تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہیں‘ جینوف شیرالی

تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہیں‘ جینوف شیرالی

لاہور(کامرس رپورٹر) تاجکستان کے سفیر جینوف شیرالی (Jononov Sherali)نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے ، دونوں ممالک میں تجارت کو فروغ دینے کی وسیع پوٹینشل ہے جس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ سینئر نائب صدر میاں طارق مصباح، نائب صدر کاشف انور، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید، راجہ حامد ریاض، ظفر محمود، چودھری محمد اسلم، محمد افضل، سابق ایگزیکٹو کمیٹی اراکین جمیل اے ناز اور رحمت اللہ جاوید نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ سفیر نے کہا کہ تاجکستان میں استعمال ہونے والا ساٹھ فیصد سیمنٹ پاکستان سے درآمد کیا جارہا ہے جبکہ فارماسیوٹیکل ، ایگریکلچعر اور لائیوسٹاک سیکٹر سے وابستہ پاکستانی کمپنیاں بھی تاجکستان کے ساتھ کاروبار کررہی ہیں۔ تاجکستان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کو تیرہ سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی کا معاہدہ دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ پر کام جنوری 2014ءمیں شروع ہوگا اور یہ دو تین سال کے عرصہ میں مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود اور سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد بھی باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ایران تاجکستان میں سنگل کنٹری نمائشیں منعقد کرتے ہیں لہذا لاہور چیمبر کو بھی یہ قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاہور چیمبر تاجکستان وفد بھجواتا ہے تو وہ وہ پاکستانی تاجروں کی تاجکستان کے تاجروں میٹنگز منعقدکروانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان کا اسلام آباد میں سفارتخانہ ویزا کے حصول کے لیے پاکستانی تاجروں سے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ او آئی سی اور ای سی او کے اراکین ہونے کے ناطے پاکستان اور تاجکستان بہترین تعلقات کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجکستان کے سفارتخانے کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہونے سے تجارتی صورتحال پر بہترین اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او ممالک تجارت و انرجی کے حوالے سے وسیع پوٹینشل کے حامل ہیں مگر انہیں یورپین یونین اور آسیان کی طرز پر فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تاجکستان ایک اہم ملک ہونے کے ناطے ممبر ریاستوں کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار تاجکستان کے اہم تجارتی پارٹنرز میں نہیں ہوتا جس کی وجوہات میں ٹرانسپورٹیشن اور تاجکستان میں ترقی یافتہ بینکنگ سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہمیشہ ڈانواڈول حالات کا شکار رہی ہے۔ اگر ایک سال پاکستان سے تاجکستان کو برآمدات بڑھیں تو درآمدات میں بھاری کمی واقع ہوگئی لہذا تجارت کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ بہت کم ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے تاجکستان کو ضروریات کی زیادہ تر اشیاءدرآمد کرنا پڑتی ہیں لہذا پاکستانی تاجروں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مستقل روابط ، تجارتی وفود کا تبادلہ اور سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سال 2004اور 2005ءمیں بالترتیب دوشنبے اور خودزند میں میڈ ان پاکستان کے نام سنگل کنٹری نمائشیں منعقد کیں جنہیں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور تاجکستان کے لوگوں نے پاکستانی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گوادر بندرگاہ اور دیگر ذرائع سے تاجکستان کے لیے تجارتی راہداری کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تاجکستان کے تاجروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

مزید : کامرس