سرکاری ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہے :ڈاکٹر عذرا پیچوہو

سرکاری ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہے :ڈاکٹر عذرا پیچوہو

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیرِ صحت حکومتِ سندھ محترمہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہو نے کہا ہے کہ صوبے میں تمام مقامات کے سرکاری اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہے، چھاچھرو میں بھی سگِ گزید گی (کتے کے کاٹے) کی ویکسین دستیاب ہے، لوگوں کے ذہنوں میں عمومی تاثر ہے کہ کراچی میں علاج کی بہتر سہولتیں ہیں، اس لیے لوگ کراچی آتے ہیں، ڈینگی لاروا کے خاتمے کے لیے اسپرے کیا جارہا ہے، مزید بہتری کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دی جارہی ہے، گرمیوں کی شدت کے باعث ڈینگی مچھروں کی تعداد کم نہیں ہو رہی، سردی آنے کے نتیجے میں ان کی تعداد میں کمی واقع ہوگی، ڈا یونیورسٹی کی ریسرچ کے نتیجے میں سانپ کے کاٹے کی ویکسین کی پیداواری صلاحیت حاصل کرلی ہے، یہ ایک اچھی کاوش ہے، یونیورسٹیز کا کام ریسرچ ہے، انہوں نے یہ باتیں ڈا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے معین آڈیٹوریم میں جاری چھٹی بین الاقوامی کانفرنس برائے فزیکل میڈیسن اینڈ ریہیبلیٹیشن سے خطاب اور میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہیں، ان کے ہمراہ ڈا یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، پرو وائس چانسلر پروفیسر خاور سعید جمالی، رجسٹرار امان اللہ عباسی، انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیلی ٹیشن کی ڈائر یکٹر پروفیسر نبیلہ سومرو اور دیگر بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس برائے فزیکل میڈیسن ملک میں ذہنی وجسمانی معذورین کے علاج اور ان کی بحالی میں معاون ثابت ہوگی، اس کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، قبل ازیں کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ڈا یونیورسٹی کا مرکز برائے معذورین (آئی پی ایم این آر)بہترین سہولتیں فراہم کر رہا ہے، ایسے بحالی مکمل سہولتوں کے حامل مراکز کی پورے پاکستان کے اضلاع اور خاص طور پر سندھ کے ہر ضلع میں قائم کرنے کی ضرورت ہے، انہو ں نے کہا کہ پاکستان کے ذہنی و جسمانی معذوری کے شکار افراد کا حق ہے کہ ان کا علاج کرکے انہیں نارمل انسان بنایا جائے خاص طور پر پیدائشی طور پر کسی ایسی معذوری کا شکار بچے کا حق ہے کہ اسے علاج کی سہولت دی جائے، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلی سندھ کے معاونِ خصوصی برائے بحالی معذورین سید قاسم نوید قمر شاہ نے کہا کہ سماعت سے محروم افراد کو ڈرائیونگ لائسنس دے رہے ہیں، اس سلسلے میں تمام قانونی کاروائی مکمل ہوچکی ہے، ڈا یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد نے کہا کہ فزیکل میڈیسن اور بحالی معذورین کاکام مشکل اس لحاظ سے ہے، اس میں نتائج سست رفتاری سے سامنے آتے ہیں اور ڈاکٹر کو دنیاوی لحاظ سے کوئی صلہ یا ستائش فوری طور پر نہیں ملتا، لیکن یہ ایسی خدمت ہے جس کا صلہ اللہ کی طرف سے ضرور ملتا ہے، قبل ازیں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس سے دنیا کے مختلف ملکوں سعودی عرب، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا و دیگر سے سترہ ماہرین نے بھی خطاب کیا، کانفرنس سے خطاب میں ان ماہرین کا کہنا تھا کہ دنیا کی آبادی کا 15فیصد مختلف قسم کی معذوری سے متاثر ہے ان میں سے 2تا 4فیصد کو معمولاتِ زندگی کا انجام دہی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمگیر سطح پر دیکھا جائے تو آبادی و عمر بڑھنے اور پیچیدہ امراض کے باعث دنیا میں معذورین کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ معذورین کی بحالی کے طریقوں میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معذوری کی ڈھائی فیصد (2.5فیصد) شرح ہے اور اس کے بڑھنے کی وجہ شوگر، بلند فشارِ خون، بچوں کی قبل از ولادت کے دوران پیچیدگیاں، بم دھماکے، زلزلے، ٹریفک حادثات اور تشدد کے بڑھتے واقعات ہیں، ان ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی چھٹی مردم وخانہ شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں معذورین کی تعداد میں 0.48فیصد کمی آئی ہے، تاہم معذورین کے متعلق کوئی قابلِ اعتبار اور جامع اعداد وشمار دستیاب نہیں، موثر قانون سازی اور پالیسز کے لیے اس قسم کے اعداد و شمار ضروری ہوتے ہیں، انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر ذہنی اور جسمانی طور پر رویے اور سماجی مسائل کا سامنا رہتا ہے، کانفرنس سے آسٹریلیا سے آئی ہوئی ڈائریکٹر ری ہیبلی ٹیشن کنسلٹنٹ پی ایم آری، رائل میلبرن اسپتال میلبرن ڈاکٹر فریس خان،پروفیشنل فیلو یونیورسٹی آف ملیبرن ڈاکٹر میری پی گالیا، یونیورسٹی میڈیکل اسکول ترکی سے ڈاکٹر لیونٹ اوزکاکر ہیلٹپی،کنسلٹنٹ پی ایم آری ڈائریکٹر کنگ فہد میڈیکل سٹی ریاض کے ڈاکٹر ظہیر عباس قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا، قبل ازیں گذشتہ دو روز کے دوران پری کانفرنس ورکشاپ اور فری hearing campکا بھی انعقاد کیا گیا، تدریسی شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ طلبا کے ساتھ ایک interctive sessionبھی کیا گیا، plannary sessionمیں سترہ قومی و بین الاقوامی ری ہیبلی ٹیشن کے ماہرین نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا، بعد ازاں 14مقالے اور 34پوسٹر ز بھی پیش کئے گئے۔ کانفرنس میں سوسائٹی آف فزیکل میڈیسن اینڈ ریہیبلی ٹیشن کی سالانہ میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں مریضوں کو ری ہیبلیٹیشن کی مصنوعات کی کم نرخوں پر فراہمی پر زور دیا گیا، کانفرنس میں بین الاقوامی، قومی ودیگر زندگی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا2000افراد نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول


loading...