عوام اور ……پی ایچ اے

           عوام اور ……پی ایچ اے
           عوام اور ……پی ایچ اے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ہمارے ملک کی عجیب صورتحال ہے ہر وقت مسائل کا شکار رہنا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ہو اس میں خرابی کی خبر آ جاتی ہے۔ اس وقت آب و ہوا اور موسم کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں۔ ہر طرف گرد و غبار ہے فضا آلودہ ہے سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے امراض چشم کی بیماری پھیل رہی ہے کوڑا کرکٹ ہر طرف پھینکنے کی اجازت ہے کوئی خاص جگہ مقرر نہیں اگر کوئی ہے تو اس میں کوڑا ڈالنا ضروری نہیں۔

دوسری طرف پی ایچ اے شہر کو سرسبز بنانے کے لئے ہر جگہ پودے لگا رہا ہے۔ کوئی فٹ پاتھ نہیں چھوڑا جس میں بڑے بڑے گملے لوہے کے جنگلے، مٹکے نما گھڑے رکھے ہیں۔ اس طرح پلوں کے نیچے پودے لگائے ہیں۔ عوام نے بھی اپنے عقیدے کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے خیال میں کیڑے مکوڑوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے مہنگائی کا بوجھ عوام برداشت کر گئے مگر کیڑے مکوڑے چیل کوے، کبوتر و دیگر پرندے بھوک سے مر جائیں یہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ مارکیٹ میں ان کی خوراک دستیاب ہے۔ دوکانداروں نے پہلے سے پیکٹ بنا کر رکھے ہیں جبکہ چاول دالیں باجرہ چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اب جملہ بدل گیا ہے مہنگائی چاند پر پہنچ چکی ہے مگر عوام کی عادتوں میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہ اسی طرح روز مرہ والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اسی طرح ضائع کر رہے ہیں کھانے پینے کی اشیاء ہوں۔ اس کی قدر نہیں۔ چنانچہ پی ایچ اے کسی سے پیچھے کیوں رہے۔  ہر حکومت اس ادارے کو کھلی چھوٹ دے دیتی ہے۔ ملک کو سرسبز بنانے کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے جس حساب سے پودے لگائے گئے ہیں، کوئی زمین کا حصہ باقی نہیں بچتا۔ جہاں پر شجر کاری نہ کی گئی ہو گر عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے مویشی رکھنے والوں کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وہ سڑک کے اس پار اور دوسری طرف اپنے جانوروں، بھینس بکریاں بھیڑ وغیرہ پارکوں کی مین گرین بیلٹ پر آزادانہ چھوڑ دیتے ہیں۔ جس سے پی ایچ اے کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ یہ عمل کوئی ایک دن کا نہیں۔ بلکہ سورج نکلنے کے ساتھ ساتھ شروع ہو جاتا ہے اور رات کو بھی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس کو روکنے کی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ کیا پی ایچ اے کی طرف سے کبھی کوئی کارروائی کی گئی ہے یہ تماشا دیکھا جاتا ہے۔

اہل علاقہ اپنے طور پر بھی باہر کی طرف پھول پودے خوبصورتی کے لئے لگاتے ہیں مگر مافیہ کے جانور اسے تر نوالا سمجھ کر کھا جاتے ہیں۔ جس سے ماحول خراب ہو جاتا ہے جبکہ ضرورت ہے کہ درخت پودے لگائیں۔ ماحول کو خوشگوار بنائیں۔ افسوس اداروں کی فوج اختیارات رکھتی ہوئے کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ جس سے اونٹ والوں کا قافلہ بھی لاہور کی بڑی سڑکوں پر درختوں کے پتے کھاتا نظر آتا ہے۔ اس طرح سڑکیں ویران ہو جائیں گی جس سے ملکی سطح پر درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ گرمی پہلے سے زیادہ پڑنے لگی ہے جس سے بجلی کا استعمال بھی کئی گنا ہو گیا ہے سرکاری سطح پر اس کا استعمال کم نہیں ہوا مسجدوں میں بھی اے سی استعمال ہوتا ہے اور عوام سے اپیل کر کے بجلی بل جمع کرایا جاتا ہے۔

مگر عام آدمی کدھر جائے وہ تو ایک پنکھا اور بلب چلاتا ہے اس کا بل 20 ہزار سے زیادہ آتا ہے وہ کہاں جائے۔ خود کشی کرنے پر مجبور ہے پہلے ہی دیگر اشیاء مہنگی ہیں وہ اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالے۔ زیادہ بچے تو پیدا کر لئے مگر ان کو تعلیم و تربیت دینا اس نے سوچا نہیں۔ اسے تو بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رزق کا وعدہ کیا ہے جو محنت کرے گا وہ اچھی زندگی بسر کرے گا۔

ملک کو سرسز بنانے کا تو ہر شخص اس میں اپنا حصہ ڈالے۔ گھر کے صحن یا باہر کچھ سبزیاں پھل دار درخت لگائے اور ان کی حفاظت کا بھی انتظام کرے کچھ دنوں میں وہ اپنی محنت کا پھل بھی کھائے گا۔

پی ایچ اے کا مسئلہ دوسرا ہے اس نے پودے درخت لگانئے ہیں اس کی حفاظت ہمیں کرنی ہے۔ اس کا کام مافیہ سے لڑنا نہیں۔ اسے تو پھر پروگرام مل جائے گا حساب کتاب کون دیکھتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھتا ہے عوام کو اس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر سایہ دار درخت نہ ملے تو چھتری سے کام لینا چاہئے راستے کے کتوں کو بھگانے کا کام مبں ی آتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -