔میڈٰیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو ثبوت دیں، بات آگے چلے گی۔ بغیر ثبوت کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کے وزیراعظم استعفی دیں۔ اس سے تو ایسا رواج بن جائیگا کہ ملک میں جمہوریت نہیں رہے گی۔ تحریک عدم اعتماد جب چاہیں لائیں۔اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 12 نومبر تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا شہباز شریف اور دیگر افراد کے ساتھ رابطہ ہے۔ پرویز الہیٰ صرف بات کررہے ہیں، فیصلہ انہوں نے نہیں کمیٹی نے کرنا ہے۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سب پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں۔ بہت ساری تجاویز دی ہیں، امید ہے جلد نتیجہ نکلے گا اور خوشخبری ا?ئے گی۔ایک صحافی کے اس سوال پر کہ کیا مولانا فضل الرحمن وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ اور کیا انھیں جوڈیشل کمیشن پر تیار کر لیا گیا ہے؟ پرویز الہیٰ نے کہا کہ جلد اچھی خبریں دینگے۔ مولانا جس بات پر راضی ہونگے، وہی بات ہوگی۔دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ مولانا کو بہت ساری تجاویز دی ہیں،جلد بہترنتیجہ نکلے گا، سب پرامید ہیں چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں، جلد خوشخبری سنائیں گے۔  مطابق جمیعت علمائاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے ملاقات کی۔ملاقات میں آزادی مارچ اور دھرنے کواٹھانے سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے مطالبات پر بات چیت کی گئی۔دوسری طرفجمعیت علمائے اسلام ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چودھری برادران کی پاکستانی سیاست میں ایک حیثیت ہے، کوشش ہے کہ ہم انہیں اس بات پر قائل کر سکیں کہ وہ تین ماہ میں نئے انتخابات کرانے کے لئے حکومت کو آمادہ کریں۔ایک انٹرویو میں حکومتی کمیٹی انتہائی کمزور ہے جو ہمارے مطالبات اپنی قیادت تک نہیں پہنچا سکتی۔سربراہ جے یو آئی ف نے واضح کیا کہ یہ ایک طے شدہ عمل ہے جس پر رعایت نہیں دی جا سکتی کہ یہ ایک دھاندلی کی حکومت ہے جسے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت کے ساتھ کسی بھی معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے دعا گو ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میری دعائیں آصف علی زرداری کے لیے ہیں،اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے،یہ اس وقت ملک کی ٹاپ لیڈر شپ ہے اور انتہائی قابل احترام ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا ہوا ہے وہ انتہائی گرا ہوا کردار ہے جو اس وقت حکومت کے ایوانوں سے قوم کے سامنے آرہا ہے،جو ملک چلانے کے سلیقے جانتا ہے ان کو جیل میں ڈال دیا گیا جو نااہل ہیں انہیں مسلط کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ نااہلوں کو حکومت عطا کردی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟،اس وقت ملک پر قابض افراد پتھر دل لوگ ہیں جو سیاسی قیادت پر جبر روا رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن سیاست دانوں کی عمر 70 سال سے بھی تجاوز کرچکی لیکن وہ استقامت کا مظاہرہ کررہے ہیں،بنیادی طور پر سیاسی قیادت کی گرفتاری ناجائز عمل ہے،حکمران خود اتنے بڑے چور اور کرپٹ ہیں کہ 60 درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کرچکے۔ انہوں نے کہاکہ انکی 60 کی 60 درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس کے باوجود الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ نہیں کرپا رہا،دوسری جانب سینئر سیاستدانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے ادھر وفاقی دارالحکومت کے شہریوں نے انسانی ہمدردی کے تحت آزادی مارچ کے  شرکاء میں گرم کپڑے اور کھانا تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ جمعرات کو سروے میں شرکاء نے میڈیا کو بتایا کہ ہم اپنی قیادت کے حکم پر کراچی سے آئے ہوئے ہیں جب تک مولانا نہیں کہتے اس وقت تک ڈٹے رہیں گے اور وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ لے کر جائیں گے، جب ان سے موسم کی شدت کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رات وہ گاڑیوں کی سیٹوں پر سو کر گزارتے ہیں جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیراعظم نے کیا سہولیات فراہم کیں تو آزادی مارچ کے شرکاء نے بتایا کہ رات بجلی بند کر دی جاتی ہے، نہ پانی ہے، نہ کوئی دوسری سہولت، ہمیں وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے، ویسے بھی انہوں نے سیاسی بیان دیا حقیقت میں کچھ بھی نہیں کیا۔

جوڈیشلکمیشن

مزید : صفحہ اول