بچوں میں غذائی قلت کے اسباب، ڈائریا، نمونیا، ملیریا اور دیگر بیماریاں ہیں: ڈی سی عمر کوٹ

بچوں میں غذائی قلت کے اسباب، ڈائریا، نمونیا، ملیریا اور دیگر بیماریاں ہیں: ...
بچوں میں غذائی قلت کے اسباب، ڈائریا، نمونیا، ملیریا اور دیگر بیماریاں ہیں: ڈی سی عمر کوٹ

  



عمرکوٹ ( سید ریحان شبیر )  چیف سیکریٹری سندھ کی ہدایت پر بنائی گی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی نیوٹریشن (ڈی سی سی این)کے چیرمین ڈپٹی کمشنر عمرکو ٹ ندیم الرحمان میمن کی صدارت میں ڈپٹی کمشنر آفیس کے دربار ہال میں اجلاس منعقد کیا گیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ندیم الرحمان میمن نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت ختم کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈر کو ساتھ مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا حکومت سندھ نے غذائی قلت ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور 2016 سے 2026 تک یہ پروگرام بنایا گیا ہے جس میں تمام محکموں کو اپنی زمہ داریاں بہتر اور احسن طریقے سے ادا کرنا ہو ں گی۔

انہوں نے کہا بچوں میں غذائی قلت کے اسباب، ڈائریا، نمونیا، ملیریا اور دیگر بیماریاں ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے جسم کا سوکھ جانا،چھوٹے قد ہو جانا اوردیگر بیماریاں ہیں جس کے لیے خصوصی طور پر ان بچوں کی خوراک پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نیوٹریشن کی قلت کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ غذائیت کی قلت والے بچوں کے گھر وں کے لیے بکریاں، مرغیاں اور مچھلی قسم کرنے کے لیے ایک مکمل منصوبہ بندی کی گی ہے جو مختلف این جی اوز اور دیگر منسلک محکموں کے تعاون سے دئے جائیں گے جس کے لیے ایک مکمل سروے میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور ضلع عمرکوٹ میں کل 935 غذائی قلت والے متاثرخاندانوں کے بچوں میں تقسیم کئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ضلع میں کل 15 تالات مچھلی پالنے کے لیے محکمہ فیشریز کی نگرانی میں بنائے گے ہیں جہاں مستحق بچوں کو مچھلی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پاپولیشن عمرکوٹ مہینے کے آخری ہفتہ میں فیملی ہیلتھ میلا لگائے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع میں ایک مانیٹرنگ اینڈ ایوینشین سیل قائم کیا جائے گا جو ضلع کے تمام سیکٹروں میں جاری نیوٹریشن پروگرام کی نگرانی کرئے گا، اس موقع پر نونیسف کے نیوٹریشن آفیسر ڈاکٹر مظہر اقبال نے کہا کہ سندھ میں ضلع عمرکوٹ میں نیوٹریشن کی کمی والے بچوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے جس کے لیے عملی کام کرنے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے اس پروگرام سے منسلک تمام محکمے اپنے فوکل پرسن مقرر کریں، انہوں نے کہا کہ نیوٹریشن کی کمی کو ختم کرنے کے لیے اسکولوں میں بچوں کو مکمل طریقے سے ہاتھ دھونے سکھایا جائے جس کے لیے ضلع میں کل 200  سکولوں میں واش بیسن لگائے جائیں گے۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ نیوٹریشن آفیسر ڈاکٹر محبوب علی سمیجھو نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پیدائش کے فوری بعد ایک گھنٹے کے اندر ان کی ماں کا دورھ پلایا جائے اور تقریبن ایک ہزار دن یعنی دو سال تک ان کی خوارک پر مکمل توجہ دی جائے تاکہ تمام بچے کمزور نہ ہو سکے، اس موقع پر پلانگ اینڈ ڈولپمینٹ محکمہ کے مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن اسٹیبلیش شوکت علی نے کہا کہ حکومت سندھ نے نیوٹریشن کی قلت کو ختم کرنے کے لیے ٹاسک فورم سیکریٹریٹ بنائی گی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈر اس پروگرام کی منتھلی رپورٹ ہر ماہ کی پانچ سے دس تاریخ تک ٹاسک فورس اور ضلع مانیٹرنگ سیل کو ارسال کریں تاکہ سندھ میں غذائی قلت کو ختم کیا جا سکے،اس موقع پر اجلا س میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون حق نواز شر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر الھداد، چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک، ڈی او سیکنڈری، ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر، پی پی ایچ آئی انچارج، شفا فاؤنڈیشن انچارج، سامی فاؤنڈیش کے انچارج اور دیگر محکموں کے آفسران نے شرکت کی۔

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ