سرکاری مانیٹرنگ، اظہار رائے پر قدغن اور ہزاروں ویب سائٹ پر پابندی

سرکاری مانیٹرنگ، اظہار رائے پر قدغن اور ہزاروں ویب سائٹ پر پابندی

لاہور( کامرس رپورٹر) پاکستان میں انٹرنیٹ آزاد نہیں ہے، ڈیجیٹل رائٹس پر قدغن بڑھ رہی ہے، سرکاری مانیٹرنگ، اظہار رائے پر قدغن اور ہزاروں ویب سائٹ پر پابندی نے انٹرنیٹ کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے باوجود 60ملکوں کی فہرست میں نیچے لاکھڑا کیا ہے۔تھری جی ٹیکنالوجی کو بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر آزادی اظہار کے لیے سرگرم ادارے ”فریڈم ہاﺅس“ کی جانب سے جاری کردہ فریڈم آن دی نیٹ 2013 رپورٹ کے تحت 60ملکوں میں انٹرنیٹ کی آزادی کا گہرائی سے مطالعہ کیا گیا مطالعے میں شامل ممالک کو انٹرنیٹ تک رسائی کے لحاظ سے صفر سے 25، معلوماتی مواد کی حدود کے لحاظ سے صفر سے 35اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے لحاظ سے صفر سے 40 نمبر دیے گئے سب سے کم مارکنگ کے حامل کو آزاد انٹرنیٹ کے حامل اور زیادہ مارکنگ کے حامل ملکوں کو انٹرنیٹ کے لحاظ سے غیرآزاد ملکوں میں شامل کیا گیا پاکستان کو دی جانے والی مارکنگ 67رہی جو 2012میں دی جانیوالی 63مارکس سے چار ہندسے زائد رہی 2013میں پاکستان کو انٹرنیٹ تک رسائی میں مشکلات کے لحاظ سے 20، معلوماتی مواد پر روک ٹوک کے لحاظ سے 20جبکہ صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے لحاظ سے 27نمبر دیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت برما، سوڈان، متحدہ عرب امارات، بیلاروس، سعودی عرب، بحرین، ویتنام، ازبکستان، ایتھوپیا، شام، چین، کیوبا اور ایران میں بھی انٹرنیٹ آزاد نہیں ہے جبکہ بھارت، تھائی لینڈ، مصر، قازقستان، سری لنکا، زمبابوے، روس، وینزویلا، آزربائیجان، ترکی، بنگلہ دیش، روانڈا، کولمبیا، اردن ، لیبیا، لبنان، ملائیشیا، مراکش، مالاوئی، تیونس، انڈونیشیا، میکسکو، ایکواڈور، کرغیزستان، یوگنڈا، انگولا، ساﺅتھ کوریا، برازیل اور نائیجریا میں انٹرنیٹ جزوی طور پر آزاد ہے۔60میں سے 17ملکوں میں انٹرنیٹ کو آزاد قرار دیا گیا ہے جن میں آئس لینڈ، ایسٹونیا، جرمنی، امریکا، آسٹریلیا، فرانس، جاپان، ہنگری، اٹلی، برطانیہ، فلپائن، جارجیا، ساﺅتھ افریقہ، ارجنٹینا، کینیا، یوکرین اور آرمینیا شامل ہیں رپورٹ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ صارفین کو سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا ہے پابندی کے لحاظ سے دنیا کے دیگر نمایاں ملکوں میں کیوبا، چین اور شام بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر شمار کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں پاکستان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2003سے آن لائن مواد کو سرکاری طور پر سنسر کرنے کا آغاز ہوا وقت کے ساتھ سنسرشپ کا نظام بھی موثر ہوتا رہا، متعدد سرکاری ایجنسیاں آن لائن مواد کو سنسر کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں تاہم ان میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سرفہرست ہے رپورٹ کے مطابق 2012 تک یوٹیوب سمیت 20ہزار ویب سائٹس کو قابل اعتراض مواد کی وجہ سے بند کیا گیا۔

مزید : کامرس