بلوچستان :پنجاب ہمہ تن گوش ہے

بلوچستان :پنجاب ہمہ تن گوش ہے
بلوچستان :پنجاب ہمہ تن گوش ہے

  

بلوچستان کے ممتاز سیاستدان اختر مینگل کئی سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد اسلام آباد تشریف لائے اور سپریم کورٹ میں بلوچوں کے مسائل کے حوالے سے پیش ہوئے۔ انہوں نے اپنا موقف 6نکات کی صورت میں پیش کیا اور اپنے موقف میں وزن پیدا کرنے کے لئے اپنے نکات کو شیخ مجیب الرحمن کے 6نکات کے مماثل قرار دیا، حالانکہ شیخ مجیب الرحمن اور اختر مینگل کے 6نکات میں بڑا فرق ہے ۔ شیخ مجیب الرحمن کو پورے مشرقی پاکستان کی مکمل حمایت حاصل تھی اور انتخابات نے اس کو صحیح ثابت کردیا تھا۔ سردار اختر مینگل اس پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ہیں اور ان کے مد مقابل بی این پی عوامی موجود ہے، نیشنل پارٹی ہے اور بلوچستان کے بلوچ حصے میں جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن اور نظریاتی موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی موجود ہے۔ یہ آج کا نقشہ ہے ۔اس کے علاوہ مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے گروہ موجود ہیں ۔ بلوچ قوم پرست تقسیم در تقسیم کے مرحلے سے گزر رہے ہیں ۔ جتنی وحدت اور اتحاد کی ضرورت آج بلوچ قوم کو ہے، اس سے قبل نہ تھی ۔بلوچ قوم پرست پارٹیوں کو ایک سنگل پارٹی میں مدغم ہوجانا چاہئے۔ یہ خواہش نواب محمد اکبر خان بگٹی کی تھی ، لیکن وہ پوری نہ ہوسکی.... اور انہوں نے جان کی بازی ہاردی ۔ اس کے بعد تو قوم پرست پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والوں کو ایک ہونا چاہئے تھا ، مگر وہ اس مرحلے کو طے نہ کرسکے !

 کبھی بی ایس او ایک تھی ،مگر وہ بھی اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکی ۔ اب ایک اور بی ایس او بن گئی ہے ، جو مسلح جدوجہد کرنے والوں کی حامی اور پشت پناہ ہے ۔ ہم اس حوالے سے بلوچ سیاست کا جائزہ لیں تو آج جو نقشہ بن گیا ہے ، وہ کچھ اس طرح سے ہے۔ بلوچ قوم پرست سیاست دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ۔ یہ تقسیم پارلیمانی سیاست اور مسلح سیاست میں نظر آرہی ہے ۔ ایک گروہ پہاڑوں میں جدوجہد کا قائل ہے تو دوسرا گروہ انتخابات پر یقین رکھتا ہے ، ایک بُلٹ کا قائل ہے تو دوسرا بیلٹ کا .... نواب خیر بخش مری انتخابات کی سیاست کی وادی سے مسلح جدوجہد کی طرف لوٹ گئے ہیں ۔ ان کی پارلیمانی سیاست کا دور ایوب خان کے دور سے شروع ہوا ۔ جنرل ایوب خان نے دستور بنایا اور انتخابات کرائے، اس وقت پاکستان دو حصوں میں موجود تھا ۔ ایک حصہ مشرقی پاکستان اور دوسرا حصہ مغربی پاکستان کہلاتا تھا۔ آج مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش ) اور مغربی پاکستان موجودہ پاکستان ہے۔ نواب خیر بخش مری قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے .... اور سردار عطاءاللہ مینگل مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے۔ باقی بلوچ بھی صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے ۔ جینیفرخواتین نشست پر ممبر بنی تھیں ۔

قارئین محترم !ایک اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں، یہ بڑا اہم تاریخی موڑ ہے، جو بلوچ سیاست میں نظر آئے گا ۔ 1958ءمیں جب ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا .... قلات پر فوج کشی کی اور والی قلات میر احمد یار خان مرحوم کو گرفتار کیا، تو مسلح تصادم کا آغاز ہوا۔ نوروز خان نے پہاڑوں کا رخ کیا، پہاڑوں سے اتارے گئے ، گرفتاری کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا ۔ ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اور ان کی موت جیل میں ہوئی ۔ بلوچوں کا مسلح تصادم چلتا رہا۔ جب مارشل لاءختم کیا گیا، ایوب خان نے دستور تشکیل دیا اور انتخابات کرائے تو تمام بلوچ قیادت انتخابات میں چلی گئی ! بعد میں ایوب خان کے خلاف عوامی جدوجہد شروع ہوگئی ، جس میں ایوب خان کو رخصت ہونا پڑا۔ جب ایوب خان نے انتخابات کا اعلان کیا تو مسلح جدوجہد ختم ہوگئی اور بلوچ قوم پرست انتخابات میں چلے گئے .... اور پارلیمانی سیاست کو اپنا لیا ۔ نواب خیر بخش مری ، سردار عطاءاللہ مینگل ، غوث بخش بزنجو ، میر احمد نواز بگٹی ، نبی بخش زہری ، سردار دودا خان زہری، باقی بلوچ و دیگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ گئے ۔ مسلح جدوجہد کا نتیجہ پارلیمانی سیاست کی صورت میں نکلا۔

قارئین محترم!لالہ غلام محمد سے میری ملاقات پریس کلب میں ان کی پریس کانفرنس کے بعد اتفاقیہ ہوئی۔ ان کے ساتھ یہ میری پہلی اور آخری ملاقات تھی ۔ بلوچ سیاست کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔میرا موقف بلوچ مسلح جدوجہد کے حوالے سے یہ تھا کہ بلوچستان میں جب بھی مسلح جدوجہد ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ ہمیشہ انتخابات کی صورت میں نکلتاہے .... بلوچ قیادت پارلیمنٹ میں چلی جاتی ہے .... اور مسلح جدوجہد ختم ہوجاتی ہے ۔ ان کے سامنے جنرل ایوب خان اور بھٹو کے دور حکومت میں مسلح جدوجہد کی مثالیں پیش کیں ۔ بھٹو کے دور میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی، اس کا اختتام ضیاءالحق کے دور میں ہوا اور 1988ءمیں غلام اسحاق کے دور میں تمام بلوچ قیادت انتخابات میں چلی گئی .... اور مسلح جدوجہد کا اختتام ہوگیا ۔ دونوں بار مسلح جدوجہد میں سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا ہوا ، جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بلوچوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ افغانستان کی طرف چلے جائیں۔لالہ غلام محمد شہید سے کہا کہ آپ لوگ جتنی تیزی سے مسلح جدوجہد کریں گے، اس کا فائدہ پارلیمانی سیاست کرنے والے گروہ اٹھائیں گے ۔ آپ لوگوں کو اس کا ثمر نہیں ملے گا ۔ اس کو دوسرے لوگ کیش کرائیں گے، اس کے سیاسی نتائج حاصل کریں گے اور پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں گے ۔

میرے اس تجزیئے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شادیزئی صاحب !ہم اس طرح کی صورت حال بنادیں گے کہ عوام پولنگ بوتھ پر نہیں جاسکیں گے اور پولنگ اسٹیشن خالی رہیں گے ۔ یہ غلام محمد شہید کا تجزیہ تھا ۔ بعد میں انہیں بڑے بے رحمانہ طریقے سے قتل کرکے ان کی لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔ ان کی پارٹی بی این ایم تھی، غلام محمد اس وقت ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سے علیحدہ ہوگئے ، جب ڈاکٹر حئی بلوچ نے اپنی پارٹی کو ضم کردیا تو انہوں نے اس کو برقرار رکھا اور پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے ۔ اب سب سے زیادہ مکران ڈویژن مضطرب ہے۔ نواب بگٹی شہید کو گلہ تھا کہ مکران ڈویژن تمام مسلح جدوجہد میں لاتعلق رہا ہے.... وہ اس کا اظہار کئی بار اپنی محفلوں میں کرچکے تھے۔جب اس حصے میں مسلح کارروائیاں شروع ہوئیں تو وہ کہتے تھے کہ اچھی بات ہے، یہ لوگ بھی اٹھے ہیں۔ آج بلوچ سیاست اور بلوچ علاقوں میں جو صورت حال بن گئی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔

قارئین کرام!ہم بلوچستان کی سیاسی جدوجہد اور کشمکش کا تجزیہ کررہے ہیں ،تاکہ لمحہ موجود میں حالات کا ادراک کرسکیں، کسی واضح نتیجے تک پہنچنے کی جستجو کریں اور بلوچستان میں بلوچ سیاست کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھ سکیں ۔ جیسا کہ پہلے حوالہ دیا ہے کہ ایوب خان کے دور میں مسلح جدوجہد کا نتیجہ پارلیمانی سیاست کی صورت میں نکلاتھا ۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زیادہ بہتر اور زیادہ موثر مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پوری قوت سے اس مسلح جدوجہد کو کچلنے کی کوشش کی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس جدوجہد میں شاہ ِایران سے بھی مدد لی اور شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو ایئر فورس کے چینوک ہیلی کاپٹر فراہم کئے ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ لیاقت روڈ پر اپنے دوست محمد اقبال کی دکان پر کھڑا تھا کہ کچھ ایرانی ان کی دکان میں داخل ہوئے،وہ بلوچی کڑھائی کی کچھ اشیاءخریدنا چاہتے تھے، انگریزی میں بات کررہے تھے ، اس لئے ترجمانی کے فرائض میرے ذمے تھے ۔ ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ایئر فورس کے پائلٹ ہیں اور ہیلی کاپٹر ایران سے اڑا کر لائے ہیں .... ایک روز نواب بگٹی کے پاس گیا اور ان کے ساتھ سیر کو نکلاتو انہیں زرغون روڈ پر وہ جگہ بتائی، جہاں سے ایک بلوچ نوجوان نے بھٹو کی کار پر بم پھینکنے کی کوشش کی، مگر وہ بم اس کے پاس ہی پھٹ گیا اور فیڈرل سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے اس پر فائرنگ کی اور اسے سڑک پر ہی مار دیا گیا .... اس کا خون سڑک پر جم گیا تھا۔ اس کو صاف نہیںکیا گیا تھا ۔ وہاں نواب اکبر بگٹی نے کار آہستہ کردی اور اس جمے ہوئے خون کو دیکھا ،جواب تک موجودتھا۔ یہ اس دن کا واقعہ ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم گورنر ہاﺅس سے جلسہ عام کے لئے ریلوے ہاکی گراﺅنڈ روانہ ہورہے تھے ۔ اس روز صبح کو چلتن کے پہاڑوں پر ایئر فورس نے شدید بمباری کی، انہیں اطلاع ملی تھی کہ اس حصے میں مسلح جدوجہد کرنے والے لوگ موجود ہیں ۔ ان دھماکوں کی گونج اہل شہر نے بڑی واضح سنی تھی ۔

اس رات جب ذوالفقار علی بھٹو گورنر ہاﺅس میں معزز مہمانوں کے ساتھ عشائیہ میں شریک تھے تو مشرق کی جانب واقع پہاڑی سلسلہ کوہ مردار سے زبردست فائرنگ کی گئی اور کوئٹہ شہر اس فائرنگ سے گونج اٹھا تھا .... اس پہاڑ کے قریب اس فائرنگ سے ایک بچی مرگئی تھی ۔ اس کے دوسرے روز ذوالفقار علی بھٹو پر نوجوان نے بم سے حملہ کیا تھا ۔ وہ بچ گئے تھے ۔ نواب صاحب کو اس واقعہ کی تفصیل بھی ساتھ ساتھ بتارہا تھا اور ہم دونوں محو گفتگو تھے۔ نواب اکبر بگٹی نے اپنی کار کا رخ کینٹ کی طرف موڑ دیا اور مجھے کچھ موڑ کی طرف لے گئے اور مجھ سے کہا کہ یہاں ایران کے ہیلی کاپٹر کھڑے ہیں ۔کچھ کے ہیلی پیڈ پر چینوک ہیلی کاپٹر موجود تھے ، انہیں بتایاکہ ایرانی پائلٹوں سے میری ملاقات ہوئی ہے ،اس کے بعد ہم بگٹی ہاﺅس پہنچ گئے (جاری ہے )  

مزید :

کالم -