عمران خان مسلط رہے تو پورا ملک ڈی چوک بن سکتا ہے: نثار کھوڑو

عمران خان مسلط رہے تو پورا ملک ڈی چوک بن سکتا ہے: نثار کھوڑو

  



لاڑکانہ (خصوصی نامہ نگار) پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور صوبائی مشیر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان اپنے ضد کی وجہ سے ملک پر مزید مسلط رہے تو پورا ملک احتجاجی طور پر ڈی چوک بن سکتا ہے۔۔ تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کے عمران خان ملک کی جان چھوڑیں اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں۔وہ جمعرات کو لاڑکانہ میں اقلیتوں کی چیکس تقسیم کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کو سب جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور وفاقی حکومت اکیلی ہوچکی ہے۔استعفیٰ نہ دینے کی باتیں کرنے والے عمران خان جلد آمر پرویز مشرف کی طرح استعفیٰ دے دینگے۔ آمر پرویز مشرف بھی کہتے تھے کے وردی ان کی کھال ہے استعفیٰ نہیں دونگا مگر ان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اب عمران خان کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوگا جیسے پرویز مشرف آؤٹ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ این آراو کی رٹ لگانے والے عمران خان کو اب  عوام این آراو نہیں دینگے۔ وزیراعظم عمران خان دھاندلی کی پیداوار ہیں جس میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں۔ تبدیلی سرکار کا مشن ملک سے غریبوں کا خاتمہ ہے، ملک و عوام کی بہتری نہیں ہے۔ عمران خان کی صورت میں ملک  میں سول ڈکٹیٹرشپ کی حکمرانی مسلط کردی گئی ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ  وفاقی حکومت نے عوام کو مایوس کردیا ہے۔  اگر ملک میں مہنگائی کا یہ طوفان جاری رہا تو ملک صدیوں پیچھے چلا جائے گا۔  عوام مہنگائی اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے عمران خان سے بے زار ہو چکے ہیں اس لئے تبدیلی سرکار کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔  اگر عمران خان نے ملک اور عوام کی جان نہیں چھوڑی تو پورا ملک احتجاجی طور پر ڈی چوک بن سکتا ہے۔ ملک میں قبل از وقت شفاف انتخابات کرواکر عوام کو جمہوری حکومت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ مہنگائی سے عوام چیخ رہے ہیں اور عوام سے جینے کا حق بھی چھینا گیا ہے اب عوام کی طاقت سے حکمرانوں کی چیخیں نکلیں گی۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو اپنی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی سہولیات سے محروم کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کے آصف علی زرداری کے علاج کے لئے ان کے مرضی کے ڈاکٹرز کو رسائی دی جائے۔  وفاقی وزرا دھرنے والوں کے متعلق دھمکیوں والے بیانات دے کروزیراعظم کو اور رسوا کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دینا چاہتی اور حکومت کو آرڈیننس فیکٹری کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ حکومت کشمیر کے مسئلے پر بھی ناکام ہوچکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ فاطمہ بھٹو گڑھی خدابخش میں اپنے والد اور شہدا کی مزاروں پر فاتحہ کے لئے آئی تھی باقی سیاسی مقابلے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں آئندہ بھی ہم سیاسی مقابلہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہوا سے سستی بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو وفاقی پاور ڈویژن نے تاخیر کا شکار کردیا ہے۔ وفاقی حکومت مسائل کی نشاندہی ہونے کے باوجود سندھ کو حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ارسا میں بطور وفاقی ممبر، اوگرا اور این ٹی ڈی سی میں بھی سندھ کو نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ اقلیتی برادری ہو یا کوئی اور رنگ نسل فرقے سے بالاتر ہوکر خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی غربت کے خاتمے پر یقین رکھتی ہے جبکہ تبدیلی سرکار ملک سے غریبوں کا خاتمہ چاھتی ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ ملک بھر میں اب عوام کی امید بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ بلاول بھٹو پورے ملک کے عوام کی آواز بن چکے ہیں۔ نئے انتخابات میں عوام بلاول بھٹو کو وزیراعظم بناکر دکھائینگے۔

مزید : صفحہ اول


loading...