پولیس کے حق میں بات کرنا مشکل

پولیس کے حق میں بات کرنا مشکل
پولیس کے حق میں بات کرنا مشکل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سیاست دانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے اور شاید درست ہی کہا جاتا ہے، وہ اس قدر اچھے ہوتے ہیں کہ جس قدر ان کے حامی بتلاتے اور نہ اتنے برے جتنے ان کے مخالف بیان میں لاتے ہیں یہی حال ہر محکمے یا شعبے کا ہے افراد اچھے ہوتے ہیں اور برے بھی! اچھے اچھے برے برے!پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھی ملا جلا رجحان ہے۔


سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی عمر شیخ  نے کالی بھیڑوں پر چن چن کر ہاتھ ڈالا ایسا نہیں کہ ان کے سابقہ ریکارڈ پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں، مگر معاشرے میں ہم عصروں نے کس کو اور کب بخشا؟ آر پی او ساہیوال ڈی آئی جی طارق عباس قریشی پولیس کی آبرو اور روشن حوالہ! موصوف جہاں بھی رہے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دیانت دار اہل کاروں کی حوصلہ افزائی اور بددیانتوں کی حوصلہ شکنی میں ہمیشہ پیش پیش! جس جگہ بھی تعینات  رہے، اب تک لوگ نیک نامی کی رعایت سے یاد کرتے ہیں۔


انتہائی قابل، فرض شناس، متحرک اور باکردار پولیس افسروں کی بات چھڑی ہے تو مجھے بے ساختہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور عبدالغفار قیصرانی  ڈی پی او حافظ آباد ایس پی سید حسنین حیدر  اور ڈولفن فورس لاہور کے ایس پی میاں راشد ہدایت اللہ یاد آ گئے۔ علم دوست، انسان دوست، عوام دوست اور وطن دوست اپنی اپنی جگہ پر سب ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہیں۔ محکمے میں بھلا ان سا کون اور کہاں ہے؟


نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں قریباً ہر قابل ذکر شخص اپنے تئیں دودھ کا دھلا اور فرشتہ سیرت جتلاتا ہے۔ پولیس کی بدنامی میں میرے شعبہئ صحافت سمیت ہر کسی نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ ہر موقع پر پولیس کو رگیدا جاتا ہے۔ یہ مکمل منفی رویہ ہے، اسے اب ختم ہو جانا چاہئے ایک لمحہ کے لئے تصور کیجئے کہ کسی وقت پولیس غیر فعال ہو جاتی ہے تو کیا ہوگا؟ ان کے ہوتے جہنم کی صورت پیش کر رہی ہے، خدانخواستہ ان کی عدم موجودگی میں نقشہ؟……منفی آرا کی یلغار میں مثبت بات کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے تاریک راہوں میں کسی چراغ کا ٹمٹمانا! لیکن یہ فرض بھی تو کسی نے ادا کرنا تھا۔ 

مزید :

رائے -کالم -