بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ، مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیں:ڈاکٹر ظفر مرزا

بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ، مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیں:ڈاکٹر ظفر مرزا
بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ، مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیں:ڈاکٹر ظفر مرزا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزانے کہاہے کہ 538 ارب کی لاگت سے  غذائی اجزاء کی کمی کے حوالے سے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے، ہمارے بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ ہے، مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیں،40 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے کوتاہ قدی کے شکار ہیں ۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی مشترکہ صدارت میں غذائی اجزاء کی کمی اور کوتاہ قد(پست قد) پر قابو پانے کیلئے اجلاس ہوا۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے صحت اور پلاننگ کے سیکرٹریز اور نیوٹریشن پر کام کرنے والے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس سے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت صحت نے 538 ارب کی لاگت کا جامع پروگرام ترتیب دیا ہے ہمارے بچوں کی غذائی قلت ایک المیہ ہے مجموعی طور ہم سب ذمہ دار ہیںکیونکہ ہم سب نے نیوٹریشن کے حوالے سے بہت کم کام کیاہے پاکستان میں بچوں کی شرح اموات میں سب سے اہم غذائی اجزاء کی کمی ہے بچوں کی نشو و نما میں حائل غذائی قلت پر قابو نہ پایا تو قومی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکیں گے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا 40 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے کوتاہ قدی کے شکار ہیں جو ذہنی نشو و نما اور صلاحیتوں میں کمی کا سبب ہے انہوں نے کہا بحیثیت مجموعی بیماریوں کو صحت کے تناظر میں دیکھنا ہو گا بیماریوں کا روک تھام اس وقت ممکن ہے جب ہم اس پر خرچ کریں گے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا نیوٹریشن کے جامع پروگرام کو عملی شکل دینے سے پہلے صوبے اپنی سفارشات 15 نومبر تک وزارت صحت کو ارسال کریں 30 نومبر تک اس پی سی ون کی گرانٹ کی منظوری سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے حاصل کی جاے گی تاکہ 2020 سے اس کی منظوری لے کر کام شروع کیا جا سکے پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ صحت کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا ہے غذائی قلت اور کوتاہ قد پر قابو پانے میں  صوبوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ ڈاکٹر ظفرمرزا  نے کہا صحت مند بچے مستقبل کے پاکستان کا سرمایہ اور ترقی کا راز ہیں ترقی حاصل کرنے کے لیے ہم نے آج اس طرف توجہ دینی ہو گی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...