تاریخی بابری مسجد کا تاریخی کیس، فیصلہ کل سنایا جائیگا،ہندوستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

تاریخی بابری مسجد کا تاریخی کیس، فیصلہ کل سنایا جائیگا،ہندوستان بھر میں ...
تاریخی بابری مسجد کا تاریخی کیس، فیصلہ کل سنایا جائیگا،ہندوستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

  



نئی دہلی(ڈیلی پاکستان  آن لائن)بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کیس پر فیصلہ  کل ( ہفتہ کے روز) سنائے گی،پہلے بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے درمیان تنازع کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاتھااور امکان تھا یہ فیصلہ 17 نومبر سے قبل سنایا جائے گا تاہم اب یہ فیصلہ ہفتہ کو آرہا ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنگن گوگوئی اس کیس کا فیصلہ سنائیں گے،بھارتی چیف جسٹس نے سیکیورٹی صورتحال پر اتر پردیشن کے اعلی حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی صورتحال بگڑنے کے پیش نظر ایودھیامیں پہلے ہی سیکڑوں افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ حکام کو خدشہ ہے کہ فیصلے سے فرقہ ورانہ فسادات پھوٹ سکتے ہیں ۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنگن گوگوئی کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے دلائل کو نمٹاتے ہوئے فریقین کو 3 دن کے اندر اپنا تحریری بیان دینے اور تحفظات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی ۔واضح رہے کہ یہ بھارت کی تاریخ کا دوسرا طویل ترین کیس ہے جس کی 40 سماعتیں ہوئیں جس کے بعد بھارت کی عدالت عظمی نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔قبل ازیں بابری مسجد سے متعلق کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے بھارتی سپریم کورٹ میں ہندو مہاسبھا پارٹی کی جانب سے دلائل کے لیے مزید مہلت سے متعلق دائر درخواست مسترد کر دی تھی۔بھارتی چیف جسٹس دہائیوں سے زیرِ سماعت اس کیس کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ تھے، جس میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہونی چاہیے یا نہیں؟۔

مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیا میں سنہ  پندرہ سو اٹھائیس میں ایک مقامی فوج کے کمانڈر نے بنوائی تھی۔بہت سے ہندوں اور ہندو مذہبی رہنماں کا دعوی ہے کہ کہ بابر نے یہ مسجد ایودھیا میں ان کے بھگوان رام کے پہلے سے قائم ایک مندر کو توڑ کر اس کی جگہ تعمیر کروائی تھی۔ان کا ماننا ہے کہ بابری مسجد کے مقام پر ہی بھگوان رام کی پیدائش ہوئی تھی اور اس لیے مسجد کی زمین کی ملکیت مندر کی ہے۔یہ تنازع انیس ویں صدی میں انگریزوں کے دورِ حکمرانی میں سامنے آیا تھا لیکن پہلی بار یہ کیس سنہ  اٹھارہ سو پچیاسی میں فیض آباد کے کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا۔اس وقت کمشنر نے مسجد اور اس کے احاطے پر ہندوں کے ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔آزادی کے بعد دسمبر  انیس سو انتالیس کی ایک رات بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے نیچے مقام پر بگھوان رام کی مورتی رکھ دی گئی۔جس کے بعد مزید کشیدگی میں اضافہ ہوگیا اوراس ماحول میں اس مسجد پر تالا لگا دیا گیا اور وہاں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مقامی مسلمانوں نے  واقعے کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور وہاں سے مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد ہندوں نے بھی مسجد کی زمین پر ملکیت کا مقدمہ دائر کیا۔سنہ  انیس سو اسی کے عشرے کے اواخر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں آر ایس ایس سے وابستہ وشوا ہندو پریشد کے توسط سے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع ہوئی تھی ،چھ دسمبر  انیس سو بانوے کو اسی تحریک کے تحت ایودھیا میں جمع ہونے والے ہزاروں ہندوں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا اور اس منہدم مسجد کے منبر کے مقام پر دوبارہ مورتیاں نصب کر دیں گئیں اور وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا گیا۔اس وقت سپریم کورٹ نے اس متنازع مقام کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کیا تاکہ حالات مزید کشیدہ ہونے کے بجائے جوں گے توں رہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...