جنرل سیلز ٹیکس کے 2 فیصد اضافی فیصلے کو موخر کیا جائے ‘صدر راولپنڈی چیمبر

جنرل سیلز ٹیکس کے 2 فیصد اضافی فیصلے کو موخر کیا جائے ‘صدر راولپنڈی چیمبر

راولپنڈی (نیٹ نیوز) راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کی پہلی مجلس عاملہ برائے سال 2013-14کا اجلاس صدر چیمبرڈاکٹر شمائل داﺅد آرائیں کی زیر صدارت چیمبر میں منعقد ہوا جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے چار نئے ایس آر اوز کے تحت بہت سی گھریلو استعمال کی اشیاءپر سیلز ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کے فیصلے اور اسکے مجموعی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں سینئر نائب صدر ملک شاہد سلیم اور نائب صدر عالم چغتائی کے علاوہ دیگر اراکین کمیٹی بھی موجو دتھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر چیمبر ڈاکٹر شمائل داﺅد نے کہا کہ مذکورہ فیصلے سے چھوٹے کاروباری حضرات ،ڈیلرز، ریٹیلرز یا ایکسپورٹرز کو تو فائدہ ہو گا مگر مجموعی طور پر مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہو گا اور بیروزگاری بڑھے گی ، ملکی معیشت اس وقت سخت دباﺅ کا شکا ر ہے ،روپے کی قدر دن بدن کم ہو رہی ہے ان حالالت میں حکومت کو چاہیے کہ 2 فیصد اضافی جنرل سیلز ٹیکس کے حالیہ فیصلے کو موخر کیا جائے اور معیشت کے استحکام تک کوئی نیا ایڈ ونچر نا کیا جائے۔صدر راولپنڈی چیمبر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حالیہ اقدام سے 2فیصد اضافی جی ایس ٹی صرف مینو فیکچرر زپر لاگو ہو گا جس سے عام صارف اور چھوٹے کاروباری حضرات پر بوجھ کم پڑے گا مگر قیمتوں میں اضا فہ ہو گا، ملک کی معیشت اس وقت کسی ایڈیشنل ٹیکس کی متحمل نہیں ہو سکتی حکومت کو چاہیے کہ جی ایس ٹی کی شرح کو 16فیصد تک لایا جائے۔

 اور اسے بتدریج کم کر کے ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے اقدامات اٹھائے تا کہ ملک کے لئے ریونیو حاصل کیا جاسکے،آئی ایم ایف کے ایما پر ملک نہ چلایا جائے بلکہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ ٹیکس کے حوالے سے کاروباری برادری کو درپیش دیگر مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور جلد ہی چیئرمین ایف بی آر سے اس سلسلے میں ملاقات کی جائے گی تا کہ تمام مسائل کو مل بیٹھ پر اور مشا ورت سے حل کیا جائے ۔ صدر آر سی سی آئی نے کہا کہ حکومت بزنس فرینڈلی پالیسیاں ترتیب دے تا کہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا حکومت پر اعتماد بڑھے اور کاروباری برداری اور حکومت مل کر معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط پا کستان کی بنیاد رکھ سکیں۔

مزید : کامرس