پاکستان میں صحافت

پاکستان میں صحافت
 پاکستان میں صحافت

  


                                                شکیل بچانی جوان سال صحافی تھے۔ ان کی یاد میں حیدرآباد پریس کلب نے ایک تعزیتی جلسہ کیا۔ شکیل کی جدائی کے غم کا اظہار صحافی ساتھیوں نے اپنے اپنے طریقے سے کیا۔ شکیل کے ساتھ شنا سائی رکھنے والی این جی اوز اور سیاست سے وابستہ بعض لوگ بھی مدعو تھے۔ بعض لوگوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جس میں ناقدری زیادہ ہے اور جتنی محنت کی جاتی ہے ،اس محنت کا معاوضہ نہیں ملتا۔ پاکستان میں صحافی جب بھی کسی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں تو ان کے ساتھی حکومت سے صحافیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ صحافت کا پیشہ اپنی پسند سے اختیار کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس پیشے میں نام کمایا ہے ،انہوں نے کسی مجبوری یا دباﺅ کے نتیجے میں یہ پیشہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے رضاکارانہ جذبے اور رضامندی سے اپنی پسند کے تحت یہ پیشہ اختیار کیا۔ جب آپ کوئی پیشہ اپنی پسند سے اختیار کرتے ہیں تو آپ کو اس پیشے کے فوائد و نقصانات، اونچ نیچ، پیچ و خم سے آگاہی ہوتی ہے ،جب ہی تو آپ یہ پیشہ یا کوئی اور پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی حادثے یا کسی ضرورت کے تحت کوئی پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ غریب اور متوسط گھرانوں کے لوگ اپنے ابتدائی دور میں ضرورت کے تحت ایسے پیشے اختیار کرتے ہیں جو ان کی پسند کے نہیں ہوتے ہیں بس مجبوری ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح روز گار تلاش کر لیا جائے۔ اکثر لوگ بعد کے مراحل میں اپنے پیشے کو تبدیل کرتے اور اپنی پسند کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا بہتر پیشہ چن لیتے ہیں۔ بر صضیر کے نامور صحافیوں نے صحافت کا پیشہ رضاکارانہ طور پر اختیار کیا تھا، کئی گمنام بھی رہے۔پاکستان اور سندھ میں بھی درجنوں افراد ایسے پیدا ہوئے ،جنہوں نے معاشرے کی تبدیلی یا اپنے نظریات کی اشاعت و ترویج کے لئے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ فیض احمد فیض، صلاح الدین، احمد علی خان، اے ٹی چودھری، مظہر علی خان، عزیز صدیقی، شیخ عبد المجید سندھی، عبدالواحد سندھی، عبدالغفور سیتائی، مولانا خیر محمد نظامانی اور درجنوں افراد کی طویل فہرست ہے، جنہوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا، اپنا کام کیا ،لیکن لب پر یہ شکایت نہیں لائے کہ انہیں کچھ نہیں ملا یا انہیں کچھ ملنا چاہئے۔

 صحافی ایک ایسے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ،جن کی سننے پر سب مجبور ہوتے ہیں۔ کاغذ، قلم، ٹی وی اسکرین، فضا میں ریڈیو سے آواز پر ان کو دسترس حاصل ہے ،اسی لئے وہ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں، لیکن ملک کے وہ طبقے جو ان سہولتوں سے محروم ہیں ، مظاہروں اور احتجاج کے ذریعے اپنی آواز سے لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،لیکن نتیجہ نہیں نکلتا۔ صحافت ایک مشکل پیشہ ضرور ہے ،لیکن اپنے اندر کشش رکھتا ہے اور سکون پیدا کرنے کا نہایت موثر ذریعہ بھی تو ہے۔ جو صحافی خصوصاً رپورٹر حضرات تحقیقاتی خبروں پر کام کرکے انہیں شائع کراتے ہیں ،انہیں یہ تسلی ضرور ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کردی، لیکن جو لوگ اپنے اپنے ذمے کا کام کرتے ہی جاتے ہیں ،ان ہی کے لئے احمد فراز نے کہا تھا کہ شکوہ ظلمت شب کرنے سے تو بہتر ہے کہ اپنے ذمہ کی روشنی ہی کرتے جائیں۔ ہر کام کا نتیجہ فوری طور پر ان ہی ممالک میں نکلتا ہے، جہاں قانون کی عمل داری ہو، جہاں انسانوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک روا رکھنا پورے معاشرے کی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہو۔ ہر شہری کو تحفظ اور سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے ،لیکن پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے ،جہاں عوام الناس کے سلسلے میں ترجیحات کسی مرحلے پر شمار ہی نہیں ہوتیں، اسی لئے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی گاہے بگاہے حکومتوں سے سہولتوں اور تحفظ کا مطالبہ کرتے نہیں تھکتے۔

پاکستان میں محنت کش طبقے کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں، اسی طرح صحافیوں کے کام کرنے کے سلسلے میں بھی قوانین موجود ہیں ،لیکن عمل در آمد نہیں ہوتا۔ پاکستان میں خواہ ٹی وی ہویا اخبار، کام کرنے والوں کو جو معاوضہ ملتا ہے ،وہ اس لحاظ سے اطمینان بخش ہے کہ کئی دیگر شعبوں میں معاوضوں کی شرح اس سے کہیں کم ہے، لیکن یہ سارے کا سارا معاملہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کام جانتے ہیں اور اپنے کام کو سمجھتے ہیں اور اسے نبھانے اور انجام دینے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسی صورت حال بھی ہے ،جیسی صنعتی کارخانوں میں پائی جاتی ہے ،جہاں حکومت کے اعلان کردہ کم سے کم معاوضے بھی نہیں دیئے جاتے ہیں۔ میر تقی میر اسی لئے کہتے ہیں ” شکوہ آبلہ ابھی سے میر، ہے پیارے، ہنوز دلی دور “ ۔ حکومت پاکستان کا آخری اعلان ہے کہ صنعتی اداروں میں غیر ہنر مند محنت کش کو آٹھ گھنٹے کی کم سے کم اجرت آٹھ ہزار روپے ماہانہ دی جائے گی ،لیکن اس اعلان پر صنعتی اداروں کی اکثریت نے کبھی عمل ہی نہیں کیا۔ بعض نے اس پر عمل اس طرح کیا کہ محنت کش کے کام کا دورانیہ آٹھ گھنٹے سے بارہ گھنٹے کر دیا ۔ محنت کش اگر اعتراض کرتے ہیں تو اس کام سے بھی جاتے ہیں ،لہٰذا نہ احتجاج ہوتا ہے ،نہ ہی ہڑتال کی جاتی ہے۔

محکمہ لیبر جسے اس پر عمل کرانا چاہئے اور نظر رکھنا چاہئے ،اس کے افسران اپنی آنکھیں اور کان بوجوہ بند رکھتے ہیں۔ ایسا ہی حال صحافیوں کا بھی ہے۔ کئی اداروں میں تنخواہ قلیل ہے، کئی اداروں میں تنخواہ قلیل بھی ہے اور وقت پر ادا بھی نہیں کی جاتی۔ بعض ادارے ایسے ہیں ،جہاں تنخواہ تو معقول ہوتی ہے، لیکن وقت کا تعین نہیں ہے۔ کراچی ہو یا اسلام آباد ، کئی اداروں میں لوگ کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے احتجاج کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سوائے گنتی کے چند اداروں کے ، طبی سہولتیں، تعطیلات کی سہولتیں، حادثات کی صورت میں علاج و معالجے کی سہولتوں کا ہر جگہ فقدان ہے۔ غرض صحافی ہوں یا کوئی اور طبقہ، سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ قانون پر عمل در آمد کا بری طرح فقدان ہے۔ ایسی صورت میں صرف صحافیوں کا اپنے حقوق و مراعات کے لئے مطالبہ اس لحاظ سے معیوب نظر آتا ہے کہ صحافیوں کو تو سب سے آخر میں اپنی لڑائی لڑنا ہوتی ہے۔ معاشرے کے محروم لوگوں کے لئے آواز بلند کرنا اور ان کے مصائب و مشکلات پر حکومت اور لوگوں کی توجہ مبذول کرانا بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بہتر علاج، بہتر تعلیم، بہتر رہائش، بنیادی سہولتیں، تفریح کے مواقع، یکساں طور پر تمام شہریوں کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ حقوق ان ہی افراد کو حاصل ہوتے ہیں جو وسائل پر دسترس رکھتے ہوں ، باقی لوگ بنیادی سہولتوں کے حصول کی جدو جہد میں ہی مصروف رہتے ہیں اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی کو گھسیٹے ہی رہتے ہیں۔ ہر استحصالی معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی ہر سطح پر استحصال ہوتا ہے۔

ملک کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں، چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر تمام شہروں ، قصبوں میں اخبارات ہوں یا ٹی وی، لوگ نمائندگی کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں اخلاقیات، اپنی تعلیم، اپنی لیاقت اور اہلیت کی فکر نہیں ہوتی ،بس انہیں ہر حال میں نمائندگی درکار ہوتی ہے جو اکثر لوگوں کو مل بھی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے ،اس سے تمام شہروں میں ذرائع ابلاغ کے لئے کام کرنے والے ناواقف نہیں ہیں۔ بلا معاوضہ کام کرنے والے لوگ اپنے لئے کہیں نہ کہیں سے معاوضے کا حصول تو یقینی بنائیں گے ،اسی وجہ سے ہمارے شہروں میں کئی ایسی معاشرتی برائیوں نے جڑ پکڑ لی ہے ،جس کی نشان دہی کرنا صحافی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ختم کرانا پولس کے فرائض کا حصہ ہے ،لیکن یہاں توسب کا چلن ایک ہی جیسا ہو گیا ہے۔ بلا معاوضہ کام کرنے کا شوق اس لئے بھی چراتا ہے کہ اکثر لوگ تعلقات بنانے، بہتر مواقع حاصل کرنے اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنے آپ کو معتبر کہلانے اور معزز تصور کئے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مالکان بھی رضاکارانہ طور پر کام لینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ کوئی بھی شخص اپنا وقت بلا معاوضہ کیوں اور کس مقصد کے لئے ان کے ادارے کو دے رہا ہے؟ اس تماش گاہ میں اگر طرز حکمرانی میں تبدیلی کی فوری ضرورت ہے تو نظام چلانے والے ڈھانچے میں بھی تبدیلی کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ،لیکن حکومتوں میں شامل وزراءہوں یا ان کے ماتحت افسران ہوں، ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ معاشرے کی ان بنیادی ضروریات پر غور کر سکیں جن قدروں پر رہتے ہیں اور معاشرے کا وہ طبقہ جس کی بنیاد پر کوئی بھی معاشرہ قائم دائم رہتا ہے، سکھ کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ ایسی صورت میں صحافیوں کا اپنے لئے مطالبہ کرنا خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔ امداد اما م اثر کیا خوب کہتے ہیں:

نہ کر شکوہ ہماری بے سبب کی بد گمانی کا

محبت میں ترے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے

مزید : کالم