نئی 3سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان دو ہفتوں تک ہو گا ، خرم دستگیر

نئی 3سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان دو ہفتوں تک ہو گا ، خرم دستگیر

  

ملتان (اے پی پی) وفاقی وزیرتجارت خرم دستگیرخان نے کہاکہ نئی تین سالہ ٹریڈپالیسی کاآئندہ پندرہ روزمیں اعلان کردیاجائے گا۔ ایوان تجارت وصنعت ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس ٹریڈپالیسی میں صنعتی وتجارتی سیکٹرکی تجاویزکومدنظررکھاگیاہے جس کے تحت یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ایکسپورٹ کوزیروریٹڈکردیاجائے تاکہ ریفنڈکامعاملہ ختم ہو۔انہوں نے کہاکہ 10ستمبرکووزارت تجارت میں اعلیٰ حکام نے اوربعدازاں 11ستمبرکووریراعظم نے ایکسپورٹرزکی مشکلات اوران کے حل کے بارے میں تفصیلی میٹنگ کی ہے ۔وزیراعظم پاکستان صنعتی وکاروباری سیکٹرزکوبہت مراعات دیناچاہتے ہیں لیکن ماضی میں ان رعایتوں کاغلط استعمال اب رعائت دینے میں رکاوٹ بن رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ بھی کیاگیاہے کہ ایکسپورٹرزکے ریفنڈزکے تمام کیسز میں فوری ادائیگی کردی جائے تاکہ ایکسپورٹرزکاسرمایہ مارکیٹ میں آئے ۔وفاقی وزیرنے کہاکہ بیمارصنعتوں کی بحالی میں بینکوں کے قرض بھی ایک رکاوٹ ہیں پاکستان کی معیشت کی بحالی میں آپ لوگوں حکومت کے پارٹنرہیںآپ ہماری رہنمائی اورمعاونت کریں ہمیں ایسامیکنزم بناناہوگاجس کی شفافیت پرکوئی شک نہ کرے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ٹریڈپالیسی میں جوریلیف دیں وہ ڈائریکٹ آپ کے اکاؤنٹ میں آئے اس کے لئے آپ کوایف بی آریاوزارت تجارت میں درخواستیں لے کرنہ آناپڑے ۔خرم دستگیرنے کہاکہ آم کی ایکسپورٹ کے لئے ملتان میں اگرآپ کولڈچین یاہاٹ واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ لگاناچاہتے ہیں توبورڈآف منیجمنٹ بناکرہمارے پاس آئیں ہم مشینری اورٹیکنیکل معاونت دیں گے لیکن ان اداروں کوآپ نے خودچلاناہوگاحکومت نہیں چلاسکتی۔انہوں نے کہاکہ چین کے ساتھ ہونے والافری ٹریڈمعاہدہ ہمارے حق میں نہیں تھااوراب یہ بات ہم نے دوست ملک چین کوبتادی ہے، آئندہ جلدہی نیامعاہدہ ہوگاجومتوازن ہوگااورسرامک ٹائیلز اس میں شامل نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن اورتجارتی روابط کوبڑھانے پرایرانی حکومت سے بات چیت ہوئی ہے تاہم اس معاملہ پرابھی کچھ رکاوٹیں عالمی پابندیوں کی وجہ سے حائل ہیں۔پابندیاں ختم ہوتے ہی ان معاملات پرکام کی رفتارتیزہوجائے گی، پاک چین اقتصادی راہداری کوبعدازاں ایران سے بھی منسلک کردیاجائے گا،گوادرسے نواب شاہ تک گیس پائپ لائن کی تعمیر پاک چین اقتصادی راہداری کاحصہ ہے۔

تاہم گوادرسے ایران تک گیس پائپ لائن ہم خود تعمیر کریں گے اورامیدہے 2018میں اس پائپ لائن سے گیس ملنا شروع ہوجائے گی۔اسی طرح پاکستان افغانستان ،ترکمانستان گیس پائپ لائن بھی آئندہ دوتین سال میں معرض وجودمیں آجائے گی ۔انہوں نے کہاکہ تھائی لینڈ سے فری ٹریڈمعاہدہ پربات چیت ہورہی ہے ترکی سے اس ماہ کے آخرمیں بات چیت ہوگی۔2016میں کوریا کے ساتھ فری ٹریڈمعاہدہ کی بات شروع ہوگی۔جاپان کے ساتھ فری ٹریڈمعاہدہ کرنے کی کوشش ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ آئندہ چھ ماہ میں گیس بحران میں کمی ایل این جی کی بدولت ممکن ہے اوراسی طرح بجلی بحران میں بھی کمی آئے گی ،کراچی میں امن وامان قائم ہورہاہے ۔ملک بھرمیں ہونے والے خودکش حملوں میں 70فیصدکمی آئی ہے بیرونی سرمایہ کاراورتجارتی وفودملک میں آرہے ہیں ہماری فوج کی امن وامان کی بحالی اوردہشت گردی کے خاتمے کیلئے کارکردگی نہایت اعلیٰ ہے بلوچستان میں جگہ جگہ پاکستان کے جھنڈے لہرارہے ہیں یہ سب امن کی بحالی کی کوشش کاثمرہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اب ہمارے عرب ہمسایہ ممالک بھی ہماری سمگلڈافرادی قوت کے پاس عالمی معیار کے سرٹیفکٹ مانگتے ہیں تاہم کویت اورقطر میں افرادی قوت بھیجنے کے معاملے کوبغور دیکھ رہے ہیں۔وفاقی وزیرنے ایوان کے مطالبے پرٹیڈیپ ملتان کے دفترکوفوری طورپراپ گریڈ کرنے کاحکم اورایوان تجارت وصنعت ملتان سے ملحقہ رقبہ پرڈسپلے سنٹربنانے کے لئے فنڈزفراہم کرنے کی بھی منظوری دی ،ودہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے سوال پرانہوں نے کہاکہ میں آپ کایہ مطالبہ اپنی سفارش کے ساتھ وزیرخزانہ کے سامنے رکھوں گا۔قبل ازیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر میاں فرید مغیث اے شیخ نے کہاکہ ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملہ پرصنعتی وتجارتی سیکٹرزپریشانی کاشکارہوچکاہے ، پہلے اس مسئلہ کوحل کرلیاجائے۔انہوں نے کہاکہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اس کے ساتھ گیس پائپ لائن اورتجارتی رابطوں میں تیزی لانے کے کام کواولیت دی جائے ،بیمارصنعتوں کی بحالی ملتان سے آم کی برآمدات بڑھانے میں درکارسہولیات کی فراہمی ملتان میں ایکسپورٹ ڈسپلے سنٹرکاقیام،بجلی اورگیس کی قیمتوں کوتیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے مطابق ایڈجسٹ کرنا،مارک اپ کی شرح میں مزیدکمی ،آٹوپالیسی کے تحت ڈیلیشن پروگرام پرعمل اورٹیکسٹائل سیکٹرکے لئے مراعاتی پیکج کافوری اعلان کامطالبہ کیا۔اس موقع پرخواجہ جلال الدین رومی ،میاں تنویرشیخ ،خواجہ عثمان ،خواجہ یوسف ،ٹیڈیپ کے اعلیٰ حکام ،صنعتی وتجارتی سیکٹرزکے نمائندہ افرادکی کثیرتعدادبھی موجودتھی۔

مزید :

کامرس -