حکومتی مذاکراتی ٹیم سے معاملات سنبھالے نہیں جا رہے ہیں: حیدر ہوتی 

حکومتی مذاکراتی ٹیم سے معاملات سنبھالے نہیں جا رہے ہیں: حیدر ہوتی 

  



مردان (بیورورپورٹ)سابق وزیراعلیٰ اوراے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدرامیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم سے معاملات سنبھالے نہیں جارہے،چوہدری برادران کے بیک ڈور چینل کے ذریعے مذاکرات کی اہمیت ذیادہ ہے،سیاسی مسائل سیاسی انداز میں حل ہونے چاہئے،ڈیڈلاک سے صرف حکومت کو نقصان نہیں بلکہ سسٹم کو نقصان پہنچے کا خدشہ ہے وہ انڈسٹریل اسٹیٹ مردان میں پارٹی کی ضلعی صدر حاجی لطیف الرحمان کی ماربل فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے مولانا صاحب کو پہلے ہی بتادیاتھاکہ ان کی پارٹی کی آزادی مارچ میں شرکت 31اکتوبر تک محدود ہوگی ان کاکہناتھاکہ رہبر کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے اور وہ جوبھی فیصلہ کرے گی اس کو فالو کیاجائے گا انہوں نے کہاکہ تلخ سیاسی ماحول میں منظم آزادی مارچ نئی سیاسی روایت قائم کی ہے پی ٹی آئی کے دھرنے میں سول نافرمانی کے اعلانات ہوئے،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے ہوئے جبکہ مولاناکے دھرنے میں معاہدے کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے کارکن صفائی تک کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت اگر پہلے دن سے معاملات خراب نہ کرتی تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہ پڑے امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان کہتے کچھ او رکرتے کچھ ہیں قول وفعل میں تضاد اورحکومتی رویہ سے مایوسی پھیل گئی ہے انہوں نے کہاکہ دھاندلی کے خلاف انتخابی کمیٹی کا ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ٹی او آرز تک نہیں بنے اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر نے کہاکہ حکومت بردباری کا ثبو ت دیں سیاسی مسائل ضد اور زور سے حل نہیں کئے جاتے حکومت کی مذکراتی ٹیم سے معاملات سنبھالے نہیں جارہے یہی وجہ ہے کہ چوہدری برادران کو میدان میں اتار اگیاہے اوربیک ڈور چینل سے معاملات کے حل کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی معاملات سیاسی طورپر حل کرنے کی ضرورت ہے ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو حکومت سمیت سسٹم کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

مزید : صفحہ اول