نیب خیبر پختونخو ا اختیار ات کا غلط استعمال کر رہی ہے: جسٹس مسرت ہلالی 

نیب خیبر پختونخو ا اختیار ات کا غلط استعمال کر رہی ہے: جسٹس مسرت ہلالی 

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مس مسرت ہلالی نے کہا ہے کہ نیب خیبر پختونخوا اختیارات کاغلط استعمال کررہی ہے ہر شکایت پرانکوائری شروع کردی جاتی ہے جبکہ اس حوالے سے نیب کے  رولز اور قواعدوضوابط موجود ہیں فاضل بنچ نے یہ ریمارکس گذشتہ روز ریلوے کی اراضی فروخت کرنے کے الزام میں نیب کے ہاتھوں گرفتارپٹواری عمران کی ضمانت پررہائی کے لئے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران دئیے فاضل بنچ نے اس موقع پر دلائل مکمل ہونے پرپٹواری عمران کوضمانت پررہا کرنے کے احکامات جاری  کئے قبل ازیں عدالت کوبتایاگیاکہ پٹواری عمران پرریلوے کی اراضی فروخت کرنے کاالزام ہے تاہم نیب کے پاس اسے گرفتارکرنے کاکوئی جوازنہیں جس پرنیب کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ پٹواری نے غلط رپورٹ دی اس بناء  ریلوے نے کمپلینٹ کی تھی جس پرجسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ  نیب جس کے خلاف بھی شکایت آئے اس کے پیچھے پڑھ جاتاہے جبکہ جسٹس اکرام اللہ نے کہاکہ نیب مس یوز آف اتھارٹی کر رہی ہے پٹواری کے خلاف محکمانہ انکوائری بھی ہو سکتی ہے قانون اس حوالے سے کلئیر ہے جسٹس اکرام اللہ نے نیب کے وکیل کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پٹواری کو گرفتار کیا ہے کیا ملزم کو کمپنسیٹ کرسکتے ہیں آرٹیکل196  خود بھی پڑھیں اور اپنے لیگل ایڈوائزر کو بھی پڑھائیں بعدازاں فاضل بنچ نے ملزم کوپانچ لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرنے کے عوض رہاکرنے کے احکامات جاری کردئیے۔

مزید : صفحہ اول