کورونا کے وار اور سیاست کی گرم بازاری

کورونا کے وار اور سیاست کی گرم بازاری
کورونا کے وار اور سیاست کی گرم بازاری

  

ایک طرف کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف سیاسی جلسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ”یک نہ شد دو شد“ کے مصداق اپوزیشن تو جلسے کر ہی رہی تھی حکومت نے بھی پے در پے جلسے کرنے کی عادت اپنا لی ہے۔ حافظ آباد میں تو وزیراعظم عمران خان کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے لوکل چھٹی کر دی گئی۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے، جب این سی او سی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دوبارہ پابندیاں لگا رہی ہے اور 20نومبر سے میرج کلبوں میں اِن ڈور تقریبات پر بھی پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ غالباً حکومت اپوزیشن کے جلسوں سے نروس ہو گئی ہے، اس کا خیال ہے کہ اگر ان جلسوں کا جواب جلسوں کی صورت میں نہ دیا گیا تو عوامی مقبولیت میں کمی آ جائے گی اور حکومت پر دباؤ بھی بڑھے گا۔ وزیراعظم نے سوات میں جو جلسہ کیا، وہ خاصا بڑا تھا، جس کا مطلب ہے ابھی پی ٹی آئی کی حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان میں جلسوں کی جو رونق لگائے ہوئے ہیں، وہ بھی کچھ کم نہیں۔ گویا مقابلہ خاصا کانٹے دار ہے، مگر ہمیں تو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اس بے احتیاطی سے کورونا زیادہ شدت سے پھیلا تو کیا ہو گا؟…… آج صبح ہی یہ روح فرسا خبر ملی کہ ملتان میں حیدر عباس گردیزی کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ وہ سرائیکی اور اردو کے کہنہ مشق شاعر، دانشور حسن رضا گردیزی کے اکلوتے فرزند اور معروف ترقی پسند رہنما سید قسور گردیزی کے داماد تھے۔ ایسی خبروں سے تشویش مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اربابِ سیاست کو اس کی کوئی پروا نہیں،وہ  ہرقیمت پر اپنی سیاست کا ڈنکا بجتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بات کسی کی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ وبا کے دنوں میں آخر سیاست کی ایمرجنسی کیوں طاری کر لی گئی ہے۔ اپوزیشن کو آخر کیوں یہ جلدی پڑی ہے کہ دسمبر تک حکومت کو گھر بھیجنا ہے اور حکومت کو یہ فکر کیوں کھائے جا رہی ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں کا جواب نہ دیا گیا تو لٹیا ڈوب جائے گی۔ کیا یہ وقت اس طرح کی سرگرمی کا ہے؟ کیا حکومت کو ایک مثال نہیں قائم کرنی چاہیے کہ کورونا کو روکنے کے لئے جلسے جلوسوں سے اجتناب کیا جائے؟ کل جب ایک ٹی وی اینکر نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے یہ سوال پوچھا کہ اگر حکومت خود ہی کورونا ایس او پیز کا خیال نہیں رکھتی تو اپوزیشن سے اس کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس کا وہ خاطر خواہ جواب نہیں دے سکیں۔ صاف لگ رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی تحریک کا توڑ کرنے کے لئے خود نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے جب ملک کا چیف ایگزیکٹو عوامی اجتماعات میں جائے گا تو انہیں کامیاب بنانے کے لئے انتظامیہ تمام حربے آزمائے گی، سوائے کورونا سے بچاؤ کی تدابیر کے…… اپوزیشن کے جلسوں میں تو ان ایس او پیز کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا، لیکن وزیراعظم کے جلسوں میں بھی تو ماسک پہننے یا دروازے پر ہاتھوں کو سینی ٹائز کرنے کے کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے تو پھر یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ سردیوں میں کورونا کا متوقع پھیلاؤ رک جائے گا؟

سیاست میں حالیہ تیزی غیر متوقع ہے۔ دو ماہ پہلے تک حالات میں ایک واضح ٹھہراؤ موجود تھا، مگر پھر پی ڈی ایم بنی اور اپوزیشن سرگرم ہو گئی۔ سیاست کی گرم بازاری میں نوازشریف کی تقریروں نے اہم کردار ادا کیا۔ شاید انہی تقریروں کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کو سرگرم ہونا پڑا۔ اپنی حالیہ تقریر میں انہوں نے نوازشریف پر کھل کر تنقید کی اور وہ تک کہہ دیا جو نوازشریف نے نہیں کہا، مثلاً انہوں نے یہ الزام لگایا کہ نواز شریف نے فوج کے افسران کو اپنے آرمی چیف کے خلاف اُکسایا، حالانکہ یہ بات نوازشریف نے نہیں کہی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نوازشریف کے خلاف کس حد تک جانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ بہتر حکمت عملی تو یہی ہوتی کہ اپوزیشن کی تحریک کو نظر انداز کیا جاتا۔ حکومت اگر اسی نکتے کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کرتی کہ کورونا پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہونے کے باوجود اپوزیشن سیاسی جلسوں سے باز نہیں آ رہی، جو اس کی خود غرضی اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی روش کو ظاہر کرتی ہے، تو اپوزیشن پر اچھا خاصا دباؤ پڑ سکتا تھا، مگر اس کی بجائے حکومت خود بھی اس رو میں بہہ گئی اور اب اپوزیشن کے خلاف یہ اعتراض بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔

اپوزیشن نے دسمبر تک اپنے جلسوں کا شیڈول جاری کر رکھا ہے، جبکہ یہی وہ عرصہ ہے جس کے دوران این سی او سی نے کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ظاہر ہے اگر اپوزیشن اپنے شیڈول کو ختم نہیں کرتی تو حکومت بھی چاہے گی کہ عمران خان زیادہ سے زیادہ جلسے کریں، تاکہ اپنی عوامی مقبولیت کا تاثر دیا جا سکے، اس صورت میں کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے اور عوام میں بھی اس جان لیوا بیماری کے حوالے سے سنجیدگی پیدا نہیں ہوگی۔ بہتر تو یہی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور سیاست کو ایک دو ماہ کے لئے موخر کر دیں۔پچھلے چند دنوں میں کورونا کیسز اور اموات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کیا ہم کسی ناگہانی صورتِ حال کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -