پاکستان کو صنعتی و کاروباری شعبوں میں ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا ہے

پاکستان کو صنعتی و کاروباری شعبوں میں ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا ہے

لاہور(کامرس رپورٹر)دنیا بھر میں 9 ویں بڑی افرادی قوت ہونے کے باوجود پاکستان کو کم و بیش تمام صنعتی و کاروباری شعبوں میں ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا ہے، اور یہی صورتحال ہیٹنگ، وینٹیلیشن اینڈ ائیرکنڈیشنگ (ایچ وی اے سی) کے شعبے میں بھی ہے۔ قومی افرادی قوت سروے 11-2010ءکے مطابق پاکستان میں کل 5 کروڑ 72 لاکھ کی افراد قوت میں 34 لاکھ بے روزگار ہیں، جو باقاعدہ کوئی ہنر نہ جاننے کی وجہ مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک نجی ایچ وی اے سی کنسلٹنٹ ابو ظفر محمود کے مطابق اس شعبے میں سالانہ 5 ہزار ہنر مند افراد کی ضرورت ہے، لیکن ملک میں ائیرکنڈیشنگ کے شعبے کے لئے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے والے اداروں کے فقدان اور عوام میں اگاہی نہ ہونے کے باعث ایچ وی اے سی کی صنعت کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابو ظفر کا کہنا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں پاکستانیوں کے طرز زندگی میں آنے والی تبدیلوں اور ائیر کنڈیشنرز کی فروخت میں نمایاں اضافے نے افرادی قوتی کی اس قلت کو پورا کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے پلازوں، بڑے ہوٹلز، شاپنگ مالز اور کارپوریٹ دفاتر کی تعمیر کے باعث اس ائیرکنڈیشنگ کے شعبے میں ہنرمند افراد کی طلب مزید بڑھی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے ائیرکنڈیشنرز کی فروخت میں سالانہ 4 سے 5 فی صد اضافہ ہو رہا ہے اور ماہرین کی نظر میں اگر موجودہ حکومت بجلی کی قلت کے مسئلہ پر قابو پا لے تو ائیرکنڈیشنرز کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ابو ظفر محمود کے مطابق اگر حکومت اس شعبے میں ہنرمند افرادی قوت کے فروغ کے لئے منصوبے شروع کرے تو نہ صرف ملکی افرادی قوت کی قلت کو پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ ہنر مند افراد کو متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں روزگار دلوا کر ملک کے لئے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔

مزید : کامرس