ریلوے کی نجکاری کی گئی تو استعفی دے دوں گا

ریلوے کی نجکاری کی گئی تو استعفی دے دوں گا

              لاہور(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کی نجکاری کی کوئی ضرورت نہیں‘ اگر ادارے کا خسارہ کم نہ کرسکے اور ریلوے نجکاری کی طرف گیا تو نہ صرف ریلوے کی وزارت چھوڑ دوں گا بلکہ کوئی وزارت نہیں لوں گا اور گھر چلا جاﺅں گاان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں اخباری مدیران ،کالم نویسوں اور ٹی وی اینکرز سے ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر ریلوے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی تو ریلوے تباہی کے دہانے پر تھا لیکن ہماری انتھک کوشش اور ٹھوس پالیسیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کا خسارہ رواں سال 33.5 ارب روپے متوقع تھا جس میں خاطر خواہ کمی لائی جائیگی۔ کراچی سرکلر ریلوے اہم پراجیکٹ ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مدد سے آئندہ برس شروع کر دیا جائیگا اور اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائیگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور میٹرو ٹرین منصوبہ بھی زیر غور ہے جو ایل ڈی اے اور ریلوے کے تعاون سے مکمل کیا جائیگا جس کے ذریعے کالا شاہ کاکو کو قصور سے ملا دیا جائیگا۔ اس منصوبہ سے جہاں آلودگی کم ہو گی وہاں ریلوے کو آمدنی بھی حاصل ہو گی‘ ٹرین آپریشن کی رفتار تیز ہو گی اور 96 کلومیٹر کے ٹریک پر شہریوں کی زندگیاں بھی محفوظ ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے 75 انجنوں کی درآمد کے منصوبوں کو منسوخ کرکے ایک ارب روپے کا نقصان برداشت کرلیا لیکن 11ارب کے نقصان سے بچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی بڑا مسئلہ ہے‘ جہاں رات کو ٹرےن آپرےشن ممکن نہےں، وفاقی وزیر نے کہا کہ اے سی اور اکانومی کلاس کے کرایوں میں مزےد کمی کی جارہی ہے جس سے مسافروں کی تعداد اور ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی‘ کراچی کےنٹ‘ لاہور ریلوے سٹیشنز کو ماڈل سٹیشنز بنانے پر کام کر رہے ہیں جبکہ 13 سٹیشنز کو ہائی کلاس سکیورٹی زون قرار دیا گیا ہے جہاں پر مسافروں کو ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی جائیگی۔ خواجہ سعد رفےق نے کہا کہ آئندہ چےئرمےن رےلوے کےلئے ڈی اےم جی گروپ کی خدمات لےنے کی بجائے اس سےٹ پر رےلوے سروس کے افسر کی خدمات لی جائےں گی۔

مزید : صفحہ اول