کے الیکٹرک 3 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کیلئے پر عزم

  کے الیکٹرک 3 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کیلئے پر عزم

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک آئندہ چار سالوں کے دوران اپنی پوری ویلیو چین میں 3ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے کراچی اور اس کی ترقی کیلئے پرعزم ہے۔ یہ بات کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر، عامر غازیانی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران بتائی۔ اس سیشن کے دوران کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسرمونس علوی اور کے الیکٹرک کی اعلیٰ قیادت کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔اس موقع پر سیشن کے شرکاء کو کمپنی کی مالی کارکردگی اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی اور ریکوری میں مسلسل بہتری سمیت جاری آپریشنل بہتری کے بارے میں بھی بتایا۔ یہ بہتری مالی سال 2009 سے مالی سال 2019ء تک کی گئی 2.4ارب امریکی ڈالر اور محض پچھلے تین سال میں کی گئی 960ملین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر نے یہ بھی بتایاکہ بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے پوری ویلیو چین کے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری نہایت اہم ہے جس میں RLNG سے چلنے والا900MW کا بن قاسم پاور اسٹیشن III اور کوئلے سے چلنے والا 700MW کا انڈیپنڈنٹ پاور پروجیکٹ اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سے تعلق رکھنے والے پروجیکٹ شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک کا 45 کروڑامریکی ڈالر سے زائد لاگت کا TP-1000 پراجیکٹ بھی تیزی کے ساتھ کامیابی کے مراحل طے کررہا ہے جس میں 7 گرڈ اسٹیشنز اور ان سے منسلک بجلی کے تاروں اور سسٹمزکے ذریعے ٹرانسمیشن کی صلاحیت میں 1000 MVAs سے زائد کا اضافہ ہو گا۔ TP-1000 پراجیکٹ کے تحت اب تک، 4 گرڈ اسٹیشنز اور 22ٹرانسفارمرزکو آن لائن کیا جا چکا ہے۔اس کے بعد ٹرانسمیشن کے چنددیگر پروجیکٹس بھی ہیں جو نیٹ ورک کومزید قابل بھروسہ بنانے کے علاوہ ٹرانسمیشنکی صلاحیت میں بھی مزید اضافہ کریں گے۔ سیشن میں 300فیڈرز اور 5,000 سے زائد ٹرانسفارمرز کے اضافے کے ذریعے ڈسٹری بیوشن کی صلاحیت کو بڑھانے سے متعلق پاور یوٹیلیٹی کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔اس کے علاوہ، سیشن میں 2023 تک 15000 پی ایم ٹیز کی ایرئیل بنڈلڈ کیبلز پر منتقلی کے ذریعے کے الیکٹرک کے نیٹ ورک کو قابل بھروسہ بنانے اورنقصانا ت میں کمی کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔ شرکاء کو کراچی میں پیک پاور ڈیمانڈ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جس میں، مالی سال 2012ء سے مالی سال 2018ء کے درمیان کمپاؤنڈ سالانہ گروتھ (CAGR) کی بنیاد پر5.2فیصداضافہ ہو اہے جب کہ ملک کے باقی حصوں میں یہ شرح 2.4فیصد ہے جس سے مستقبل میں کے الیکٹرک کی ترقی کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں جو، آئندہ چار برسوں کے دوران، اس کی جارحانہ اور حکمت عملی پر مبنی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر منحصرہیں۔ سیشن کے اختتام پر کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے شرکاء کا شکریہ ادا کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر /میٹروپولیٹن 4


loading...